سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-382 Fatwa no: 1447-382

میراث کے حوالے سے ایک غلط فہمی اور اس کا اذالہ

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: اگر دوبھائیوں کا کاروبار وغیرہ سب کچھ الگ ہو شریک نہ ہو توپھر اگر ان میں سے کوئی ایک بھائی فوت ہوجائے اور اس کے بھائی کے علاوہ کوئی دوسرا وارث نہ ہو تویہ بھائی اس کے سارے مال کا وارث بنتا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ کہ کاروبار وغیرہ سب کچھ تو الگ ہے لیکن پھر بھی اس کو میراث میں حصہ ملتا ہے؟
جواب :

شریعت مطہرہ نے بھائی کو بھائی کا وارث قرار دیا ہے جس کی وجہ سے  ایک بھائی کو دوسرے بھائی کی میراث میں حصہ  ملتا ہے چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ" چونکہ یہ بات تم کو معلوم نہیں کہ کس سے تم کو نفع پہنچے گا اور کتنا نفع پہنچے گا اس لئے تم کو اس میں دخل نہ دینا چاہئے جو کچھ کسی کا حصہ حق تعالی نے مقرر فرمادیا ہے  اس کی پابندی کرو ، کیونکہ اللہ تعالی کو تمام چیزوں کی خبر بھی ہے اور بڑاحکمت والا ہے ،" لہذا شریعت سے اس حکم کی حکمت ہمارے ذہن میں آئے یا نہیں ، بہرحال اس پر عمل کرنا ضروری ہے ، نیز اس میں کئی حکمتیں بھی ہیں، پہلی یہ کہ بعض صورتوں میں شریعت مطہرہ نے بھائی کیلئے بھائی پر کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں مثلا اگر یہ بھائی فقیر اور اپاہج ہو اور کمائی پر قادر نہ ہو اور اس بھائی کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا وارث نہ ہو تو اس کا خرچہ اس  بھائی کے ذمہ لازم ہے، جب خرچہ اس کے ذمہ لازم  ہے تو میراث بھی اس کے بھائی کو ملنا چاہئے، کیونکہ نفع نقصان کے بدلے میں ہوتا ہے، دوسرا یہ کہ کاروبار وغیرہ الگ ہونے کے باوجود ان کا نسبی رشتہ (اخوت) ختم نہیں ہوتا اور نسبی رشتے کی بنیاد پر ہی میراث کا دارومدار ہے ۔
كما في قوله تعالى:
آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا.
(پاره4،سورة النسآء،آيت11)
وفي شرح المجلة:
كذلك لوكان لفقيرعاجزعن الكسب ثلاثة إخوة متفرقين،واحد لاب وام،وآخر لاب ،وآخر لام،يشترك في نفقته الاخ لاب وام والاخ لام اسداسا:خمسة اسداسا على الاخ لابوين،وسدس على الاخ لام،على قدرالميراث،لانه لوكان غنيا فارثه لهما على هذاالوجه.
(المادة:الغرم بالغنم،ج1،ص236،ط:انوارالقرآن)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب