نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںترکِ واجب یا فسادِتراویح کی وجہ سے اعادۂ تراویح کی صورت میں اعادۂ قراءت ضروری ہے یا نہیں؟ اس میں تفصیل یہ ہےکہ :
اگر اعادۂ تراویح ترکِ واجب کی وجہ سے کیا جائے تو اس صورت میں چونکہ نماز میں کوئی حقیقی فساد واقع نہیں ہوتا، بلکہ صرف واجب کے ترک کی بنا پر نماز کو واجب الاعادہ قرار دیا جاتا ہے، چونکہ اصل نماز اور اس میں کی گئی قراءت فی نفسہٖ صحیح ہوتی ہے، اس لیے ایسی صورت میں اعادۂ تراویح کے ساتھ اعادۂ قراءت ضروری نہیں ہوتا۔
البتہ اگر اعادۂ تراویح ترکِ واجب کی وجہ سے نہ ہو بلکہ فسادِ نماز کی بنا پر ہو، تو اس بارے میں فقہاءِ کرام کے دو اقوال منقول ہیں:
بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ اعادۂ تراویح کی صورت میں اعادۂ قراءت بھی ضروری ہوگا، تاکہ ختمِ قرآن مکمل طور پر صحیح اور معتبر نماز میں واقع ہو۔
جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اعادۂ تراویح کی صورت میں اعادۂ قراءت ضروری نہیں؛ کیونکہ فساد نماز میں واقع ہوا ہے، قراءت بذاتِ خود فاسد نہیں ہوئی، لہٰذا سابقہ قراءت معتبر رہے گی اور اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔
فساد تراویح کی صورت میں اگرچہ دونوں اقوال منقول ہیں، تاہم احتیاط پہلے قول میں ہے؛ اس لیے عام حالات میں اسی پر عمل کرنا بہتر ہے کہ سابقہ قراءت کو معتبر نہ سمجھا جائے اور اس کا اعادہ کر لیا جائے، تاکہ ختمِ قرآن مکمل طور پر صحیح اور معتبر نماز میں واقع ہو ۔
البتہ اگر اعادۂ ِتلاوت میں دشواری ہو (مثلاً دونوں رکعتوں میں اتنی مقدار میں تلاوت ہو چکی ہو جس کا اعادہ مشکل ہو) تو دوسرے قول پر عمل کرنے کی بھی گنجائش ہے، جیسا کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے امداد الفتاویٰ (1/391) میں اس مسئلہ کے جواب میں، کہ اگر دو رکعت کے بجائے چار رکعت تراویح بغیر قعدہ کے پڑھ لی جائیں تو کتنی تراویح شمار ہوں گی اور کن رکعات کی تلاوت کا اعادہ ہوگا؟ ارشاد فرمایا کہ قعدہ نہ کرنے سے شفعۂ اُولیٰ فاسد نہیں ہوگا، البتہ مجموعہ معتبر نہیں رہے گا، بلکہ دونوں شفعے مل کر ایک شفعہ شمار ہوں گے، لہٰذا ایک شفعہ مزید پڑھ لیا جائے گا۔
بعد ازاں حضرتؒ نے اپنا رجحان ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے خیال میں اگر محض اعادۂ قرآن میں سہولت کے پیشِ نظر دوسرے قول (یعنی دونوں شفعوں کو معتبر قرار دینے والے قول) پر عمل کر لیا جائے تو اس کی گنجائش ہے ،پس ایک شفعہ اور پڑھ لیا جائے اور قرآن کا اعادہ نہ کیا جائے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اعادۂ قراءت میں دشواری کی صورت میں دوسرے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے،خصوصاً جبکہ اتنی مقدار میں تلاوت ہوچکی ہو جس کا اعادہ مشکل ہو۔ (نوٹ :امداد الفتاویٰ کی مکمل عبارت، سوال و جواب مع حوالہ جات، ذیل میں نقل کی گئی ہے)
المحيط البرهاني:
وإذا فسد شفع وقد قرأ فيه هل يعتبر بما قرأ؟ اختلف المشايخ فيه، قال بعضهم: لا يعتد ليكون الختم في صلاة صحيحة، وقال بعضهم: إذا فسد شفع وقرأ..... يعتد؛ لأن المقصود هو القراءة ولا فساد في القراءة؛ وإذا ختم القرآن، فله أن يبدأ من حيث شاء بقية الشهر.
(الفصل الثالث عشر في التراويح والوتر(1/ 460) دار الكتب العلمية)
الفتاوى العالمكيرية:
وإذا فسد الشفع وقد قرأ فيه لا يعتد بما قرأ فيه ويعيد القراءة ليحصل له الختم في الصلاة الجائزة وقال بعضهم: يعتد بها، كذا في الجوهرة النيرة.
(فصل في التراويح (1/ 118) دار الفكر بيروت)
الفتاوي التاتارخانية:
وإذا فسد شفع وقد قرأ فيه هل يعيد بما قرأ؟ اختلف المشايخ ،قال بعضهم:لا يعيد لأن المقصود هو القراءة ولا فساد في القراءة؛وقال بعضهم:يعيد؛ليكون الختم في صلاة صحيحة.
(نوع آخر في بيان القراءة في التراويح (2/ 326) مكتبه اعزازيه)
«الجوهرة النيرة على مختصر القدوري»:
وإذا فسد الشفع وقد قرأ فيه لا يعتد بما قرأه فيه ويعيد القراءة ليحصل الختم في الصلاة الجائزة، وقال بعضهم يعتد بها؛ لأن المقصود هو القراءة ولا فساد فيها.
(باب قيام شهر رمضان (1/ 98) المطبعة الخيرية)
امداد الفتاویٰ (1/ 391) مکتبه دارالعلوم کراچی:
سوال (۴۲۵): تراویح میں اگر دو رکعت کی جگہ امام چار پڑھ جاوے اور درمیان میں قعدہ نہ کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے تو نماز تراویح ہوں گی یا نہیں، اور اگر ہوں گی تو دو ہوں گی یا چار، اور اگر دو ہوں گی تو اول کی دو یا آخر کی اور کونسی رکعات کے قرآن شریف کےاعادہ کی ضرورت ہوگی۔
الجواب: في الفتاوى ولو صلى اربعاً بتسليمة و لم يقعد في الثانية ففي الاستحسان لا تفسد وهو أظهر الروايتين عن أبي حنيفة و أبي يوسف واذا لم تفسد قال محمد بن الفضل تنوب الأربع عن تسليمة واحدة وهو الصحيح. كذا في السراج الوهاج وهكذا في فتاوى قاضي خان وعن أبي بكر الإسكاف اله سئل عن رجل قام إلى الثالثة في التراويح ولم يقعد في الثانية قال ان تذكر في القيام ينبغي ان يعود و يقعد ويسلم وان تذكر بعد ما سجد للثالثة فان اضاف اليها ركعة اخرى كانت هذه الأربعة عن تسليمة واحدة وان قعد في الثانیة قدر التشهد اختلفوا فيه فعلى قول العامة يجوز عن تسليمتين وهو الصحيح هكذا في فتاوی قاضی خان اه (عالمگیریه ج ۱ ص ٧٥)
اس سے معلوم ہوا کہ قعدہ نہ کرنے سے شفعہ اولیٰ بھی فاسد نہ ہوگا، البتہ مجموعہ بھی معتبر نہ ہوگا۔ بلکہ دونوں شفعہ مل کر بجائے ایک شفعہ کے سمجھے جاویں گے اور جب مجموعہ شفعہ معتبر نہ ہوگا،تو ایک شفعہ اور پڑھا جاوے گا ، رہا یہ امرکہ کونسے شفعہ کا پڑھا ہوا قرآن معتد بہ ہوگا اور کونسے کا قابل اعاد ہ ، تو یہ اس پر موقوف ہے کہ یہ متعین ہو جائے کہ کونسا شفعہ تراویح ہے کہ اس میں پڑھا ہو اقر آن معتدبہ ہو اور کونسا نفل کہ اس میں پڑھا ہوا قابل اعادہ ہو، سو اس میں مجھے کو تر دو ہے، دوسرے علماء سے تحقیق کیا جاوے اور میرے خیال میں اگر صرف اعادۂِ قرآن کے حق میں سہولت کے لئے دوسرے قول پر عمل کرلے (جو دونوں شفعہ کو معتبر کہتے ہیں) تو گنجائش ہے، پس شفعہ تو ایک اور پڑھ لے اور قرآن کا اعادہ نہ کرے۔
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔