سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-363 Fatwa no: 1447-363

کیا بدکاری کرنے والوں کو خود قتل کرنا جائز ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: جولوگ مرد وعورت کوبدکاری کرتے ہوئے دیکھیں تو وہ ان کو قتل کرتے ہیں،اگر ان سے کہا جائے کہ ان کو قتل کرنا گناہ ہےتووہ کہتے ہیں اگرآج ان کو چھوڑدیں توکل کوئی اور بدکاری میں مبتلا ہوجائےگا اور بالآخر بدکاری معاشرے میں عام ہوجائیگی،اس لئےہم ان کو قتل کرتے ہیں،اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا ان کوقتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟اگر جائز ہے توکیوں ؟ اگر جائز نہیں ہے توکیوں؟ وضاحت کے ساتھ دل کھول کر جواب دیں۔
جواب :

صورت مسئولہ میں زانی مردوعورت یا کسی بھی مجرم شخص کو قتل کرنا یا ان کو سزادینا  اسلامی حکومت  کی ذمہ داری ہے،اس کے علاوہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ زانی مردوعورت کو دیکھ کر قتل کردے،باقی رہی یہ بات کہ اگران کو چھوڑدیاگیا توکل کوئی اوربدکاری میں مبتلا ہوگااورمعاشرہ میں پھربرائی پھیل جائےگی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسکی روک تھام کیلئے قتل کے علاوہ کوئی اورمعقول سزا تجویز ہوسکتی ہےجوآئندہ لوگوں کو اس برائی سے باز رکھ سکتی ہے ۔
وفي الفتاوى الهندية:
وركنه: إقامة الإمام أو نائبه في الإقامة. وشرطه: كون من يقام عليه صحيح العقل سليم البدن إلخ.
(الباب الثاني في الزنا:ج2،ص 143،ط دارالفكر)
في الدرالمختار:
(قوله وفرق الفقهاء) أي بين القصاص والحدود فيشترط الإمام لاستيفاء الحدود دون القصاص إلخ.
(فصل فيما يوجب القود:ج6،ص 549،ط دارالفكر)

وفي الدرالمختار:
دخل رجل بيته فرأى رجلا مع امرأته أو جاريته فقتله حل) له ذلك (ولا قصاص) عليه إلخ.
(باب القود دون النفس:ج1،ص 704،ط دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب