سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-393 Fatwa no: 1447-393

اہل و عیال کو وطنِ اصلی سے منتقل کرنے کے بعد واپسی پر قصریا اتمام کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں مانسہرہ شہر میں ملازم ہوں، اور یہی میرا وطنِ اصلی بھی ہے،اب میں نے اسلام آباد میں گھر بنا کر اپنی بیوی اور بچوں کو وہاں مستقل رہائش کے لیے منتقل کر دیا ہے، لیکن میرا خود وہاں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں، البتہ ممکن ہے کہ 6 یا 7 سال بعد وہاں مستقل منتقل ہونے کا ارادہ بن جائے،فی الحال میں مانسہرہ میں ہی رہتا ہوں، اور اسلام آباد مہینے میں ایک دو بار ایک دو دن کے لیے آتا ہوں، نہ اب تک وہاں 15 دن متواتر قیام کیا ہے اور نہ اس کا ارادہ ہے،اس صورت میں پوچھنا یہ ہے کہ میرے لیے اسلام آباد میں قیام کی صورت میں قصر نماز کا حکم ہوگا یا اتمام کا؟ اور میری بیوی اور بچے اگر مانسہرہ آئیں، تو ان کے لیے مانسہرہ میں قصر کا حکم ہوگا یا اتمام کا؟ واضح و مفصل رہنمائی فرما دیں۔
جواب :

اصل جواب سے پہلے بطور تمہید یہ سمجھنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ  اگر کوئی شخص اپنے اہل و عیال کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر مستقل طور پر منتقل کر دے اور سابقہ مقام پر جائیداد یا مکانات باقی ہوں، تو کیا وہ سابقہ جگہ اس کے لیے وطنِ اصلی رہے گی یا نہیں؟  اس بارے میں فقہاء کے دو اقوال ہیں، جیسا کہ رد المحتار میں ہے:  "ولو نقل أهله ومتاعه، وله دور في البلد، لا تبقى وطناً له، وقيل: تبقى"  یعنی اگر اہل و اسباب منتقل کر دیے جائیں اور پرانے مقام پر صرف مکانات باقی ہوں، تو ایک قول کے مطابق وہ وطنِ اصلی باقی نہیں رہتا، اور دوسرے قول کے مطابق باقی رہتا ہےتاہم الکفایۃ  میں دوسرے قول (کہ سابقہ وطن بدستور وطن اصلی رہتا ہے ) کی یہ توجیہ کی گئی ہے:  "أنه محمول على ما إذا عزم على إبقائه وطناً"  یعنی جب اس جگہ کو بطورِ وطن باقی رکھنے کا ارادہ بھی موجود ہو،اسی توجیہ کو حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے امداد الفتاویٰ (1/460) میں ترجیح دی ہے،لہٰذا صرف جائیداد یا مکانات کی موجودگی وطنِ اصلی کے لیے کافی نہیں، جب تک اس کو بطورِ وطن باقی رکھنے کا ارادہ موجود نہ ہو۔
اس تمہید کے بعد صورتِ مسئولہ کا حکم یہ ہے  کہ  چونکہ آپ کے اہلِ و عیال نے اسلام آباد میں بطورِ وطن مستقل رہائش اختیار کرلی ہے، اس لیے اسلام آباد آپ کے لیے بھی شرعاً وطنِ اصلی کے حکم میں ہے، اگرچہ آپ کا فی الحال وہاں مستقل قیام کا ارادہ نہ ہو، کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو کسی جگہ مستقل طور پر سکونت کے لیے رکھے، تو وہ جگہ خود شوہر کے لیے بھی وطنِ اصلی کے حکم میں ہوگی(حتى أنه لو خرج مسافرا من بلدة فيها أهله ودخل في أي بلدة من البلاد التي فيها أهله فيصير مقيما من غير نية الإقامة، بدائع)کیونکہ یہ شوہر کے حق  سکونتِ عملی شمار ہوتی ہے؛ لہٰذا اس صورت میں شوہر کی نیتِ عدمِ سکونت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا (مستفاد من: امداد الاحکام، ۱/۶۹۷، ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)لہٰذا جب بھی آپ اسلام آباد آئیں، چاہے چند دنوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو، آپ پر اتمام یعنی نماز مکمل پڑھنا لازم ہوگا۔ جہاں تک آپ کے آبائی وطن (مانسہرہ) میں بیوی بچوں کے قصر و اتمام کا تعلق ہے، تو اس میں  تفصیل یہ ہے کہ اگر آپ نے مانسہرہ میں آئندہ بطورِ وطن مستقل رہائش کا ارادہ بالکل ترک کر دیا ہو ، تو ایسی صورت میں مانسہرہ آپ کے لیے وطنِ اصلی نہیں رہے گا، چاہے وہاں جائیداد یا مکانات موجود ہوں، کیونکہ محض جائیداد کی وجہ سے  وطنِ اصلی کا حکم ثابت نہیں ہوتا، (کما مر)لہٰذا جب بھی آپ کی بیوی یا بچے مانسہرہ جائیں اور وہاں پندرہ دن سے کم قیام کا ارادہ ہو تو وہ شرعاً مسافر شمار ہوں گے اور نماز قصر کریں گے، البتہ چونکہ آپ مانسہرہ میں ملازمت کی وجہ سے مقیم ہیں اور فی الحال وہاں سے ترکِ سکونت کا ارادہ بھی نہیں اس لئے آپ کو وہاں اتمام کرنا لازم ہوگا ۔ البتہ  اگر آئندہ آبائی وطن مانسہرہ  میں  بطورِ وطن رہائش باقی رکھنے کا ارادہ باقی ہو، تو وہ بدستور وطنِ اصلی شمار ہوگا، ایسی صورت میں اسلام آباد اور مانسہرہ دونوں آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کےلئے وطنِ اصلی ہوں گےاور ان دونوں جگہوں میں نماز پوری ادا کرنا لازم ہوگا۔
الکفاية مع فتح القدیر، کتاب الصلاة، باب صلاةالمسافر، مکتبة رشيدية(۲/۱۳):
وفي المحیط: ولو انتقل بأهله ومتاعه إلی بلد وبقي له دور وعقار في الأول، قیل بقي الأول وطنًا له وإليه أشار محمد رحمه الله في الکتاب حیث قال: باع داره ونقل عیاله، وقیل لم یبق  وفي الأجناس قال هشام: سألت محمدًا عن کوفي أوطن بغداد وله بالكوفة دارا واختار الي مكة القصر، قال محمد رحمه الله هذا حالي وانا اري القصر ان نوي ترك وطنه ؛ إلا أن أبا یوسف رحمه الله کان یتم بها لکنه یحمل علی أنه لم ینو ترک وطنه قال الشیخ نجم الدین الزاهدي رحمه الله: وهذا جواب واقعة ابتلینا به  وکثیر من المسلمین المتوطنین في البلاد ولهم دور وعقار في القریٰ البعيدة منها یصیفون بها باهلهم  ومتاعهم فلا بد من حفظهما أنهما وطنان له لایبطل أحدهما بالآخر. 
غنية المتملي في شرح منية المصلي المعروف بحلبيي كبير(3/78)ط: دارالعلوم ديوبند:
فالأصلي وهو مولد الإنسان أو موضع تأهل به ومن قصده التعيش به لا الارتحال عنه.... وفي المبسوطه هو الذي نشأ فيه أو توطن فيه أو تأهل، فقوله :أو ’’توطن فيه ‘‘يتناول ما عزم القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فعلى هذا لو عزم من له أبوان في بلد على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله يكون وطنا له.
ولو تزوج المسافر ببلد ولم ينو الإقامة به، فقيل: لا يصير مقيما، وقيل يصير مقيما وهو الأوجه لما مر من حديث عثمان ولو كان له أهل ببلدتين فايتهما دخلها صار مقيما.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 135):
(‌الوطن ‌الأصلي) ‌هو ‌المسكن أراد به الأعم من أن يكون بنفسه فقط ولا عيال له أو بأهله كأن تأهل فيه ومن قصده التعيش لا الارتحال وكذا محل مولده وطن أصلي وهذا الوطن وطن القرار.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 103):
ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نية أهله الخروج منها، وإن كان هو ينتقل من أهل إلى أهل في السنة، حتى أنه لو خرج مسافرا من بلدة فيها أهله ودخل في أي بلدة من البلاد التي فيها أهله فيصير مقيما من غير نية الإقامة ........................................... والله تعالي اعلم بالصواب

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب