سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-383 Fatwa no: 1447-383

اولاد کے لئے وصیت کرنا جبکہ دوسرے ورثاء موجود ہوں

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: کہ ہم دو ساتھیوں نے آپس میں یہ فیصلہ کیا کہ مشترکہ زمین خرید لیں گے جو بعد میں ہماری اولاد کےکام آئی گی، ہم نے 10لاکھ روپے (جس میں 5 لاکھ میرے اور 5لاکھ میرے ساتھی کے تھے)پر ایک زمین خرید لی، جس میں ہمیں نقصان ہوااس لئے ہم نے وہ زمین 8 لاکھ روپے پر فروخت کردی، جس میں 1لاکھ میرا اور 1لاکھ میرے ساتھی کا نقصان ہوا، اب میرا ساتھی فوت ہواہےاوراس کی زمین کے وہ چار لاکھ روپے میرے پاس پڑے ہوئے ہیں ، مرحوم نے دوبیٹے ،ایک بیٹی ،بیوہ ،والدین اور بھائی بہنیں پیچھے چھوڑ دئیے ہیں، اب اس کے والدین اور بیوہ کے والدین مجھ سے زمین کی وہ چار لاکھ روپےمانگ رہے ہیں،لیکن مجھے اطمینان نہیں ہےکیونکہ میرا ساتھی جب فوت ہورہاتھا تو اس نے مجھے کہا کہ میری اولاد کا خیال رکھنا ہے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ آیا ان کا یہ مطالبہ ٹھیک ہے یا یہ روپےاس کی اولاد کا حق ہے؟برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔ تنقیح:مجھے اطمینان اس لئے نہیں ہورہا کہ میرے خیال کے مطابق مرحوم نے مجھے جو یہ کہا تھا کہ "بعد میں یہ زمین ہماری اولاد کے کام آئی گی"اوراسی طرح مرنے سے پہلے جو کہا تھا کہ "میری اولاد کا خیال رکھنا ہے" اس سے اس کی مراد اپنی اولاد کے لئے ان چارلاکھ روپے کی وصیت کرنی تھی۔
جواب :

واضح رہے کہ ورثاء(بیوی، اولادوغیرہ ) کیلئے وصیت کرنا شرعا درست نہیں ہے،صورت مسؤلہ میں یہ چار لاکھ روپے آپ کے مرحوم دوست کا ترکہ ہے اور یہ اسکے تمام ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہونگے، اسلئے اس کے والدین کا اپنے حصے کا مطالبہ کرنا شرعا درست ہے، البتہ اسکے سسرال والوں کا مطالبہ کرنادرست نہیں ہے لہٰذا یہ رقم اور مرحوم کا دیگر ترکہ مرحوم کے والدین ، بیوہ ، اور اولاد کے درمیان انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا، جبکہ اس صورت میں بہن بھائی محروم ہوں گے۔نیز آپکے مرحوم دوست کے مذکورہ الفاظ "بعد میں یہ زمین ہماری اولاد کے کام آئی گی "،"میری اولاد کا خیال رکھناہے" سے وصیت ثابت نہیں ہوتی، البتہ اگر بالفرض ان الفاظ سے وصیت ثابت بھی ہوجائے تو پھر دیگر ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی۔
کما في الدرالمختار:
(وللأب والجد) ثلاث أحوال الفرض المطلق وهو (السدس) وذلك (مع ولد أو ولد ابن).
(كتاب الفرائض،ج:6، ص:770، ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن)........... (والربع للزوج).
(كتاب الفرائض، ج:6، ص:770، ط:دارالفكر)

وفي السراجي في الميراث:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث:النصف للواحدة، والثلثان للإثنين فصاعدة، ومع الإبن للذكر مثل حظ الإنثيين، وهو يعصبهن.
(فصل في النساء، ص:32، ط:البشرى)
و فيه أيضا:
وأما للأم فأحوال ثلاث: السدس مع الولد أو ولد الإبن وإن سفل.
(فصل في النساء، ص:43، ط:البشرى)
وفي الدرالمختار:
(وركنها قوله: وأوصيت بكذا لفلان وما يجري مجراه من الألفاظ المستعملة فيها).
(كتاب الوصايا، ج:6، ص:650، ط:دارالفكر)
وفي الهندية:
ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته...................ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة.
(كتاب الوصية، الباب الأول،ج:6، ص:90، ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب