سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-364 Fatwa no: 1447-364

رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا جائز نہیں

براہ راست فتویٰ
سوال :
كيا فرماتے ہيں مفتيان كرام اس مسئلہ كے بارے ميں کہ ایک خاتون جس کانام فاطمہ ہے اس کا دودھ ایک لڑکے جس کا نام خالد ہے نےپیا ہےاور ایک لڑکی جس کا نام زینب ہے نےپیا ہے ۔اب زینب کی ایک بیٹی ہے جس کا نام عالیہ ہے۔کیا عالیہ کا نکاح خالد نامی لڑکے سے ہو سکتا ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ ایسےرشتے جو نسب کی وجہ سے حرام ہوںوہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔بصورت مسؤلہ عالیہ نامی لڑکی زید کی رضاعی بہن کی بیٹی ہے یعنی زید کی رضاعی بھانجی ہےاور جس طرح نسبی بھانجی کے ساتھ  نكاح  حرام ہے ایسا ہی رضاعی بھانجی کے ساتھ بھی نکاح حرام ہے ۔لہذا زید کاعالیہ سے نکاح کرنا ناجائزہےاس سے اجتناب ضروری ہے۔
وفى البناية شرح الهداية
(ولا ببنات أخيه) ش: أي سواء أكن لأب وأم أو لأب أو لأم م: (ولا ببنات أخته) ش: أي سواء كانت بنت أخته لأب وأم أو لأب أو لأم م: (ولا بعمته) ش: أي ولا يحل أيضا أن يتزوج.
(كتاب الرضاع،ج:5،ص:21،ط:دارالكتب العلمية)
الأصل للشيبانى:
وحرم الله تعالى الابنة بالنسب. وحرمت السنة والإجماع ابنة الابنة وابنة الابن وإن سفلت إلى أسفل الذرية.
(كتاب الرضاع،ج:4،ص:358،ط:دارإبن حزم)
بدائع الصنائع:
أَمَّا تَفْسِيرُ الْحُرْمَةِ فِي جَانِبِ الْمُرْضِعَةِ فَهُوَ أَنَّ الْمُرْضِعَةَ تَحْرُمُ عَلَى الْمُرْضَعِ؛ لِأَنَّهَا صَارَتْ أُمًّا لَهُ بِالرَّضَاعِ فَتَحْرُمُ عَلَيْهِ لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاتِي أَرْضَعْنَكُمْ} [النساء: 23] مَعْطُوفًا عَلَى قَوْله تَعَالَى {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ} [النساء: 23] فَسَمَّى سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى الْمُرْضِعَةَ أُمَّ الْمُرْضَعِ وَحَرَّمَهَا عَلَيْهِ، وَكَذَا بَنَاتُهَا يَحْرُمْنَ عَلَيْهِ سَوَاءٌ كُنَّ مِنْ صَاحِبِ اللَّبَنِ أَوْ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِ اللَّبَنِ مَنْ تَقَدَّمَ مِنْهُنَّ وَمَنْ تَأَخَّرَ؛ لِأَنَّهُنَّ أَخَوَاتُهُ مِنْ الرَّضَاعَةِ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ} [النساء: 23] أَثْبَتَ اللَّهُ تَعَالَى الْأُخُوَّةَ بَيْنَ بَنَاتِ الْمُرْضِعَةِ وَبَيْنَ الْمُرْضَعِ وَالْحُرْمَةَ بَيْنَهُمَا مُطْلَقًا مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ بَيْنَ أُخْتٍ وَأُخْتٍ، وَكَذَا بَنَاتُ بَنَاتِهَا وَبَنَاتُ أَبْنَائِهَا وَإِنْ سَفَلْنَ؛ لِأَنَّهُنَّ بَنَاتُ أَخِ الْمُرْضَعِ وَأُخْتُهُ مِنْ الرَّضَاعَةِ، وَهُنَّ يَحْرُمْنَ مِنْ النَّسَبِ كَذَا مِنْ الرَّضَاعَةِ.
(كتاب الرضاع،ج:4،ص:2،ط:دارکتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب