سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-381 Fatwa no: 1447-381

والد کے سخت رویے پر اولاد کا والد کو سمجھانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بار ے میں کہ ایک شخص اپنی بیوی کو بات بات پر ڈانٹتا ہے اور اس سےجھگڑتا بھی ہے۔جبکہ اس کی بیوی بلڈ پریشر کی مریضہ ہے اور ان دونوں کی عاقل بالغ اولاد بھی موجود ہے۔ ان کی اولاد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے والد کو بے جا سختی کرنے اور ڈانٹنے سے روکے؟اگر وہ شخص یہ پو چھے کہ کون حق پر ہے اور کون نہیں تو کیا ان کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کا جواب دیں؟
جواب :

بصورت مسؤلہ  احادیث نبویہ ﷺ میں خاوند کو اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنے  کی بہت تاکید آئی ہے اس لیے شخص مذکور  کو چاہیے کہ وہ اپنی سخت روش کو چھوڑدے اور اپنی بیوی کے ساتھ  کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے،اسی  طرح والدین کے ساتھ اچھے رویے کے سے آنے کی بہت ترغیب آئی ہےاس لیے  اس کی اولاد كو چاہیے کہ ادب و احترام کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے والد کو نیک سلوک کی ترغیب دیتی رہیں اور اگر والد پو چھے کہ کون حق پر ہے تو نرم لہجے میں اس کی غلطی کی نشاندہی بھی کرتے رہے رہیں۔
قال اللَّهِ تعالي :
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا 23 وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا 24 [الإسراء: 23-24] 
سنن أبي داود
حدَّثنا أبو بكر بن أبي شيبةَ وابن السرح، قالا:حدَّثنا سُفيانُ، عن ابن أبى نجيحٍ، عن ابنِ عامرٍعن عبدِ الله بن عمرو يرويه -قال ابنُ السرح: عن النبيِّ- صلى الله عليه وسلم - قال:- "مَن لم يرحَمْ صَغيرَنا، ويَعرِفْ حقَّ كبيرِنا، فليسَ منَّا".
سنن ابن ماجه:
 مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا، فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ، فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَبِلِسَانِهِ
فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
(كتاب الصلاة،ج:2،ص:1330،ط: دار إحياء الكتب العربية)
مسند أحمد:
 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا، أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِيَارُهُمْ خِيَارُهُمْ لِنِسَائِهِمْ»
(كتاب الصلاة،ج:7،ص:208،ط: دار إحياء الكتب العربية)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
 وقَوْله تَعَالَى {أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ} [لقمان: 14] وَالشُّكْرُ لِلْوَالِدَيْنِ هُوَ الْمُكَافَأَةُ لَهُمَا أَمَرَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى الْوَلَدَ أَنْ يُكَافِئَ لَهُمَا وَيُجَازِيَ بَعْضَ مَا كَانَ مِنْهُمَا إلَيْهِ مِنْ التَّرْبِيَةِ وَالْبِرِّ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِ وَالْوِقَايَةِ مِنْ كُلِّ شَرٍّ وَمَكْرُوهٍ وَذَلِكَ عِنْدَ عَجْزِهِمَا عَنْ الْقِيَامِ بِأَمْرِ أَنْفُسِهِمَا وَالْحَوَائِجِ لَهُمَا وَإِدْرَارُ النَّفَقَةِ عَلَيْهِمَا حَالَ عَجْزِهِمَا وَحَاجَتِهِمَا مِنْ بَابِ شُكْرِ النِّعْمَةِ فَكَانَ وَاجِبًا وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا} [لقمان: 15] وَهَذَا فِي الْوَالِدَيْنِ الْكَافِرَيْنِ فَالْمُسْلِمَانِ أَوْلَى وَالْإِنْفَاقُ عَلَيْهِمَا عِنْدَ الْحَاجَةِ مِنْ أَعْرَفِ الْمَعْرُوفِ وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا} [الإسراء: 23] وَأَنَّهُ كِنَايَةٌ عَنْ كَلَامٍ فِيهِ ضَرْبُ إيذَاءٍ، 
(كتاب الصلاة،ج:4،ص:30،ط: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب