سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-374 Fatwa no: 1447-374

منکوحہ عورت کو رخصتی سے پہلے تین طلاق دینے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکے کا نکاح ہوا ،اور کچھ ماہ بعد اس کی رخصتی تھی ،لیکن رخصتی سے پہلے اس نے بیو ی کو تین طلاقیں دی یں ،اب یہ بتائیں کہ اس صورت میں بغیر حلالہ کئے ہوئے ان دونوں کا دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ  منکوحہ بیوی کو  رخصتی سے پہلے  بھی اکھٹے   تین طلاق دینے سے تین طلاقیں  واقع ہوجاتی ہیں ، لہذا  بصورت مسؤلہ شخص مذکور نے اگر ایک ہی جملہ  میں تین طلاق کہے ہیں (مثلااس طرح کا کوئی جملہ کہا ہے کہ :میری بیوی کو تین طلاق )  تو اس صورت میں اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،اب   بغیر حلالہ شرعیہ کے انکا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں ،البتہ اگر  ایک جملہ  میں تین طلاق نہیں کہیں بلکہ ہر طلاق کو علیحدہ علیحدہ کہا ہے (مثلایوں کہا ہے کہ میری بیوی کو طلاق ہے  طلاق ہے  طلاق ہے  ) تو ا س صورت میں پہلی طلاق  سےہی   اس کی بیوی بائنہ ہوگئی ،اور باقی دو طلاقیں لغو جائیں گی  ،لہذا غیر مدخول بہا  ہونے کی وجہ سے چونکہ اس پر عدت نہیں ہے لہذا دونوں کی     باہمی رضا مندی سےنئے مہرکےساتھ شخص مذکور اس سے دوبارہ نکاح کرسکتاہے  ،لیکن یاد رہے کہ اس  کے پاس آئندہ صرف دو طلاق دینے کا اختیار باقی ہے ۔
     كمافي الدر المختار:
باب طلاق غير المدخول بها (قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق) (ثلاثا)..... (وقعن)..... (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق.
(طلاق غير مدخول بها،ج:3،ص:284،ط: دار الفكر)
وفي رد المحتار:
ونص محمد - رحمه الله تعالى - قال: وإذا طلق الرجل امرأته ثلاثا جميعا فقد خالف السنة وأثم وإن دخل بها أو لم يدخل سواء، بلغنا ذلك عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وعن علي وابن مسعود وابن عباس وغيرهم رضوان الله عليهم..... وفي المشكلات من طلق امرأته الغير مدخول بها ثلاثا فله أن يتزوجها بلا تحليل، وأما قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ففي حق المدخول بها...... (قوله وإن فرق بوصف) نحو أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة، أو خبر نحو: أنت طالق طالق طالق، أو أجمل نحو: أنت طالق أنت طالق أنت طالق.... (قوله بانت بالأولى) أي قبل الفراغ من الكلام الثاني
(طلاق غير مدخول بها،ج:3،ص:284،ط: دار الفكر)
وفي البحر الرائق:
قوله: (طلق غير المدخول بها ثلاثا وقعن) سواء قال أوقعت عليك ثلاث تطليقات أو أنت طالق ثلاثا، ولا خلاف في الاول كما في فتح القدير، وفي الثاني خلاف. قيل يقع واحدة والجمهور على خلافه، وقد صرح به محمد بن الحسن وقال: بلغنا ذلك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعن علي وابن مسعود وابن عباس رضي الله عنهم.
(ج:3،ص:503،ط: دار الكتب العلمية بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب