سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-367 Fatwa no: 1447-367

جنابت کی حالت میں روزہ رکھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: ایک شخص نے رات سے روزے کی نیت کرلی اور اس پر غسل واجب ہوگیا صبح آنکھ تاخیر سے کھلی اب سوال یہ ہے کہ وہ شخص روزہ رکھ سکتا ہے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ جنابت روزے کے منافی نہیں ہے ،اس سے روزے میں کوئی خلل نہیں آتا ۔لہذا صورت مسئولہ میں شخصِ مذکور جنابت کی حالت میں روزه ركھ سكتا ہے ، البتہ غسل کے وقت غرارہ سے اجتناب کرے تاکہ روزہ فاسد نہ ہو ۔
في صحيح المسلم:
عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَتَا: «إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ، غَيْرِ احْتِلَامٍ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ يَصُومُ»
(كتاب الصوم،ج:2،ص:780،ط:دار احياءالتراث العربي)
وفي الدرالمختار:
(أَوْ أَصْبَحَ جُنُبًا وَ) إنْ بَقِيَ كُلَّ الْيَوْمِ (أَوْ اغْتَابَ) مِنْ الْغِيبَةِ (أَوْ دَخَلَ أَنْفَهُ مُخَاطٌ فَاسْتَشَمَّهُ فَدَخَلَ حَلْقَهُ) (وَلَوْ عَمْدًا) (أَوْ ذَاقَ شَيْئًا بِفَمِهِ) وَإِنْ كُرِهَ (لَمْ يُفْطِرْ)جواب الشرط.
(كتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم وما لا يفسد،ج:2،ص:400،ط:دارالفكر)

وفي التاتارخانية:
اذا اصبح جنبا لا يفسد صومه.
(كتاب الصوم،باب مايفسد الصوم ومالايفسد،ج:3،ص:384،ط:اعزازية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب