نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ عورت پر حج فرض ہونے کے لئے دیگر شرائط کے ساتھ ایک شرط محرم رشتہ دار کا ہونا بھی ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت کے ساتھ اگر کوئی محرم رشتہ دار نہیں ہے تو اس صورت میں اس کے لئے غیر محرم کے ساتھ حج پر جانے کی اجازت نہیں ہے، لہذا جب کوئی محرم تیار ہوجائے تب حج پر چلی جائے اگر پوری زندگی محرم نہ ملے تو آخری عمر میں حجِ بدل کی وصیت کرے۔
في الدر المختار:
(وَ) مَعَ (زَوْجٍ أَوْ مَحْرَمٍ) وَلَوْ عَبْدًا أَوْ ذِمِّيًّا أَوْ بِرَضَاعٍ (بَالِغٍ ) (عَاقِلٍ وَالْمُرَاهِقُ كَبَالِغ ) (غَيْرِ مَجُوسِيٍّ وَلَا فَاسِقٍ) لِعَدَمِ حِفْظِهِمَا (مَعَ) وُجُوبِ النَّفَقَةِ لِمَحْرَمِهَا (عَلَيْهَا) لِأَنَّهُ مَحْبُوسٌ (عَلَيْهَا).
(كتاب الحج،ج:2،ص:464،ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع:
وَأَمَّاالَّذِي يَخُصُّ النِّسَاءَ فَشَرْطَانِ: أَحَدُهُمَا أَنْ يَكُونَ مَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ مَحْرَمٌ لَهَا فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ أَحَدُهُمَا لَا يَجِبُ عَلَيْهَا الْحَجُّ. وَجْهُ مَا ذَكَرَهُ الْقُدُورِيُّ أَنَّ الْمَحْرَمَ أَوْ الزَّوْجَ مِنْ ضَرُورَاتِ حَجِّهَا بِمَنْزِلَةِ الزَّادِ، وَالرَّاحِلَةِ إذْ لَا يُمْكِنُهَا الْحَجُّ بِدُونِهِ كَمَا لَا يُمْكِنُهَا الْحَجُّ بِدُونِ الزَّادِ، وَالرَّاحِلَةِ.
(كتاب الحج،فصل:في شرائط فرضية الحج،ج:2،ص:123،ط:دارالكتب العلمية)
وفي الهداية:
ويعتبر في المرأة أن يكون لها محرم تحج به أو زوج ولا يجوز لها أن تحج بغيرهما.
(كتاب الحج،فصل:فيما يوجبه على نفسه،ج:1،ص:135،ط:الاسلامية)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔