سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-373 Fatwa no: 1447-373

گزشتہ طلاق کی خبر دینے سے موجودہ نکاح پر اثر پڑنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : اگر ایک شخص کسی سے نکاح کرے اور پھر اس کو ایک طلاق دیدے ،اب دوبارہ عدت کے بعد نکاح کرکے اسی کے ساتھ رہتاہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہ اس کو دوبارہ طلاق دینے کا ارادہ کرتاہے ، اور اس کو کہتاہے کہ میں نے تو تمہیں پہلے بھی ایک طلاق دی ہوئی ہے ،یا کسی اور کو کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی تھی ، تو کیا اس سے سابقہ طلاق کی خبر کا اعتبار کیا جائے گا یا یہ ایک اور نیی طلاق شمار ہوگی ، جبکہ اس طرح کہنے سے خاوند کی نیت فقط سابقہ طلاق کی خبر دینے کی تھی ؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ حلال چیزوں  میں  اللہ تعالی کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ  چیز طلاق ہے ،لہذا بغیر ضرورت  شدیدہ کے اس سے بچنا ضروری ہے ،نیز  گزشتہ طلاق کی خبر دینے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی  ،لہذا   بصورت مسؤلہ ذکر کرد ہ  صورتحال  اگر حقیقت پر مبنی ہے تو اس کے مطابق     شخص مذکور کے کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ گزشتہ طلاق کی خبر دینا چاہتا ہے لہذا اس طرح فقط طلاق کی خبر دینے سے یا گزشتہ طلاق کی  طرح ایک اور طلاق کی  دھمکی سے  کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے ، جب تک طلاق نہ دے،لہذا وہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں  ۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 /)
 أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا
(ج:3،ص: 669ط: دار الفكر)
وفي البحرالرائق:
فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق.
(كتاب الطلاق،ج:3،ص:252،ط:دارالمعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب