نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ حلال چیزوں میں اللہ تعالی کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے ،لہذا بغیر ضرورت شدیدہ کے اس سے بچنا ضروری ہے ،نیز گزشتہ طلاق کی خبر دینے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ،لہذا بصورت مسؤلہ ذکر کرد ہ صورتحال اگر حقیقت پر مبنی ہے تو اس کے مطابق شخص مذکور کے کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ گزشتہ طلاق کی خبر دینا چاہتا ہے لہذا اس طرح فقط طلاق کی خبر دینے سے یا گزشتہ طلاق کی طرح ایک اور طلاق کی دھمکی سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے ، جب تک طلاق نہ دے،لہذا وہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 /)
أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا
(ج:3،ص: 669ط: دار الفكر)
وفي البحرالرائق:
فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق.
(كتاب الطلاق،ج:3،ص:252،ط:دارالمعرفة)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔