سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-368 Fatwa no: 1447-368

دل کے مریض کے لئے روزہ رکھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: ایک آدمی ہارٹ کا مریض ہے پورے بدن میں بہت کمزوری ہے نمازبھی بڑی مشکل سے پڑتا ہے ،اگر روزہ رکھ لے تو کمزوری بڑھنے کا مزید خطرہ ہے اور نمازیں آگے پیچھے ہونے بلکہ چھوٹ جانے کا ڈر ہےایسے مریض کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب :

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کو اگر ماہر ڈاکٹر روزہ رکھنے سے منع کرے تو وہ روزہ موقوف کرسکتا ہے لیکن صحت یابی کے بعد روزوں کی قضاء لازم ہوگی، لیکن اگر دل کا عارضہ مستقل ہے یا عمر ایسی ہے کہ آئندہ صحت یابی کی توقع نہیں ہے تو پھر یہ شیخ ِ فانی کے حکم میں ہوگا  اور ہر روزے کے بدلے صدقہ فطر (پونے دو کلو  گندم ) کے برابر فدیہ دینا واجب ہوگا ۔
كما قال الله تعالى:
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَر.
(البقرة،آية:184)
وفي الدرالمختار:
(أَوْ مَرِيضٍ خَافَ الزِّيَادَةَ) لِمَرَضِهِ وَصَحِيحٍ خَافَ الْمَرَضَ، وَخَادِمَةٍ خَافَتْ الضَّعْفَ بِغَلَبَةِ الظَّنِّ بِأَمَارَةٍ أَوْ تَجْرِبَةٍ أَوْ بِأَخْبَارِ طَبِيبٍ حَاذِقٍ مُسْلِمٍ مَسْتُور..... (الْفِطْر) يَوْمَ الْعُذْرِ إلَّا السَّفَرَ (وَقَضَوْا) لُزُومًا.
(كتاب الصوم ،ج:2،ص:422،ط:دارالفكر)
وفي الهندية:
المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر.
(كتاب الصوم،الباب الخامس،ج:1،ص:458،ط:رشيدية)
وفي التاتارخانية:
المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، 

وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر.
(كتاب الصوم،الاسباب المبيحة للفطر،ج:3،ص:454،ط:اعزازية)
«تحفة الفقهاء»:
«والفدية ‌أن ‌يطعم ‌لكل ‌يوم مسكينا بقدر ما يجب في صدقة الفطر»
(كتاب الصوم (1/ 359) دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب