سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-366 Fatwa no: 1447-366

نسبی بہن کی رضاعی بہن کے ساتھ نکاح کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : آسیہ کی ایک بیٹی انابیہ دودھ پینے والی ہے ،دوسری بیٹی پلوشہ جوکہ بڑی ہے ،اور ایک اور عورت ہے جس کا نام ناحیہ ہے ،اس کی بھی ایک چھوٹی بیٹی ہے فاطمہ ،جودودھ پینے والی ہے ،اور فاطمہ کا ایک بڑا بھائی حامد ہے ،تو ایک دفعہ فاطمہ کی امی ناحیہ گھر میں نہیں تھی ،تو آسیہ (جو انابیہ کی امی ہے ) نے فاطمہ کو دودھ پلایا، تو انابیہ اور فاطمہ رضاعی بہنیں ہوئیں ،لہذا اب پوچھنا یہ ہے کہ فاطمہ کا بھائی حامد کا نکاح انابیہ کی بہن پلوشہ سے ہوسکتا ہے یانہیں ؟رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ جو رشتے نسب  کی وجہ سے حرام ہوتے وہ رضاعت  کی وجہ سے بھی حرام ہوتے ہیں    ،بصورت دیگر حرام نہیں ہوتے ،بصورت مسؤلہ آسیہ نے  جو فاطمہ کو دودھ پلایا ،تو فاطمہ اس کی رضاعی بیٹی ہوئی نہ کہ فاطمہ کا بھائی حامد  ،لہذا حامد کا نکاح آسیہ کی بیٹی پلوشہ سے جائز ہے،بشرطیکہ حرمت کی کوئی   اور وجہ نہ ہو۔
كماقال الله تعالي في القران المجيد:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ ........وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ ....
  (سورة النساء:الأية:24،23،)
وفي الدر المختار:
وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.(و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم.
(باب الرضاع،ج:3،ص:217،ط: دار الفكر)
وفي فتاوى الهندية:
(كتاب الرضاع) قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف كذا في السراج الوهاج......... وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي.
(كتاب الرضاع،ج:1،ص:342،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب