سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-34 Fatwa no: 1447-34

ادھار خریدے گئے سونے کی زکوٰۃ کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : ایک بندہ سونا لیتا ہے ادھار ، ایک لاکھ قیمت پر ، " 25000 " روپے اداء کر دیتا ہے اور " 75000 "مشتری کے ذمے باقی ہےجو ایک سال کے بعد اداء کرےگا ، اب پوچھنا یہ ہے کہ مشتری کے ذمے اس سونا کی زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟
جواب :

زکوۃ کے واجب ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ مال انسان کی حاجت اصلیہ سے زائد ہو ، چونکہ شخص مذکور کے ذمے قرض واجب الاداء ہےجو کہ اس کی حاجت اصلیہ میں سے ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر شخص مذکور کے پاس یہی سونا ہے اس کے علاوہ کوئی نقد رقم ، چاندی ، مال تجارت وغیرہ نہیں ہے تو اس میں اس پر زکوۃ واجب نہیں ہے ، تاہم اگر اس کے پاس اس کے علاوہ چاندی ، نقدی ، مال تجارت وغیرہ موجود ہو اور اس میں سے قرض کی ادائیگی کے بعد پھر بھی شخص مذکور صاحب نصاب رہےتو سال پورا ہونے پر اس کے ذمے زکوۃ واجب ہوگی ۔
كما في ردالمحتار علي الدرالمختار :
ثُمَّ فَرَّعَ عَلَى سَبَبِهِ بِقَوْلِهِ(فَلَا زَكَاةَ عَلَى مُكَاتَبٍ) لِعَدَمِ الْمِلْكِ التَّامِّ، وَلَا فِي كَسْبِ مَأْذُونٍ، وَلَا فِي مَرْهُونٍ بَعْدَ قَبْضِهِ، وَلَا فِيمَا اشْتَرَاهُ لِتِجَارَةٍ قَبْلَ قَبْضِهِ (وَمَدْيُونٍ لِلْعَبْدِ بِقَدْرِ دَيْنِهِ) فَيُزَكِّي الزَّائِدُ إنْ بَلَغَ نِصَابًا، وَعُرُوضُ الدِّينِ كَالْهَلَاكِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ،
(قَوْلُهُ وَمَدْيُونٍ لِلْعَبْدِ) الْأَوْلَى وَمَدْيُونٍ بِدَيْنٍ يُطَالِبُهُ بِهِ الْعَبْدُ لِيَشْمَلَ دَيْنَ الزَّكَاةِ وَالْخَرَاجِ لِأَنَّهُ لِلَّهِ - تَعَالَى - مَعَ أَنَّهُ يَمْنَعُ لِأَنَّ لَهُ مُطَالِبًا مِنْ جِهَةِ الْعِبَادِ
( كتاب الزكوة ، ج3 ، ص215 ، ط: مكتبه رحمانيه )
وفي الهنديه :
(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وجب بخلع أو صلح عن دم عمد،
( كتاب الزكوة ، ج 1 ، ص380 ، ط: مكتبه رشيديه )
وفي الهداية :
ومن كان عليه دين يحيط بماله فلا زكاة عليه، وقال الشافعي - رَحِمَهُ اللَّهُ - تجب لتحقق السبب وهو ملك نصاب كامل تام، ولنا أنه مشغول بحاجته الأصليةفاعتبر معدوما كالماء المستحق بالعطش وثياب البذلة والمهنة،وإن كان ماله أكثر من دينه زكى الفاضل إذا بلغ نصابا؛ لفراغه عن الحاجة
( كتاب الزكوة، ج1 ، ص202 ، ط:مكتبه الحسن )

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 12 May 2026

واللہ اعلم بالصواب