سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-391 Fatwa no: 1447-391

''اگر میں نے والد سے بات کی تو مسلمان نہیں رہوں گا '' کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی بیٹا غصے میں آکر اپنے والد سے یہ کہے "اگر میں نے آپ سے بات کی تو میں مسلمان نہیں رہوں گا"اور اگر بعد میں وہ والد سے بات کر لیتا ہے، جبکہ تاحال بات نہیں کی ، تو کیا اس سے ایمان پر اثر پڑے گا؟ اور اس صورت میں اس پر کوئی کفارہ لازم آئے گا یا نہیں؟ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں وضاحت فرما دیں ۔
جواب :

واضح رہے کہ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ نے صراحت کی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ الفاظ کہے: "اگر میں فلاں کام کروں گا تو کافر ہو جاؤں گا" یا "مسلمان نہیں رہوں گا"، اور پھر جان بوجھ کر وہ کام انجام دے، اس حال میں کہ وہ جانتا ہو اور یقین رکھتا ہو کہ ایسا کرنے سے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے گا، پھر بھی وہ یہ کام کر گزرے، تو شرعاً وہ شخص اسلام سے خارج شمار ہوگا، کیونکہ اس نے کفر کو جان بوجھ کر قبول کیا (لأن الإقدام عليها يكون رضا بالكفر)۔
البتہ اگر اس کا عقیدہ یہ نہ ہو کہ اس عمل سے کفر لازم آئے گا، بلکہ اس نے یہ بات محض قسم کے طور پر کہی ہواور بعد میں وہ عمل انجام دے، تو ایسی صورت میں وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا، لیکن اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، اور اس پر کفّارہ لازم آئے گا۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ بیٹے نے تاحال والد صاحب سے بات نہیں کی، لہٰذا اگر وہ والد صاحب سے بات کرنے سے پہلے یہ بات سمجھ لے کہ اس سے وہ کافر نہیں ہوگا اور پھر اس یقین کے ساتھ والد صاحب  سے بات کرے، تو شرعاً وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوگا، البتہ اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور اس پر کفّارہ واجب ہوگا ، تاہم  آئندہ ایسے الفاظ کہنے سے اجتناب کرنا اور صدقِ دل سے توبہ کرنا ضروری ہے۔
کفارہ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دس مسکینوں کودووقت کاکھاناپیٹ بھرکرکھلائےیادس مسکینوں کوکپڑاپہنادے یادس مسکینوں میں سے ہرمسکین کوپونے دوکلواوراحتیاطاً دوکلوگندم یاگندم کاخالص آٹایااس کی قیمت دیدےاوراگراس کی استطاعت نہ ہوتوتین دن مسلسل روزے رکھے۔ 
الدر المختار مع ردالمختار :
(و) القسم أيضا بقوله (إن فعل كذا فهو) يهودي أو نصراني أو فاشهدوا علي بالنصرانية أو شريك للكفار أو (كافر) فيكفر بحنثه لو في المستقبل، أما الماضي عالما بخلافه فغموس.
(قوله ‌فيكفر ‌بحنثه) أي تلزمه الكفارة إذا حنث إلحاقا له بتحريم الحلال، لأنه لما جعل الشرط علما على الكفر وقد اعتقده واجب الامتناع وأمكن القول بوجوبه لغيره جعلناه يمينا نهر
(‌‌كتاب الفرائض(3/ 717): دار الفكر - بيروت)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق:
قال رحمه الله (‌وكفارته ‌تحرير ‌رقبة ‌أو إطعام عشرة مساكين كهما في الظهار أو كسوتهم بما يستر عامة البدن) لقوله تعالى {فكفارته إطعام عشرة مساكين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو كسوتهم} [المائدة: 89] الآية. وكلمة أو للتخيير فكان الواجب أحد الأشياء الثلاثة .
(كتاب الأيمان ،(3/ 112) دار الكتاب الإسلامي)
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
(سئل) فيما إذا استغفر زيد من ذنبه وحلف بالله تعالى أن لا يفعله وإن فعله يكون دينه للكافر ثم فعله فهل عليه كفارة يمين أو لا وهل يكفر بذلك أو لا؟
(الجواب) : أما الحلف بالله تعالى ففيه كفارة يمين إذا فعل المحلوف عليه وأما تعليق الكفر بالشرط فيمين كما صرحوا به في كتاب الأيمان وأما الكفر فالأصح أنه لا يكفر إن كان عنده في اعتقاده أنه يمين وعليه كفارة اليمين وإن كان جاهلا وعنده أنه يكفر بمباشرة الشرط في المستقبل يكفر لرضاه بالكفر وعليه تجديد الإسلام والنكاح كما صرح بذلك في التنوير وشرحه والدرر والبحر وغيره وفي التجنيس والمزيد المختار للفتوى في جنس هذه المسائل ما اختاره شمس الأئمة السرخسي أن ينظر إن كان الحالف يعتقد أن بمثل هذا اليمين كاذبا كفرا يكفر وإلا فلا لأن الإقدام عليها يكون رضا بالكفر اهـ وفي المجتبى والذخيرة والفتوى على أنه ‌إن ‌اعتقد ‌الكفر ‌به يكفر وإلا فلا اهـ. وأفتى بذلك شيخ الإسلام علي أفندي.
(كتاب الأيمان والنذور(1/ 85) دار المعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب