سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-376 Fatwa no: 1447-376

سونے کا پانی چڑھی ہوئی گھڑی یا چین استعمال کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: بعض گھڑیاں اور چین سونے کی نہیں ہوتی لیکن ان پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہوتا ہے،جوکہ استعمال ہونے سے اترجاتا ہے اور اصلی دھات دکھائی دینے لگتی ہے،تو کیا وہ بھی خالص سونے سے بنی ہوئی اشیاء کے حکم میں ہیں یا نہیں؟اور انکا استعمال مردوں کے لئےجائز ہے یا نہیں؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ جو چیزیں کسی اور دھات سے بنی ہوں اور ان کے اوپر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہوتا ہے،تو وہ خالص سونے سے بنی ہوئی چیزوں کے حکم میں نہیں ہوتی بلکہ انکا استعمال کرنا  جائز ہے،بصورت ِ مسئولہ مذکورہ صفات کے حامل گھڑی اور چین کا استعمال   مردوں کے لئے بھی  جائزہے،البتہ خالص سونے سے بنی ہوئی  اشیاء کا استعمال کرنا مردوں کے لئے حرام ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔
في الدرالمختار:
أَمَّا الْمَطْلِيُّ فَلَا بَأْسَ بِهِ بِالْإِجْمَاعِ بِلَا فَرْقٍ بَيْنَ لِجَامٍ وَرِكَابٍ وَغَيْرِهِمَا لِأَنَّ الطِّلَاءَ مُسْتَهْلَكٌ لَا يَخْلُصُ فَلَا عِبْرَةَ لِلَوْنِهِ عَيْنِيٌّ وَغَيْرُهُ.
(كتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:344،ط:دارالفكر)
وفيه ايضاً:
وَأَمَّا التَّمْوِيهُ الَّذِي لَا يَخْلُصُ فَلَا بَأْسَ بِهِ بِالْإِجْمَاعِ لِأَنَّهُ مُسْتَهْلَكٌ فَلَا عِبْرَةَ بِبَقَائِهِ لَوْنًا اهـ.
(كتاب الحظروالإباحة،ج:6،ص:344،ط:دارالفكر)
وفي الهندية:
وأما التمويه الذي لا يخلص فلا بأس به بالإجماع، كذا في الكافي.
(كتاب الحظر ولإباحة،ج:5،ص:334،ط:دارالفكر)
وفي تبيين الحقائق
وَأَمَّا التَّمْوِيهُ الَّذِي لَا يَخْلُصُ فَلَا بَأْسَ بِهِ بِالْإِجْمَاعِ؛ لِأَنَّهُ مُسْتَهْلَكٌ فَلَا عِبْرَةَ بِبَقَائِهِ لَوْنًا.
(كتاب الكراهية،ج:6،ص:11،ط:المطبعة الكبرى)

وفي مجمع الأنهر:
وَأَمَّا التَّمْوِيهُ الَّذِي لَا يَخْلُصُ فَلَا بَأْسَ بِهِ بِالْإِجْمَاعِ؛ لِأَنَّهُ مُسْتَهْلَكٌ فَلَا عِبْرَةَ لِبَقَائِه.
(كتاب اللبس،ج:2،ص:537،ط:دارإحياءالتراث العربي)
وفي منحة السلوك:
فأما التمويه الذي لا يخلص منه شيء: فمباح مطلقاً) يعني سواء اتقى موضع الفضة أو لا، لأنه مستهلك، فلا عبرة ببقائه لوناً،قوله: (كالعلم في الثوب) فإنه مباح مطلقاً بالإجماع، وكذلك مسمار الذهب في فص الخاتم، وكذا العمامة المعلمة بالذهب.
(كتاب الكراهية،ج:1،ص:401،ط:وزارة الأوقاف)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب