نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ چونکہ ایک لاکھ رقم کا اصل مالک قرض خواہ ہے،اس لئے اس کی زکوۃ بھی قرض خواہ کی ذمہ ہوگی،باقی یہ کہنا کہ قرض خواہ جب دوسال زکوۃ ادا کرےگا،تو اس کو نقصان ہوگا درست نہیں،اس لئےکہ زکوۃ کو نقصان قرار دینا نہ عقلا ٹھیک ہے اورنہ ہی شرعا،اس لئے کہ ایک تو قرض خواہ کی ملکیت برقرار ہےاورزکوۃ کےوجوب کا تعلق ملکیت اورنصاب کےساتھ ہے،اوردوسرا یہ کہ قرض حسنہ دےکر وہ اس کا فائدہ (ثواب)حاصل کرچکاہے،لہذا اب اس کی زکوۃ کو نقصان کہنا درست نہیں۔
البتہ بغیر کسی شرط کے اگر مقروض اپنی طرف سے ادئیگی کےوقت کچھ زیادہ ادا کرے،تو اس کی گنجائش ہے بلکہ بہتر ہے۔
وفي الدر المختار:
(وسببه ملك نصاب حولي تام فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد)سواء كان لله كزكاة وخراج او للعبد
(كتاب الزكاة:3/172:ط:دار الكتب)
وفي الوالوجية:
رجل له نصاب فعجل الزكاة في النصاب،فعليه في كل مائتى درهم خمسةدراهم
(كتاب الزكاة:الفصل في تعجيل الزكاة:1/193:ط:دارالكتب)
Mufti
تاریخ جواب: 10 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 11 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔