نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ ورثاء(بیوی، اولادوغیرہ ) کیلئے وصیت کرنا شرعا درست نہیں ہے،صورت مسؤلہ میں یہ چار لاکھ روپے آپ کے مرحوم دوست کا ترکہ ہے اور یہ اسکے تمام ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہونگے، اسلئے اس کے والدین کا اپنے حصے کا مطالبہ کرنا شرعا درست ہے، البتہ اسکے سسرال والوں کا مطالبہ کرنادرست نہیں ہے لہٰذا یہ رقم اور مرحوم کا دیگر ترکہ مرحوم کے والدین ، بیوہ ، اور اولاد کے درمیان انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا، جبکہ اس صورت میں بہن بھائی محروم ہوں گے۔نیز آپکے مرحوم دوست کے مذکورہ الفاظ "بعد میں یہ زمین ہماری اولاد کے کام آئی گی "،"میری اولاد کا خیال رکھناہے" سے وصیت ثابت نہیں ہوتی، البتہ اگر بالفرض ان الفاظ سے وصیت ثابت بھی ہوجائے تو پھر دیگر ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی۔
کما في الدرالمختار:
(وللأب والجد) ثلاث أحوال الفرض المطلق وهو (السدس) وذلك (مع ولد أو ولد ابن).
(كتاب الفرائض،ج:6، ص:770، ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
(فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن)........... (والربع للزوج).
(كتاب الفرائض، ج:6، ص:770، ط:دارالفكر)
وفي السراجي في الميراث:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث:النصف للواحدة، والثلثان للإثنين فصاعدة، ومع الإبن للذكر مثل حظ الإنثيين، وهو يعصبهن.
(فصل في النساء، ص:32، ط:البشرى)
و فيه أيضا:
وأما للأم فأحوال ثلاث: السدس مع الولد أو ولد الإبن وإن سفل.
(فصل في النساء، ص:43، ط:البشرى)
وفي الدرالمختار:
(وركنها قوله: وأوصيت بكذا لفلان وما يجري مجراه من الألفاظ المستعملة فيها).
(كتاب الوصايا، ج:6، ص:650، ط:دارالفكر)
وفي الهندية:
ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته...................ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة.
(كتاب الوصية، الباب الأول،ج:6، ص:90، ط:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔