سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-390 Fatwa no: 1447-390

اگر کہا ’آپ کے گھر آیا تو طلاق‘ تو گھر بدلنے پر کیا طلاق واقع ہوگی؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنے دوست کے گھر گیا، وہاں گفتگو کے دوران کسی بات پر اختلاف ہوگیا، اختلاف کی حالت میں اس شخص نے کہا: ''اگر میں آپ کے گھر میں دوبارہ آیا تو میری بیوی کو سات طلاق ہیں''،اس کے بعد وہ شخص چار سال تک اس دوست کے اسی گھر میں نہیں گیا، البتہ اس دوران باہمی تعلقات اور گفتگو برقرار رہی، چار سال بعدوہ دوست دوسرے گھر میں منتقل ہوا اور یہ شخص اس نئے گھر میں اس کے پاس چلا گیا، دریافت طلب امر یہ ہے کہ: کیا اس نئے گھر میں جانے سے اس کی بیوی پر طلاقیں واقع ہوں گی یا نہیں؟شرعی رہنمائی فرما دیں، جزاکم اللہ خیراً۔جزاکم اللہ خیراً
جواب :

واضح رہے کہ عرف عام میں "آپ کے  گھر " سے مراد صرف مخصوص جگہ ہی نہیں ہوتی  ،بلکہ اصل  مقصود نسبت ہوتی ہے ، جیسا کہ درج ذیل حوالہ جات سے واضح ہے ، صورت ِ مسئولہ میں شخص ِ مذکور نے یہ الفاظ استعمال کئےہیں  کہ ''اگر میں آپ کے گھر میں دوبارہ آیا تو میری بیوی کو سات طلاق ہیں''لہذااگر یہ شخص  گھر تبدیل کرکے دوسری جگہ رہائش اختیار کرتا ہے تو بھی چونکہ عرف کے لحاظ سےاس نئے گھر کی نسبت اس شخص کی جانب ہوتی ہے   ، اس بنا پر نئے گھر میں جانا بھی اسی شرط کے تحت داخل ہوگا ، چنانچہ صورت ِ مسئولہ میں  اس نئے گھر میں جانے کی وجہ سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی ہے، اب دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے  نہیں رہ سکتے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کی کوئی گنجائش ہے الّا یہ کہ خاتون کسی دوسرے شخص سے شرعی نکاح کرے اور اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم ہو، پھر اگر وہ شوہر کسی وجہ سے طلاق دے دے یا فوت ہو جائےاور خاتون عدت پوری کر لے، تو اس کے بعد اگر وہ اپنی مرضی سے سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا جا سکتا ہے۔ 
درر الحكام شرح غرر الأحكام:
(حلف لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى) بدلالة العادة وهي أن الدار لا تعادى ولا تهجر لذاتها بل لبعض ساكنيها إلا أن السكنى قد تكون حقيقة وهو ظاهر وقد تكون دلالة بأن تكون الدار ملكا له فيتمكن من السكنى فيها فيحنث بالدخول في دار تكون ملكا لفلان فلا يكون هوساكنا فيها سواء كان غيره ساكنا فيها أو لا لقيام دليل السكنى التقديري وهو الملك صرح به في الخانية والظهيرية.
(باب حلف الفعل ،(2/ 47) دار إحياء الكتب العربية)
الدر المختارمع رد المحتار 
(حلف لا يدخل دار فلان ‌يراد ‌به ‌نسبة ‌السكنى إليه) عرفا ولو تبعا أو بإعارة باعتبار عموم المجاز ومعناه كون محل الحقيقة فردا من أفراد المجاز .
(قوله أو بإعارة) أي لا فرق بين كون السكنى بالملك أو بالإجارة أو العارية إلا إذا استعارها ليتخذ فيها وليمة فيدخلها الحالف فإنه لا يحنث كما في العمدة والوجه فيه ظاهر نهر أي لأنها ليست مسكنا له.
(‌‌باب اليمين في الدخول والخروج(3/ 760) دار الفكر - بيروت)
التلويح على التوضيح لمتن التنقيح:
(وكذا) أي من باب عموم المجاز قوله (لا يدخل في دار فلان ‌يراد ‌به ‌نسبة ‌السكنى) أي يراد بطريق المجاز بقوله دار فلان كون الدار منسوبة إلى فلان نسبة السكنى إما حقيقة وإما دلالة حتى لو كانت ملك فلان ولا يكون فلان ساكنا فيها يحنث بالدخول فيها (وهي تعم الملك والإجارة والعارية لا نسبة الملك حقيقة وغيرها مجازا) أي لا يراد نسبة الملك بطريق الحقيقة وغيرها أي الإجارة والعارية بطريق المجاز (حتى يلزم الجمع بينهما) أيبين الحقيقة والمجاز.
(فصل أنواع علاقات المجاز(1/ 167) دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب