سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-371 Fatwa no: 1447-371

عدالت سے طلاق لکھوانے کی صورت میں طلاق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : ہمارے بھائی نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کو عدالت سے طلاق لکھوا کر اپنے پاس رکھی ہوئی تھی ، اس کا طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا ،وہ آئس کا نشہ بہت زیادہ کرنے لگ گیا تھا ،2021 میں اس نے ایک طلاق کا نوٹس دے دیا تھا ، پھر ایک مہینے میں ان کا رجوع ہو گیا ،اور ایک ساتھ رہنے لگے ،اب ا س نے عدالت سے طلاق سوم ،طلاق سوم ، طلاق سوم لکھوا کر لایا ہے ،اور یہ نوٹس اس نے اپنے پاس رکھا ہو اتھا ،ابھی تک بیوی کو دیا نہیں تھا ، تو اب پو چھنا یہ ہے کہ اس حالت میں کیا اس کی طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟ جبکہ اس کو ہم نے ابھی علاج کے لئے سنٹرل میں داخل کرادیا ہے ،تو ہسپتال میں داخل کراتے ہو ئے اس کی جیب سےمذکورہ (طلاق نامہ کی ) پرچی نکلی ہے ،توآپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔ تنقيح :سوال كے ساتھ لف شده طلاق کی نوٹس سے معلوم ہورہا ہے ،کہ طلاق اول کی نوٹس ارسال کرنے کے ساتھ خاوند نے مزید یہ بھی لکھا ہے کہ میں اس کو اپنی زوجیت سے آزاد کررہا ہوں ،اور یہی الفاظ ( کہ مسماۃ مذکور کو ہمیشہ کے لئے اپنی زوجیت سے آزاد کر رہا ہو)طلاق سوم کی نوٹس میں بھی تحریر کئے ہیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ  جیسے زبانی طوپر طلاق دینے  سے شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے اسی طرح طلاق کی تحریر لکھنے سے  بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،  اور لفظ "آزاد کررہا ہوں"اگر چہ کنائی الفاظ میں سے ہے لیکن چونکہ یہ لفظ ہمارے  عرف میں  طلاق ہی کے لئے استعما ل ہوتے ہیں  ،لہذ ااس سے طلاق صریح واقع ہوگی ،نیز نشے کی حالت میں بھی  اگر طلاق  دی جائے تو واقع ہو جاتی ہے ، صورت مسؤلہ  میں شخص مذ کور   نے   جو عدالت سے  خود جاکر طلاق  لکھوائی ہوئی ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شخص مذکور ذہنی لحاظ سے صحیح سالم ہے ، لہذا صورت مسئلہ  میں شخص مذکور نے جو طلاق اول کے نوٹس میں یہ لکھاتھا کہ  طلاق اول کا نوٹس ارسال کررہا ہوں ، اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو ئی ، لیکن  اسی نوٹس میں چونکہ اس نے یہ بات بھی لکھی  تھی  ،کہ میں اس کو اپنی زوجیت سے آزاد کررہا ہو ں تو اس سے دوسری طلاق رجعی واقع ہوگئی ، لہذا اس کے بعد شخص مذکور کے پاس چونکہ  ایک ہی طلاق دینے  کا اختیار باقی تھا تو جب اس نے عدالت سے طلاق سوم لکھوائی ،تو اس سے اس کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی ہے ،لہذا اس  کی بیوی  اس پر   طلاق  مغلظہ  کے ساتھ حرام ہو گئی ہے ، اس کے بعد شخص مذکور  کااس عورت  کے ساتھ میاں بیوی کے حیثیت سے رہنا اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں  ۔ 
كمافى المحيط البرهاني:
يجب أن يعلم بأن الكتابة نوعان: مرسومة وغير مرسومة.فالمرسومة: أن تكتب على صحيفة مصدراً ومعنوناً وإنها على وجهين:الأول: أن تكتب هذا كتاب فلان بن فلان إلى فلانة أما بعد: فأنت طالق. وفي هذا الوجه يقع الطلاق عليها في الحال.وإن قال: لم أعنِ به الطلاق لم يصدق في الحكم، وهذا لأن الكتابة المرسومة بمنزلة المقال.
(الفصل الخامس في الكنايات،ج:3،ص:268،ط: دار الكتب العلمية)

وفى الدر المختار:
( ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ) ولو تقديرا بدائع ليدخل السكران ( ولو عبدا أو مكرها ) فإن طلاقه صحيح......... ( أو هازلا ) لا يقصد حقيقة كلامه ( أو سفيها ) خفيف العقل ( أو سكران ) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا به يفتى .
(كتاب الصلاة.ج:3.ص:241،ط: دار الفكر)
وفى رد المحتار:
(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.
(مطلب فى الطلاق بالكتابة،ج:3،ص:246،ط: دار الفكر)
وفية أيضا:
فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال رها كردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن لولا ذلك لوقع به الرجعي.
(باب الكنايات،ج:3،ص:299،ط: دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب