نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ عرف عام میں "آپ کے گھر " سے مراد صرف مخصوص جگہ ہی نہیں ہوتی ،بلکہ اصل مقصود نسبت ہوتی ہے ، جیسا کہ درج ذیل حوالہ جات سے واضح ہے ، صورت ِ مسئولہ میں شخص ِ مذکور نے یہ الفاظ استعمال کئےہیں کہ ''اگر میں آپ کے گھر میں دوبارہ آیا تو میری بیوی کو سات طلاق ہیں''لہذااگر یہ شخص گھر تبدیل کرکے دوسری جگہ رہائش اختیار کرتا ہے تو بھی چونکہ عرف کے لحاظ سےاس نئے گھر کی نسبت اس شخص کی جانب ہوتی ہے ، اس بنا پر نئے گھر میں جانا بھی اسی شرط کے تحت داخل ہوگا ، چنانچہ صورت ِ مسئولہ میں اس نئے گھر میں جانے کی وجہ سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی ہے، اب دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے نہیں رہ سکتے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کی کوئی گنجائش ہے الّا یہ کہ خاتون کسی دوسرے شخص سے شرعی نکاح کرے اور اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم ہو، پھر اگر وہ شوہر کسی وجہ سے طلاق دے دے یا فوت ہو جائےاور خاتون عدت پوری کر لے، تو اس کے بعد اگر وہ اپنی مرضی سے سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا جا سکتا ہے۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام:
(حلف لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى) بدلالة العادة وهي أن الدار لا تعادى ولا تهجر لذاتها بل لبعض ساكنيها إلا أن السكنى قد تكون حقيقة وهو ظاهر وقد تكون دلالة بأن تكون الدار ملكا له فيتمكن من السكنى فيها فيحنث بالدخول في دار تكون ملكا لفلان فلا يكون هوساكنا فيها سواء كان غيره ساكنا فيها أو لا لقيام دليل السكنى التقديري وهو الملك صرح به في الخانية والظهيرية.
(باب حلف الفعل ،(2/ 47) دار إحياء الكتب العربية)
الدر المختارمع رد المحتار
(حلف لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى إليه) عرفا ولو تبعا أو بإعارة باعتبار عموم المجاز ومعناه كون محل الحقيقة فردا من أفراد المجاز .
(قوله أو بإعارة) أي لا فرق بين كون السكنى بالملك أو بالإجارة أو العارية إلا إذا استعارها ليتخذ فيها وليمة فيدخلها الحالف فإنه لا يحنث كما في العمدة والوجه فيه ظاهر نهر أي لأنها ليست مسكنا له.
(باب اليمين في الدخول والخروج(3/ 760) دار الفكر - بيروت)
التلويح على التوضيح لمتن التنقيح:
(وكذا) أي من باب عموم المجاز قوله (لا يدخل في دار فلان يراد به نسبة السكنى) أي يراد بطريق المجاز بقوله دار فلان كون الدار منسوبة إلى فلان نسبة السكنى إما حقيقة وإما دلالة حتى لو كانت ملك فلان ولا يكون فلان ساكنا فيها يحنث بالدخول فيها (وهي تعم الملك والإجارة والعارية لا نسبة الملك حقيقة وغيرها مجازا) أي لا يراد نسبة الملك بطريق الحقيقة وغيرها أي الإجارة والعارية بطريق المجاز (حتى يلزم الجمع بينهما) أيبين الحقيقة والمجاز.
(فصل أنواع علاقات المجاز(1/ 167) دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔