نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںشریعت مطہرہ نے بھائی کو بھائی کا وارث قرار دیا ہے جس کی وجہ سے ایک بھائی کو دوسرے بھائی کی میراث میں حصہ ملتا ہے چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ" چونکہ یہ بات تم کو معلوم نہیں کہ کس سے تم کو نفع پہنچے گا اور کتنا نفع پہنچے گا اس لئے تم کو اس میں دخل نہ دینا چاہئے جو کچھ کسی کا حصہ حق تعالی نے مقرر فرمادیا ہے اس کی پابندی کرو ، کیونکہ اللہ تعالی کو تمام چیزوں کی خبر بھی ہے اور بڑاحکمت والا ہے ،" لہذا شریعت سے اس حکم کی حکمت ہمارے ذہن میں آئے یا نہیں ، بہرحال اس پر عمل کرنا ضروری ہے ، نیز اس میں کئی حکمتیں بھی ہیں، پہلی یہ کہ بعض صورتوں میں شریعت مطہرہ نے بھائی کیلئے بھائی پر کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں مثلا اگر یہ بھائی فقیر اور اپاہج ہو اور کمائی پر قادر نہ ہو اور اس بھائی کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا وارث نہ ہو تو اس کا خرچہ اس بھائی کے ذمہ لازم ہے، جب خرچہ اس کے ذمہ لازم ہے تو میراث بھی اس کے بھائی کو ملنا چاہئے، کیونکہ نفع نقصان کے بدلے میں ہوتا ہے، دوسرا یہ کہ کاروبار وغیرہ الگ ہونے کے باوجود ان کا نسبی رشتہ (اخوت) ختم نہیں ہوتا اور نسبی رشتے کی بنیاد پر ہی میراث کا دارومدار ہے ۔
كما في قوله تعالى:
آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا.
(پاره4،سورة النسآء،آيت11)
وفي شرح المجلة:
كذلك لوكان لفقيرعاجزعن الكسب ثلاثة إخوة متفرقين،واحد لاب وام،وآخر لاب ،وآخر لام،يشترك في نفقته الاخ لاب وام والاخ لام اسداسا:خمسة اسداسا على الاخ لابوين،وسدس على الاخ لام،على قدرالميراث،لانه لوكان غنيا فارثه لهما على هذاالوجه.
(المادة:الغرم بالغنم،ج1،ص236،ط:انوارالقرآن)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔