سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-33 Fatwa no: 1447-33

شراکت میں سرمایہ کی عدم تعیین کے باوجود نفع آدھا آدھا مقرر کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: میں نے ایک دوست کیساتھ مل کر مشترکہ طورپر ایک ٹھیکہ شروع کیا ،اس ٹھیکے میں جو رقم استعمال ہونی تھی وہ دفتر کی طرف سے ہمیں چند ماہ بعد ملنے والی تھی ،لیکن ہم نے فی الفور اپنی رقم لگاکرکرنا تھا، اس لئے ہمارے درمیان یہ طے پایا کہ دونوں کی طرف سے رقم ہوگی لیکن یہ طے نہیں کیا کہ کس نسبت سے ہوگی،البتہ اتنی بات میرے دل میں ضرور تھی کہ دوسرے ساتھی کے پاس زیادہ نقدی موجود نہیں اس لئے اس کی نسبت میری رقم زیادہ لگے گی جس کے لئے میں تیار تھا اور کام کے بار
جواب :

واضح رہے کہ مشترکہ کاروبار میں سے ہر شریک کو اس کے راس المال کے بقدر نفع ملے گا ،البتہ اگر کوئی شریک ساتھ عمل بھی کرتا ہے تو اس کو عمل اور محنت کی بناء پر مزید نفع لینا بھی  شرعا درست ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں شرکاء میں سے ہر شریک کو آدھا آدھا نفع ملے گا ،اگر چہ دونوں شرکاء کا راس المال برابر نہیں ہے ۔
نوٹ:جس شریک کا راس المال کم ہے،تو وہ اپنی رضا مندی سے آدھا نفع لینے کے بجائے چالیس فیصد نفع لےکرباقی نفع اپنے شریک ساتھی کے لئے چھوڑ سکتا ہے ،شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔البتہ اس کیلئے ضروری ہے کہ دونوں کی باہمی رضامندی سے ازسرِنو معاہدہ ہو۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(وَ) لِذَا (تَصِحُّ) عَامًّاوَخَاصًّا وَمُطْلَقًا وَمُؤَقَّتًا وَ (مَعَ التَّفَاضُلِ فِي الْمَالِ دُونَ الرِّبْحِ وَعَكْسِهِ...إلخ
(قَوْلُهُ: وَمَعَ التَّفَاضُلِ فِي الْمَالِ دُونَ الرِّبْحِ) أَيْ بِأَنْ يَكُونَ لِأَحَدِهِمَا أَلْفٌ وَلِلْآخَرِ أَلْفَانِ مَثَلًا وَاشْتَرَطَا التَّسَاوِيَ فِي الرِّبْحِ، وَقَوْلُهُ وَعَكْسُهُ: أَيْ بِأَنْ يَتَسَاوَى الْمَالَانِ وَيَتَفَاضَلَا فِي الرِّبْحِ، لَكِنَّ هَذَا مُقَيَّدٌ بِأَنْ يُشْتَرَطَ الْأَكْثَرُ لِلْعَامِلِ مِنْهُمَا أَوْ لِأَكْثَرِهَا عَمَلًا.
(كتاب الشركة،ج4،ص312،ط:دارالفكر)
وفى المحيط البرهاني:
قال علماؤنا رضي الله عنهم: شركة العنان جائزة تساويا في رأس المال أو تفاضلا، ويجوز أن يشترط لأحدهما فضل في الربح إذا شرط العمل عليهما عند علمائنا الثلاثة، وتكون زيادة الربح بمقابلة العمل، والربح يستحق بالعمل، لأن المضارب يستحق الربح بالعمل، وإذا شرط العمل عليهما، فالربح بينهما على ما شرطا وإن عمل أحدهما دون الآخر وإن شرط العمل على الذي شرطا له فضل الربح جاز، وتكون زيادة الربح بمقابلة العمل.
(ألفصل الرابع فى العنان،ج8،ص386ط:إدارةالقرآن والعلوم الإسلامية)
وفي بدائع الصنائع:
وَهُوَ الشَّرِكَةُ بِالْأَمْوَالِ: فَهُوَ أَنْ يَشْتَرِكَ اثْنَانِ فِي رَأْسِ مَالٍ، فَيَقُولَانِ اشْتَرَكْنَا فِيهِ، عَلَى أَنْ نَشْتَرِيَ وَنَبِيعَ مَعًا، أَوْ شَتَّى، أَوْ أَطْلَقَا عَلَى أَنَّ مَا رَزَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رِبْحٍ، فَهُوَ بَيْنَنَا عَلَى شَرْطِ كَذَا.... إذَا عُرِفَ هَذَا فَنَقُولُ: إذَا شَرَطَا الرِّبْحَ عَلَى قَدْرِ الْمَالَيْنِ مُتَسَاوِيًا أَوْ مُتَفَاضِلًا، فَلَا شَكَّ أَنَّهُ يَجُوزُ وَيَكُونُ الرِّبْحُ بَيْنَهُمَا عَلَى الشَّرْطِ سَوَاءٌ شَرَطَا الْعَمَلَ عَلَيْهِمَا أَوْ عَلَى أَحَدِهِمَا وَالْوَضِيعَةُ عَلَى قَدْرِ الْمَالَيْنِ مُتَسَاوِيًا وَمُتَفَاضِلًا.
(كتاب الشركة،ج7،ص513،ط:قديمي كتب خانه)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 16 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب