سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-360 Fatwa no: 1447-360

دوران حج عذر کی وجہ سے واجب چھوٹ جانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اس سال مجھے حج کی سعادت حاصل ہوئی لیکن میرے ساتھ یہ مسئلہ پیش آیا کہ میں بروقت(رات)مزدلفہ نہ پہنچ سکا کیونکہ رش کی وجہ سے راستے بند تھے جسکی وجہ سے وقوف مزدلفہ میں بر وقت نہ کرسکا تو کیا اس صورت میں میرے اوپر دم دینا لازم ہے یا نہیں؟اگر لازم ہے تو کسی کے واسطےسے دم کی ادائیگی کر سکتا ہوں؟
جواب :

وقوف مزدلفہ حج کے واجبات میں سےہےاورواجب اگر کسی سے عذر کی وجہ سے رہ جائے تو شرعااس پر دم لازم نہیں ہوتا۔
لہذا صورت مسئولہ میں عذریعنی(رش)کی وجہ وقوف مزدلفہ ترک کرنے سے آپ پر دم لازم نہیں ہے
  وفی بدائع الصنائع:
وإذا كان واجبا فإن تركه لعذر فلا شيء عليه وإن تركه لغير عذر لزمه دم لأن هذا حكم ترك الواجب في هذا الباب
(كتاب الحج؛ص:84،ط:قديمي كتب خانه)
وفي البنايه:
من ترك الوقوف بزدلفة فعليه دم لأن الوقوف بمزدلفة من الواجبات عندنا والمبيت بمزدلفة واجب واستني من هذا من جاوزها ليلا عن علة ضعف مخافة الزحام فلا شيء عليه  
(باب الجنايات،كتاب الحج۔ص:268.ط:حقانية)
وفي الدرالمحتار:
ثم وقف بمزدلفة ووقتة من طلوع الفجر إلي طلوع الشمس ولو مارا كما في عرفة لكن لو تركه بعذر كزحمة بمزدلفة لا شيء عليه
(كتاب الحجج:2،ص:51ط۔:سعيد)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب