نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسؤلہ میں مذکورہ عورت کا اپنی سوتیلی بھانجی کے شوہر کے ساتھ نکاح کرنا شرعا جائز نہیں ہے کیونکہ خالہ اور بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرنا شرعا جائز نہیں ہے ۔
کمافي التفسير المظهري:
وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ.....والتحقت به بالسنة والإجماع حرمة الجمع بين امراة وعمّتها وامراة وخالتها وكذا عمة أبيها أو أمها أو خالة أحدهما وعمات أجدادها وجداتها وان بعدن عن اىّ جهة كن ، عن أبى هريرة قال قال رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم لا يجمع بين المرأة وعمّتها ولا بين المرأة وخالتها متفق عليه ورواه أبو داود والترمذي.
(النساء،ج:1،ص:717،ط:رشيدية)
وفي البحرالرائق:
قوله ( وأخته وبنتها وبنت أخيه وعمته وخالته ) للنص الصريح ودخل فيه الأخوات المتفرقات وبناتهن وبنات الإخوة المتفرقين.
(باب المحرمات،ج:3،ص:99،ط:دارالمعرفة)
وفي البناية شرح الهداية:
(ولا ببنات أخته) ش: أي سواء كانت بنت أخته لأب وأم أو لأب أو لأم
(ج:5،ص:21،ط: دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔