سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-387 Fatwa no: 1447-387

استبدالِ مالِ زکوٰۃ کی صورت میں سال کے منقطع ہونے یا نہ ہونے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے پاس اتنی نقد رقم موجود تھی کہ اگر وہ رقم سال بھر اس کی ملکیت میں رہتی تو اس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی۔ لیکن اس شخص نے سال مکمل ہونے سے پہلے ہی اسی رقم سے ایک دکان کھول لی اب دکان کھولنے کے دو ماہ بعد اس اصل رقم پر سال مکمل ہو گیا، دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت میں زکوٰۃ کے وجوب کا اعتبار کس بنیاد پر ہوگا؟کیا سال کی تکمیل کا اعتبار اُس وقت سے کیا جائے گا جب رقم پہلی مرتبہ نصاب کو پہنچی تھی، یا کاروبار شروع کرنے کے بعد نیا سال شمار ہوگا؟نیز اس دوران اگر مال کی نوعیت نقد سے تبدیل ہو کر سامانِ تجارت میں بدل جائے تو حکم میں کیا فرق آئے گا؟براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ
جواب :

اصل جواب سے پہلے تمہیداً یہ جان لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نصاب کے بقدر مال زکوٰۃ پر سال پورا ہونے سے پہلے اگر استبدال (تبدیلی) کر دی جائے تو کیا نئے مال پر الگ سے سال گزرنا ضروری ہوگا، یا سال کی تکمیل کا اعتبار اُس وقت سے کیا جائے گا جب پہلی مرتبہ نصاب کو پہنچا تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ  جس مال میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں:
1.    سائمہ جانور(وہ جانور جو سال کا اکثر حصہ باہر چرتے ہوں )۔
2.    سائمہ جانور کے علاوہ دیگر اموالِ زکوٰۃ، جیسے نقد رقم، سونا، چاندی اور مالِ تجارت۔
اگر سائمہ جانور کو سال پورا ہونے سے پہلے کسی دوسرے مالِ زکوٰۃ سے بدل دیا جائے، خواہ وہ اسی جنس سے ہو یا کسی اور جنس سے، تو اس صورت میں پہلے سال کا حکم منقطع ہو جائے گا اور نئے مال پر الگ سے سال گزرنا ضروری ہوگا، چنانچہ فقہاء کرام ؒ نے تصریح  فرمائی ہے: ( ولو ‌استبدل  ‌السائمة  بجنسها أو بغير جنسها ينقطع حكم الحول كذا في محيط السرخسي)  البتہ سائمہ جانوروں  کے علاوہ  دیگر اموالِ زکوٰۃ (نقد رقم، سونا، چاندی اور مالِ تجارت) کو اگر سال پورا ہونے سے پہلے دوسرے مالِ زکوٰۃ سے تبدیل کر لیا جائے، خواہ وہ اسی جنس سے ہو یا غیر جنس سے، مثلاً: نقد رقم سے سونا چاندی یا مالِ تجارت خرید لیا،یا مالِ تجارت کو فروخت کر کے نقد رقم یا سونا چاندی  حاصل کر لیا،سونا یا چاندی کے بدلے  نقد رقم یا مالِ تجارت خرید لیا،تو ان تمام صورتوں میں سال منقطع نہیں ہوگا، بلکہ سال کی تکمیل کا اعتبار اُس وقت سے کیا جائے گا جب پہلی مرتبہ نصاب مکمل ہوا تھا، نئے مال پر الگ سے سال گزارنا ضروری نہیں ہوگا، ( إذا استبدل الدراهم أو الدنانير بجنسها أو بخلاف جنسها لم ينقطع حكم الحول، حتى لو تم حول الأصل تجب الزكاة، وكذلك إذا بادل عروض التجارة بعروض التجارة لا ينقطع حكم الحول)  البتہ یہ حکم اس شرط کے ساتھ ہے کہ تبدیلی کسی ایسے مال سے ہو جو خود مالِ زکوٰۃ میں شمار ہوتا ہو، اگر مالِ زکوٰۃ کو ایسی چیز سے بدل دیا جائے جو مالِ زکوٰۃ میں داخل نہیں، تو اس صورت میں اس مال پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی،  مثلاً  :  کسی شخص کے پاس  دس لاکھ روپے تھے اور سال پورا  ہونے سے پہلے اس نے وہ رقم رہائش کے لیے مکان خریدنے میں صرف کر دی تواس مکان  پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ، کیونکہ رہائشی مکان مالِ زکوٰۃ میں شامل نہیں ہے  ، خلاصہیہ کہ سائمہ جانوروں  کے علاوہ دیگر اموالِ زکوٰۃ کو اگر سال پورا ہونے سے پہلے دوسرے مالِ زکوٰۃ سے تبدیل کر لیا جائے تو سال منقطع نہیں ہوگا، بلکہ سابقہ سال کی تکمیل پر زکوٰۃ واجب ہوگی، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب نقد رقم سے مالِ تجارت خریدا گیا، تو اس پر الگ سے سال گزارنا ضروری نہیں، بلکہ سال کی تکمیل کا اعتبار اُس وقت سے ہوگا جب پہلی مرتبہ نصاب کو پہنچا تھا۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ولو استبدل مال التجارة بمال التجارة وهي العروض قبل تمام الحول لا يبطل حكم الحول سواء استبدل بجنسها أو بخلاف جنسها بلا خلاف؛ لأن وجوب الزكاة في أموال التجارة يتعلق بمعنى المال وهو المالية والقيمة فكان الحول منعقدا على المعنى وأنه قائم لم يفت بالاستبدال. وكذلك الدراهم والدنانير إذا باعها بجنسها أو بخلاف جنسها بأن باع الدراهم بالدراهم أو الدنانير بالدنانير أو الدنانير بالدراهم أو الدراهم بالدنانير .
(فصل الشرائط التي ترجع إلى المال (2/ 15) دار الكتب العلمية)
المحيط البرهاني:
إذا استبدل الدراهم أو الدنانير بجنسها أو بخلاف جنسها لم ينقطع حكم الحول، حتى لو تم حول الأصل تجب الزكاة، وكذلك إذا بادل عروض التجارة بعروض التجارة لا ينقطع حكم الحول، وإذا ‌استبدل ‌السائمة بخلاف جنسها بأن باعها بدراهم أو دنانير أو بجنسها بأن باعها بإبل مثلها مثلاً يبطل حكم الحول عندنا، وهذا لأن الزكاة السائمة تجب باعتبار العين ولا يراعى فيها القيمة، وكان انعقاد الحول عليها باعتبار العين، والعين الثاني غير الأول حقيقة، فقد تبدل ما انعقد عليه الحول، فيبطل حكم الحول ضرورة بخلاف عروض التجارة؛ لأن وجوب الزكاة في عروض التجارة، وانعقاد الحول عليه باعتبار القيمة، والقيمة لم تتبدل.
(‌‌الفصل الخامس في انقطاع حكم الحول (2/ 265) دار الكتب العلمية)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
وفي معراج الدراية ولو ‌استبدل ‌السائمة بجنسها ينقطع حكم الحول؛ لأن وجوب الزكاة في السائمة باعتبار عينها، وفي غيرها باعتبار ماليتها فالعين الثانية في السائمة غير الأولى لفوات متعلق الوجوب بخلاف العروض؛ لأن متعلق الوجوب هو المالية، وهي باقية مع الاستبدال اهـ.
(كاة الحملان والفصلان والعجاجيل (2/ 236) دار الكتاب الإسلامي)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب