سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-359 Fatwa no: 1447-359

حجِ قران کی نیت اور احرام کا صحیح طریقہ

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: اگر کوئی حج قران کرنا چاہے تو کیااس پر شہر یا میقات سے پہلے احرام باندھتے ہوئے عمرے کی نیت کے ساتھ حج کی نیت بھی کرنا ضروری ہے؟ یا صرف عمرے کی نیت سے احرام باندھے اور عمرہ کرنے کے بعد حلال ہوجائے پھر جب اداءِ حج کے د ن قریب ہوجائے تو احرام باندھے اور عمرےکی نیت کے ساتھ حج کی نیت بھی کرلے تو کیااس دوسری صورت کے مطابق نیت ِقران کرنا درست ہے یا نہیں؟اسی طرح حضورﷺنے جو حج قران کیا تھا اس میں آپﷺ کے کتنے دن مدینہ سے آتے ہوئے لگے تھےیعنی کتنے دن آپ ﷺ نے احرام میں گزارے ، کیا اس کی کوئی تفصیل کتابوں میں موجود ہے؟۔
جواب :

 بصورت مسؤلہ حجِ قران کا یہ طریقہ درست نہیں ، تاہم اگر کوئی میقات سے عمرہ کی نیت سے احرام باندھے اور پھر عمرہ کے طواف میں چار چکر لگانے سے پہلے حج کی نیت کرلےتو اس طرح بھی اس کی حجِ قران ہوگا اور حج قران میں عمرہ کے بعد آدمی حلال نہیں ہوسکتا ہے بلکہ حج کی قربانی کے بعد حلال ہوگا۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ میقات سے پہلے حجِ قران  یعنی عمرہ اور حج دونوں کی نیت کریں ۔باقی حضور ﷺ کے حج میں فقہاء کرام کااختلاف ہے کہ آپ ﷺ نے کونساحج کیا تھا،  حج قران یا تمتع یا افراد، لیکن احناف کے نزدیک صحیح قول یہی ہے کہ آپﷺ نے حج قران کیا تھا۔ صحیح قول کے مطابق آپﷺ  نے ہفتے کے دن 25ذو القعدہ 10ہجری کو مدینہ سے حج کے ارادےسے سفر شروع فرمایا، اور بدھ کے دن29 ذوالقعدہ  کو ذو الحلیفہ کے مقام پر پہنچ کر پڑاؤں ڈالا اور ادھر رات گزاری ، صبح 1 ذوالحجہ کو آپ ﷺ نے دو رکعت نفل پڑھ کر حج قران کی نیت سے احرام باندھا، او ر5ذوالحجہ کو مکہ پہنچ گئے، اور 10 ذوالحجہ کو قربانی کرنے کے بعد احرام سے حلال ہوئے، لہٰذا اس حساب سے آپﷺ پورے دس دن احرام میں رہے۔
كمافي الدر المختار:
والقران) لغة الجمع بين شيئين وشرعا (أن يهل) أي يرفع صوته بالتلبية (بحجة وعمرة معا)..........(من الميقات) إذ القارن لا يكون إلا آفاقيا.
(كتاب الحج، باب القران، ج:2، ص:530، ط:دارالفكر)
وفي البحر الرائق:
(قَوْلُهُ وَهُوَ أَنْ يُهِلَّ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ مِنْ الْمِيقَاتِ وَيَقُولَ اللَّهُمَّ إنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ فَيَسِّرْهُمَا لِي وَتَقَبَّلْهُمَا مِنِّي) وَإِنَّمَا ذَكَرَهُ لِلْإِشَارَةِ إلَى أَنَّ الْقَارِنَ لَا يَكُونُ إلَّا آفَاقِيًّا.
(كتاب الحج، باب القران، ج:2، ص:385، ط:دارالكتاب الإسلامي)
وفي رد المحتار:
قال في البحر: وقد أكثر الناس الكلام وأوسعهم نفسا في ذلك الإمام الطحاوي، فإنه تكلم في ذلك زيادة على ألف ورقة اهـ. ورجح علماؤنا أنه - عليه الصلاة والسلام - كان قارنا، إذ بتقديره يمكن الجمع بين الروايات، بأن من روى الإفراد سمعه يلبي بالحج وحده، ومن روى التمتع سمعه يلبي بالعمرة وحدها، ومن روى القران سمعه يلبي بهما، والأمر الآتي له - عليه الصلاة والسلام - فإنه لا بد له من امتثال ما أمر به الذي هو وحي، وقد أطال في الفتح في بيان تقديم أحاديث القران فارجع إليه.
(كتاب الحج، باب القران، ج:2، ص:529، ط:دارالفكر)
وفي البداية والنهاية:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ: قَالَ صلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم الظُّهْرَ فِي مَسْجِدِهِ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ آمِنًا لَا يَخَافُ فِي حجَّةِ الْوَدَاعِ تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ مِنْ هَذَيْنِ الْوَجْهَيْنِ الْآخَرَيْنِ وَهُمَا على شرط الصحيح وهذه ينفي كون خروجه عليه السلام يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَطْعًا وَلَا يَجُوزُ عَلَى هَذَا أَنْ يَكُونَ خُرُوجُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ كَمَا قَالَ ابْنُ حَزْمٍ لِأَنَّهُ كَانَ يَوْمَ الرَّابِعِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لِأَنَّهُ لَا خِلَافَ أَنَّ أَوَّلَ ذِي الْحِجَّةِ كَانَ يَوْمَ الْخَمِيسِ لِمَا ثبت بالتواتر والإجماع من أنه عليه السلام وَقَفَ بِعَرَفَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ تَاسِعُ ذِي الْحِجَّةِ بِلَا نِزَاعٍ، فَلَوْ كَانَ خُرُوجُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ الرَّابِعَ وَالْعِشْرِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَبَقِيَ فِي الشَّهْرِ سِتُّ لَيَالٍ قَطْعًا لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ وَالْأَحَدِ وَالِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ وَالْأَرْبِعَاءِ فَهَذِهِ سِتُّ ليالٍ.وَقَدْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةُ وَجَابِرٌ: إِنَّهُ خَرَجَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَتَعَذَّرَ أَنَّهُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ لِحَدِيثِ أَنَسٍ فَتَعَيَّنَ على هذا أنه عليه السلام خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَ السَّبْتِ وَظَنَّ الرَّاوِي أَنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تَامًّا فَاتَّفَقَ فِي تِلْكَ السَّنَةِ نُقْصَانُهُ فَانْسَلَخَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ واستهلَّ شَهْرُ ذِي الْحِجَّةِ لَيْلَةَ الْخَمِيسِ وَيُؤَيِّدُهُ مَا وَقَعَ فِي رِوَايَةِ جَابِرٍ لِخَمْسٍ بَقِينَ أَوْ أَرْبَعٍ وَهَذَا التَّقْرِيرُ عَلَى هَذَا التَّقْدِيرِ لَا مَحِيدَ عنه ولابد منه.والله أعلم.
(سنة عشر من الهجرة، ج:5، ص:129، ط:دارإحياء التراث العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب