نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںوقوف مزدلفہ حج کے واجبات میں سےہےاورواجب اگر کسی سے عذر کی وجہ سے رہ جائے تو شرعااس پر دم لازم نہیں ہوتا۔
لہذا صورت مسئولہ میں عذریعنی(رش)کی وجہ وقوف مزدلفہ ترک کرنے سے آپ پر دم لازم نہیں ہے
وفی بدائع الصنائع:
وإذا كان واجبا فإن تركه لعذر فلا شيء عليه وإن تركه لغير عذر لزمه دم لأن هذا حكم ترك الواجب في هذا الباب
(كتاب الحج؛ص:84،ط:قديمي كتب خانه)
وفي البنايه:
من ترك الوقوف بزدلفة فعليه دم لأن الوقوف بمزدلفة من الواجبات عندنا والمبيت بمزدلفة واجب واستني من هذا من جاوزها ليلا عن علة ضعف مخافة الزحام فلا شيء عليه
(باب الجنايات،كتاب الحج۔ص:268.ط:حقانية)
وفي الدرالمحتار:
ثم وقف بمزدلفة ووقتة من طلوع الفجر إلي طلوع الشمس ولو مارا كما في عرفة لكن لو تركه بعذر كزحمة بمزدلفة لا شيء عليه
(كتاب الحجج:2،ص:51ط۔:سعيد)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔