سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-32 Fatwa no: 1447-32

قرض کی رقم کی زکوٰۃ مقروض کے ذمہ ڈالنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو قرضہ حسنہ کےطور پر ایک لاکھ روپے دینا چاہتا ہے،قرض لینے والا آدمی غریب ہے،وہ جلد یہ قرض ادا نہیں کرسکے گا،اب اگر دو سال بعد ادا کرےگا،تو قرض دینے والے کو اسی رقم کی دوسال زکوۃ دینے ہوگی،جو 5ہزار بنتے ہیں،اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ایسا ہوسکتاہے،کہ اس ایک لاکھ کی زکوۃ مقروض اپنے ذمہ لےلے،تاکہ قرض خواہ کو بھی نقصان نہ ہو۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ چونکہ ایک لاکھ رقم کا اصل مالک قرض خواہ ہے،اس لئے اس کی زکوۃ بھی    قرض خواہ کی  ذمہ ہوگی،باقی یہ کہنا کہ  قرض خواہ جب دوسال زکوۃ ادا کرےگا،تو اس کو نقصان ہوگا درست نہیں،اس لئےکہ زکوۃ کو نقصان قرار دینا نہ عقلا  ٹھیک ہے اورنہ ہی شرعا،اس لئے  کہ ایک تو قرض خواہ کی ملکیت  برقرار ہےاورزکوۃ کےوجوب کا تعلق ملکیت اورنصاب کےساتھ ہے،اوردوسرا یہ کہ قرض حسنہ دےکر وہ اس کا فائدہ (ثواب)حاصل کرچکاہے،لہذا  اب اس کی زکوۃ کو نقصان  کہنا درست نہیں۔
البتہ بغیر کسی شرط کے اگر مقروض اپنی طرف سے ادئیگی کےوقت  کچھ زیادہ ادا کرے،تو اس کی گنجائش ہے بلکہ بہتر ہے۔
وفي الدر المختار:

(وسببه ملك نصاب حولي تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)سواء كان لله كزكاة وخراج او للعبد

(كتاب الزكاة:3/172:ط:دار الكتب)
وفي الوالوجية:
رجل له نصاب فعجل الزكاة في النصاب،فعليه في كل مائتى درهم خمسةدراهم                      

(كتاب الزكاة:الفصل في تعجيل الزكاة:1/193:ط:دارالكتب)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 May 2026

واللہ اعلم بالصواب