سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-378 Fatwa no: 1447-378

مرد کے لئے چاندی کی انگوٹھی کے استعمال کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: مرد حضرات کے لئے چاندی کی انگوٹھی، جس کا وزن ساڑھے سات ماشے ہو ،استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور کیا اس کو پہن کر عمرہ ادا کیا جاسکتا ہے؟ اکثر لوگ عمرہ یا حج کے مناسک کی ادائیگی کے دوران مثلاًطواف کرتے ہوئے کمر کے ساتھ بیگ باندھتے ہیں کیا اس طرح کرنا درست ہے؟
جواب :

مرد حضرات کے لئےچاندی کی انگوٹھی ، جس کا وزن ساڑھے چار ماشہ   یعنی 4گرام 374ملی گرام   سے کم ہو ،پہننا جائز ہے اور اگراس سے زیادہ مقدار کی  ہو تو جائز نہیں ،صورت مسئولہ میں  مرد حضرات کے لئے ساڑھے چار ماشہ سے زیادہ چاندی استعمال  کرنا   جائز نہیں ، اور عمرہ کرتے وقت انگوٹھی پہننے میں کوئی حرج نہیں ،بشرطیکہ ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو۔
عمرہ یا حج کے مناسک کی ادائیگی کے وقت بیگ کو کمر کے ساتھ باندھنے میں بھى کوئی حرج نہیں ۔
كما فى سنن الترمذي:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: «مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ؟»، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: «مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الأَصْنَامِ؟»، ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: «ارْمِ عَنْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الجَنَّةِ؟»، قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: «مِنْ وَرِقٍ، وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا»:
[باب ما جاء فى الخاتم الحديد،ج4،ص248،ط:دارالكتب]
وفى سنن ابي داؤد: 
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ، فَقَالَ لَهُ: «مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ» فَطَرَحَهُ، ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: «مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ» فَطَرَحَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: «اتَّخِذْهُ مِنْ وَرِقٍ، وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا» "
[باب ماجاء فى الخاتم الحديد،ج4،ص90،ط:دار الفكر]
وفي مصنف ابن ابي شيبه:
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سُئِلَتْ , عَنِ الْهِمْيَانِ لِلْمُحْرِمِ ، فَقَالَتْ : أَوْثِقْ نَفَقَتِكَ فِي حَقْوَيك.
[الهميان للمحرم،ج8،ص699،ط:دار العلم]
وفي الفتاوي التاتارخانيه:
ولا بأس بأن يشد الهميان والمنطقة على نفسه،وفي شرح الطحاوي: ولا بأس بلبس الخاتم.....الخ
[كتاب الحج،باب لبس المخيط،ج3،ص578،ط:اعزازيه]

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب