سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-375 Fatwa no: 1447-375

" میں کافرہوں " کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ : ہم لوگ باہر ملک میں رہتے ہیں ،بیوی بچوں کے اصرار پر نئے سال کی رات کی آتش بازی کے لئے ہم تشریف لے گئے وہاں لوگ اچھی حالت میں نہیں تھے ،جس پر میری بیوی سے بحث وتکرار ہوا ،اسی لمحہ میں نے کہا کہ ہم مسلمان ہونے کے ناطے ہمارے پاس اسلامی مہینے ہیں، شمسی کیلنڈر نہیں ،میری بیوی نے کہا"میں شمسی کیلنڈر کی پیروی کرتی ہوں ،میں کافر ہوں ،میں کافر ہوں ،میں کافر ہوں ،میں شمسی کیلنڈر کی پیروی کرتی ہوں " یہ بتائیں کہ ان الفاظ کا کیا حکم ہے ؟
جواب :

بصورت  صحت سوال میں مذکورہ الفاظ کفریہ ہیں ،اس سے انسان اسلام سے خارج ہوجاتاہے ،اس لیے مذکورہ خاتون پر واجب ہے کہ دوبارہ کلمہ پڑھے ،اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کریں ۔
كما في الدر المختار:
باب المرتد هو لغة الراجع مطلقا وشرعا (الراجع عن دين الإسلام وركنها إجراء كلمة الكفر على اللسان بعد الإيمان) وهو تصديق محمد - صلى الله عليه وسلم - في جميع ما جاء به عن الله تعالى مما علم مجيئه ضرورة ...... والإقرار شرط لإجراء الأحكام الدنيوية بعد الاتفاق على أنه يعتقد متى طولب به أتى به فإن طولب به فلم يقر فهوكفر عناد قاله المصنف وفي الفتح من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد.                                           (ج:4،ص:221،ط: دار الفكر)
وفي الفتاوى الهندية:
ومن اعتقد أن الإيمان والكفر واحد فهو كافر ومن لا يرضى بالإيمان فهو كافر كذا في الذخيرة.ومن يرضى بكفر نفسه فقد كفر.                   (مطلب في موجبات الكفر أنواع،ج:2،ص:257،ط: دار الفكر)
وفي درر الحكام:
(ارتداد أحدهما) أي أحد الزوجين (فسخ عاجل) للنكاح غير موقوف على الحكم.
(ج:1،ص:354،ط: دار إحياء الكتب العربية)
وفي رد المحتار:
(قوله وفسد إلخ) لأن ردة أحدهما منافية للنكاح ابتداء فكذا بقاء نهر.   (ج:3،ص:196،ط: دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب