نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ ٹی وی ان آلات میں سے ہے جنکو اچھے اور برے دونوں قسم کے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن چونکہ آجکل اس کا عام استعمال ممنوع کاموں میں ہوتا ہے لہذا اسکو بیچنا گناہ کے کاموں میں تعاون کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے ،اور یہ بلکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اہل حرب کو اسلحہ بیچنا ۔لہذا صورت مسئولہ میں اسکو بیچ کر رقم کو میت کے ایصال ثواب کے لئے صدقہ کرنے سے وصیت کے مطابق توڑدینا ہی بہتر ہےبشرطیکہ اس ٹی وی کی قیمت میت کے ترکہ کے ثلث سے زیادہ نہ ہو ،البتہ اگر اسکی قیمت میت کے ترکہ کے ثلث سے زیادہ ہو تو اس صورت میں اسکی وصیت پر عمل ضروری نہیں ہوگا ،مگر یہ کہ تمام ورثاء اسکی اجازت دیدیں تو پھر اسکی وصیت کو پورا کیا جائے گا۔
كما قال الله تعالى:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَاب.
(المائدة،آية:2)
في فقه البيوع:
فمن هذه الجهة هو داخل في القسم الثالث فبيعه صحيح منعقد ،ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنافي برامج لا تخلومن محظورشرعي وعامة المشترين يشترونه لهذه الاغراض المحظورة وان كان هناك من لا يقصد به ذلك ،فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقا،الااذاتعين بيعه لمحظور ولكن نظرا الى معظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية.
(القسم الثالث،ج:1،ص:314،ط:معارف القرآن)
وفي العناية:
(وَيُكْرَهُ بَيْعُ السِّلَاحِ مِنْ أَهْلِ الْفِتْنَةِ وَفِي عَسَاكِرِهِمْ) ؛ لِأَنَّهُ إعَانَةٌ عَلَى الْمَعْصِيَة.
(ج:6،ص:107،ط:دارالفكر)
وفي الدر المختار:
(وَيُكْرَهُ) تَحْرِيمًا (بَيْعُ السِّلَاحِ مِنْ أَهْلِ الْفِتْنَةِ إنْ عُلِمَ) لِأَنَّهُ إعَانَةٌ عَلَى الْمَعْصِيَة.
(باب البغاة،ج:4،ص:286،ط:دارالفكر)
وفي الهندية:
ويكره بيع السلاح من أهل الفتنة في عساكرهم.
(كتاب اللقيط،ج:2 ،ص:285،ط:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔