نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوتے وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوتے ہیں ،بصورت دیگر حرام نہیں ہوتے ،بصورت مسؤلہ آسیہ نے جو فاطمہ کو دودھ پلایا ،تو فاطمہ اس کی رضاعی بیٹی ہوئی نہ کہ فاطمہ کا بھائی حامد ،لہذا حامد کا نکاح آسیہ کی بیٹی پلوشہ سے جائز ہے،بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔
كماقال الله تعالي في القران المجيد:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ ........وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ ....
(سورة النساء:الأية:24،23،)
وفي الدر المختار:
وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.(و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم.
(باب الرضاع،ج:3،ص:217،ط: دار الفكر)
وفي فتاوى الهندية:
(كتاب الرضاع) قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف كذا في السراج الوهاج......... وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي.
(كتاب الرضاع،ج:1،ص:342،ط:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔