نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کو اگر ماہر ڈاکٹر روزہ رکھنے سے منع کرے تو وہ روزہ موقوف کرسکتا ہے لیکن صحت یابی کے بعد روزوں کی قضاء لازم ہوگی، لیکن اگر دل کا عارضہ مستقل ہے یا عمر ایسی ہے کہ آئندہ صحت یابی کی توقع نہیں ہے تو پھر یہ شیخ ِ فانی کے حکم میں ہوگا اور ہر روزے کے بدلے صدقہ فطر (پونے دو کلو گندم ) کے برابر فدیہ دینا واجب ہوگا ۔
كما قال الله تعالى:
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَر.
(البقرة،آية:184)
وفي الدرالمختار:
(أَوْ مَرِيضٍ خَافَ الزِّيَادَةَ) لِمَرَضِهِ وَصَحِيحٍ خَافَ الْمَرَضَ، وَخَادِمَةٍ خَافَتْ الضَّعْفَ بِغَلَبَةِ الظَّنِّ بِأَمَارَةٍ أَوْ تَجْرِبَةٍ أَوْ بِأَخْبَارِ طَبِيبٍ حَاذِقٍ مُسْلِمٍ مَسْتُور..... (الْفِطْر) يَوْمَ الْعُذْرِ إلَّا السَّفَرَ (وَقَضَوْا) لُزُومًا.
(كتاب الصوم ،ج:2،ص:422،ط:دارالفكر)
وفي الهندية:
المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر.
(كتاب الصوم،الباب الخامس،ج:1،ص:458،ط:رشيدية)
وفي التاتارخانية:
المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع،
وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر.
(كتاب الصوم،الاسباب المبيحة للفطر،ج:3،ص:454،ط:اعزازية)
«تحفة الفقهاء»:
«والفدية أن يطعم لكل يوم مسكينا بقدر ما يجب في صدقة الفطر»
(كتاب الصوم (1/ 359) دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔