سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-380 Fatwa no: 1447-380

نافرمان بیوی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: جوعورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے والدین کے گھر آتی جاتی ہے اور اس کے علاوہ بھی جہاں کہیں جاتی ہے اپنے خاوند سے اجازت نہیں لیتی اور نہ ہی اپنے شوہر کی کوئی بات مانتی ہے،اب ایسی بیوی کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے،قرآن واحادیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

نافرمان بیوی کے متعلق احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں،ابن عمر۔رضی اللہ عنھما۔سے روایت ہےکہ نبی اکرمﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور پوچھا ،اے اللہ کے نبی،خاوند کا اپنی  بیوی کے اوپر کیا حق ہے تو آپﷺنے فرمایا کہ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلا کرے،اگرنکل گئی تواللہ تعالیٰ  اوررحمت وغضب کے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں ،یہاں تک کہ وہ عورت توبہ کرے یا واپس لوٹ آئےالخ  ، لہذا عورتوں کے اوپر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نافرمانی سے گریزکریں ورنہ وہ لعنت کی مستحق  ہوگی،اسی طرح مرد پر بھی عورت کے حقوق ہیں،لہذا مرد کو چاہیے کہ عورت  کے حقوق  کی ادائیگی  کا خصوصی  اہتمام کرے،آپ ۔ﷺ۔نے مرض الموت میں بھی عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی  ہے،بہرحال اس کے باوجود جوعورت اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہو اور شوہر کی اطاعت نہ کرتی ہو تو ان کو سمجھانے کیلئے شریعت نے کئی طریقے بتائیں ہیں،پہلا طریقہ یہ ہے کہ وعظ اور نصیحت سے کام لے بیوی کو سمجھایا جائے کہ تم پر میرا حق ہے کہ تم میری اطاعت کرو،لیکن اگر نصیحت کرنے کے باوجود بھی نافرمانی سے باز نہ آتی ہو توپھر تادیب کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خواب گاہ  میں ان کو تنہا چھوڑ دیا جائے،شاید بیوی خاوند کی بے التفاتی سے متاثر ہوکر نافرمانی سے باز آجائے اور طاعت والی راہ اختیار کرنا شروع کردے اور اگر اس سے بھی اثر نہ لیتی ہو تو تنبیہ کا آخری طریقہ یہ ہےکہ  شریعت  کی حدود کا خیال رکھتے ہوئے اس کو مارا جائے،تاہم مار ایسی نہیں ہونی چاہیے جس سے جسم پر نشانی باقی رہےاور اگر ان سب کچھ کے باوجود وہ اپنی نافرمانی پر ڈٹی رہی اور شوہر کی بات ماننے کیلئے تیار نہ ہوتی ہو تو شوہر اور بیوی دونوں کے رشتہ داروں میں سے ایک ایک آدمی کوبیٹھاکر اس مسئلے کوحل کیا جائے،لیکن پھر بھی اگر اصلاح کی کوئی امید باقی نہ رہے توبہر حال! شریعت نے مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے،لہذا ایسی عورت  سے خلاصی حاصل کرکے طلاق دینا مستحب امر ہے۔

قال الله تبارك وتعالى في القرآن العظيم:
ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ وَبِمَآ أَنفَقُواْ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡۚ فَٱلصَّٰلِحَٰتُ قَٰنِتَٰتٌ حَٰفِظَٰتٞ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ ٱللَّهُۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (34) وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا (35).
(سورة النسآء:الآية:35،34)
وفي سنن ابن ماجة:
عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَحْمَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ، وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَحْمَرَ، لَكَانَ نَوْلُهَا أَنْ تَفْعَلَ»
(باب حق الزوج على المرأة:ج1،ص 594،ط دارإحياء الكتب العربية)
وفي سنن أبي داؤد:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَلَمْ تَأْتِهِ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ»
(باب في حق الزوج على المرأة:ج3،ص 475،ط دارالرسالة العربية)
وفي مصنف ابن أبي شيبة:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَتَتِ امْرَأَةٌ نَبِيَّ اللهِ صلى الله عليه وسلم , فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زوجته ؟ قَالَ : لاَ تَمْنَعُهُ نَفْسَهَا وَلَوْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ ؟ قَالَ : لاَ تَصَدَّقُ بِشَيْءٍ مِنْ بَيْتِهِ إلاَّ بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ كَانَ لَهُ الأَجْرُ وَعَلَيْهَا الْوِزْرُ , قَالَتْ : يَا نَبِي الله مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى امرأته قَالَ : لاَ تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْهَا مَلاَئِكَةُ اللهِ وَمَلاَئِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلاَئِكَةُ الْغَضَبِ حَتَّى تَتُوبَ ، أَوْ تراجع إلخ.
(ماحق الزوج على امرأته:ج4،ص 303)
وفي ردالمحتار:
السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع إلخ.
(باب الخلع:ج3،ص 441،ط دارالفكر)    
وأيضا في ردالمحتار:    
قوله إلا إذا خافااستثناء منقطع؛لأن التفريق حيئنذ مندوب بقرينة قوله فلا بأس لكن سيأتي من أول الطلاق أنه يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاته ويجب لوفات الإمساك بالمعروف إلخ.
(مطلب فيما لوزوج المولى أمته:ج3،ص 50،ط دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب