سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-370 Fatwa no: 1447-370

بیوی کی طلاق کو کسی اور سے صلح کرنے پر معلق کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : میں نے ایک مرتبہ خاندانی جھگڑےمیں بحالت غصہ خاندان کے بعض افراد کوکہا کہ میں آپ سے صلح نہیں کروں گا، اگر آپ سے صلح کروں یا کسی قسم کا تعلق رکھوں یا ان کے جنازے میں شریک ہوں تو میری زن کو طلاق ہے ، اس کے بعد میں نے ان سے تین نومبر 2024 کو سلام کیا اور ہاتھ بھی ملایا اور تھوڑی سی بات چیت کی جو کہ ضروری تھی ،ا ب پوچھنا یہ ہے کہ اس سےمیری بیوی کو طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ طلاق کو کسی شرط پر  معلق کرنے کی صورت میں جب  شرط پائی جائے تو طلاق  واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورت مسؤلہ میں   آپ نے چونکہ   طلاق  کو ان سے صلح کرنے اور تعلق رکھنے  پر معلق کیا تھا،اب  آپ کا  ان سے سلام کرنا ، یا بات چیت  کرنا گویا کہ ان سے تعلق رکھنا ہے  ،لہذا شرط کے پائے جانے کی وجہ سے آپ کی بیوی پر ایک طلاق رجعی  واقع ہوچکی ہے ،جس کے بعد عدت کے اندر  آپ کو رجوع کا حق حاصل ہے ،اور رجوع کی صورت میں  آئندہ کے  لیے آپ کو صرف دو طلاق دینے کااختیار  باقی رہے گا ۔
كما فى الهداية:
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق " وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا "......." وإن اختلفا في وجود الشرط فالقول قول الزوج إلا أن تقيم المرأة البينة " لأنه متمسك بالأصل وهو عدم الشرط ولأنه ينكر وقوع الطلاق وزوال الملك والمرأة تدعيه.
(فصل في الطلاق،ج:1،ص:244،ط: دار احياء التراث العربي)
وفى البناية:     
(والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط) ش: لأن الأصل في كل ثابت استمراره، خصوصاً النكاح الذي هو عقد العمر، ومجرد احتمال الزوال لا يلتفت إليه، لأنه ليس بناشئ عن الدليل.
 (فصل،ج:5،ص:413،ط: دار الكتب العلمية)

وفى بدائع الصنائع:       
والتعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا أو إن قدم فلان ونحو ذلك وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلا يقع الطلاق، ولكن تنحل اليمين لا إلى جزاء حتى إنه لو قال لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق فدخلت الدار وهي في ملكه طلقت.
(فصل،ج:3،ص:126،ط: دار الكتب العلمية)
في البحرالرائق:
قوله: (فإن وجد الشرط في الملك طلقت وانحلت اليمين) لانه قد وجد الشرط والمحل قابل للجزاء فينزل ولم تبق اليمين لان بقاءها ببقاء الشرط والجزاء ولم يبق واحد منهما. 
(كتاب الطلاق،ج:4،ص:35،ط:ا دار الكتب العلمية بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب