سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-35 Fatwa no: 1447-35

ارادہ وقف ظاہر کرنے سے وقف تام نہیں ہوتا

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
مفتی صاحب میں ایک بیوہ ہو ں،میرے شوہر نے اپنی زندگی میں سات مرلہ کی جگہ لی،جسے انہوں نے الامین انسٹیوٹ کا نام دیا اور خواہش کی کہ اس ادارے کو وہ اپنے والدین کے ایصال ثواب کے لئے عربی زبان اور قرآن کریم کے لئے وقف کریں گے،وہ ایک رائیٹر بھی تھے ،لہذا انہوں نے اپنی ایک کتاب "تاریخ آثار مدینہ منورہ" جس کا دوسرا ایڈیشن نومبر 2022ء میں شائع ہوا، اس کتاب کے آخری صفحہ پر انہوں نے لکھا ہے کہ گائیڈنس پبلیکیشنز  کی مطبوعہ کتب کا منافع الامین انسٹیوٹ برائے تدریس عربی زبان وقرآن کریم کے لئے وقف ہے(اس کتاب کے پہلے ایڈیشن کے وقت یہ ادارہ نہیں تھا)۔ میرے شوہر نے الامین انسٹیوٹ میں اپنا آفس بھی بنالیا تھا اور عربی بھی پڑھانا شروع کردی تھی،میرے شوہر کی وفات یکم مارچ 2022ء میں ہوئی، ان کی وفات کے بعد میری اور میرے بچوں کی آمدنی کا سلسلہ ختم ہوگیا،مجھے اب اپنے بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات کے لئےآمدنی چاہئے تھی،لہذا میں نے الامین انسٹیوٹ  15 مارچ2022ء کو کرائے پر دےدیا،اس انسٹیوٹ کی رجسٹری میرے شوہر نے میرے نام کروائی تھی اور رجسٹری میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی کہ یہ گھر یا ادارہ کسی بھی دینی کام کے لئے وقف ہے یا وقف ہوگا۔
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس گھر کو کرائے پر چڑھانا اور اس کا کرایہ استعمال کرنا میرے لئے صحیح ہے ؟اور کتابیں سیل (sale) ہوئیں ،تو اس کتاب کے منافع کو میں استعمال کرسکتی ہوں یا نہیں؟

جواب :

واضح رہے وقف کرنے کے لئے لفظ وقف یا کوئی بھی ایسا لفظ کہنا ضروری  ہے جو وقف کے معنی ومقصود پر دلالت کرتا ہو ،محض ارادہ وقف کرنے سے وقف تام نہیں ہوتا،لہذا صورت مسئولہ میں صرف ارادہ وقف اور خواہش ظاہر کرکے مذکورہ جائیدادمیں اپنا آفس بنانا اور اس میں عربی پڑھانا شروع کرنے سے مذکورہ جائیداد (گھر) وقف نہیں ہوا ہے ،اس لئے ورثاء آپ کے لئے اپنی ضروریات کی خاطر اس گھر کو کرایہ پر دینا اور اس کا کرایہ استعمال کرنا جائز ہے،البتہ  کتابوں کے منافع چونکہ مرحوم نے صراحۃ وقف کئے ہیں ،اسلئے آپ کے لئے کتاب کے منافع استعمال کرنا شرعا جائز نہیں ۔
كما في صحيح البخاري:
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ الأَشْعَثِ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ ثَمْغٌ وَكَانَ نَخْلًا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي اسْتَفَدْتُ مَالًا وَهُوَ عِنْدِي نَفِيسٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقْ بِأَصْلِهِ، لاَ يُبَاعُ وَلاَ يُوهَبُ وَلاَ يُورَثُ، وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ»، فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ، فَصَدَقَتُهُ تِلْكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِي الرِّقَابِ وَالمَسَاكِينِ وَالضَّيْفِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَلِذِي القُرْبَى، وَلاَ جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُوكِلَ صَدِيقَهُ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ بِهِ.
(باب وما للوصي أن يعمل في مال اليتيم،حديث2764،ج4،ص10،ط: دار طوق النجاة)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
(وَرُكْنُهُ الْأَلْفَاظُ الْخَاصَّةُ كَ) أَرْضِي هَذِهِ (صَدَقَةٌ مَوْقُوفَةٌ مُؤَبَّدَةٌ عَلَى الْمَسَاكِينِ وَنَحْوِهِ) مِنْ الْأَلْفَاظِ 
كَمَوْقُوفَةٍ لِلَّهِ تَعَالَى أَوْ عَلَى وَجْهِ الْخَيْرِ أَوْ الْبِرِّ وَاكْتَفَى أَبُو يُوسُفَ بِلَفْظِ مَوْقُوفَةٍ فَقَطْ قَالَ الشَّهِيدُ وَنَحْنُ نُفْتِي بِهِ لِلْعُرْفِ.
(كتاب الوقف،ج4،ص340،ط:دارالفكر)
وفى النهر الفائق:
وركنه الألفاظ الخاصة كأرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة على المساكين ولا خلاف في ثبوته بهذا بحيث توفرت الشروط وفي قوله موقوفة فقط لا يصح إلا على قول الثاني ورده هلال بأن الوقف يكون على الغني أيضاً ولم يعين فبطل.
لكن قال الشهيد: مشايخ بلخ يفتون بقول أبي يوسف ونحن نفتي به أيضاً للعرف.
(كتاب الوقف،ج3،ص313،ط: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب