سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-385 Fatwa no: 1447-385

جی پی فنڈ اور پنشن کی رقم میں میراث کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: 1:سرکاری ملازم کی وفات کے بعد اس کی بیوی کے لئے پنشن جاری رہتی ہے اب سوال یہ ہے کہ پنشن کی رقم صرف بیوی کا حق ہے ؟ یا بطور ترکہ میت کے تمام ورثا کا حق اس سے متعلق ہوگا۔ 2:جی پی فنڈ میں وراثت جاری ہوتی ہے یا نہیں ؟
جواب :

1۔۔۔سرکار کی طرف سے ملنے والی پنشن میں شرعا میراث جاری نہیں ہوتی، بلکہ سرکاری ملازم کی وفات کے بعد سرکار جس کے نام پنشن جاری کرے،اسی کے ساتھ خاص ہوگی کیونکہ میراث میت کے مملوکہ مال میں جاری ہوتی ہے جبکہ پنشن میت کی ملک نہیں بلکہ سرکار کی طرف سے محض تبرع اور احسان ہے  اس لئے پنشن کی رقم صرف بیوی کا حق ہے ۔
2۔۔۔جی پی فنڈ میں وراثت جاری ہوگی اور مرحوم کے تمام ورثا ء میں شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی۔
كما فى البحر الرائق:
قَالَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - (يَبْدَأُ مِنْ تَرِكَةِ الْمَيِّتِ بِتَجْهِيزِهِ) الْمُرَادُ مِنْ التَّرِكَةِ مَا تَرَكَهُ الْمَيِّتُ خَالِيًا عَنْ تَعَلُّقِ حَقِّ الْغَيْرِ بِعَيْنِهِ.
[يبدأ من تركة الميت بتجهيزه،ج8،ص557،ط:الوحيدية]

وفي تكملة فتح الملهم:
إن الأصل الأول في نظام الميراث الإسلامي :أن جميع ما ترك الميت من املاكه ميراث للورثة.
[ كتاب الفرائض،ج2،ص4]
وفي حاشية ابن عابدين:
التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.
[كتاب الفرائض،ج6،ص759،ط:دار الفكر]

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب