نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جیسے زبانی طوپر طلاق دینے سے شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے اسی طرح طلاق کی تحریر لکھنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، اور لفظ "آزاد کررہا ہوں"اگر چہ کنائی الفاظ میں سے ہے لیکن چونکہ یہ لفظ ہمارے عرف میں طلاق ہی کے لئے استعما ل ہوتے ہیں ،لہذ ااس سے طلاق صریح واقع ہوگی ،نیز نشے کی حالت میں بھی اگر طلاق دی جائے تو واقع ہو جاتی ہے ، صورت مسؤلہ میں شخص مذ کور نے جو عدالت سے خود جاکر طلاق لکھوائی ہوئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شخص مذکور ذہنی لحاظ سے صحیح سالم ہے ، لہذا صورت مسئلہ میں شخص مذکور نے جو طلاق اول کے نوٹس میں یہ لکھاتھا کہ طلاق اول کا نوٹس ارسال کررہا ہوں ، اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو ئی ، لیکن اسی نوٹس میں چونکہ اس نے یہ بات بھی لکھی تھی ،کہ میں اس کو اپنی زوجیت سے آزاد کررہا ہو ں تو اس سے دوسری طلاق رجعی واقع ہوگئی ، لہذا اس کے بعد شخص مذکور کے پاس چونکہ ایک ہی طلاق دینے کا اختیار باقی تھا تو جب اس نے عدالت سے طلاق سوم لکھوائی ،تو اس سے اس کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی ہے ،لہذا اس کی بیوی اس پر طلاق مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ہے ، اس کے بعد شخص مذکور کااس عورت کے ساتھ میاں بیوی کے حیثیت سے رہنا اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں ۔
كمافى المحيط البرهاني:
يجب أن يعلم بأن الكتابة نوعان: مرسومة وغير مرسومة.فالمرسومة: أن تكتب على صحيفة مصدراً ومعنوناً وإنها على وجهين:الأول: أن تكتب هذا كتاب فلان بن فلان إلى فلانة أما بعد: فأنت طالق. وفي هذا الوجه يقع الطلاق عليها في الحال.وإن قال: لم أعنِ به الطلاق لم يصدق في الحكم، وهذا لأن الكتابة المرسومة بمنزلة المقال.
(الفصل الخامس في الكنايات،ج:3،ص:268،ط: دار الكتب العلمية)
وفى الدر المختار:
( ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ) ولو تقديرا بدائع ليدخل السكران ( ولو عبدا أو مكرها ) فإن طلاقه صحيح......... ( أو هازلا ) لا يقصد حقيقة كلامه ( أو سفيها ) خفيف العقل ( أو سكران ) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا به يفتى .
(كتاب الصلاة.ج:3.ص:241،ط: دار الفكر)
وفى رد المحتار:
(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.
(مطلب فى الطلاق بالكتابة،ج:3،ص:246،ط: دار الفكر)
وفية أيضا:
فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن لولا ذلك لوقع به الرجعي.
(باب الكنايات،ج:3،ص:299،ط: دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔