نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ اجارہ کے صحیح ہونے کے لیے فقہی اصول ہے کہ (يجب أن تكون المنفعة التي يعقد عليها في الإجارة مقصودة في الشرع ونظرالعقلاء.) یعنی جس منفعت پر عقدِ اجارہ کیا جائے، وہ منفعت مقصودہ ہو، یعنی وہ منفعت واقعۃً عرف وعادت میں معتبر اور مطلوب ہو، صرف مستاجر کے لیے کسی منفعت کا مقصود ہونا اجارے کے صحیح ہونے کے لیے کافی نہیں ، لہٰذا اگر اجارے میں منفعت مقصودہ نہ ہو بلکہ غیر مقصودہ ہو، تو ایسا اجارہ شرعاً صحیح نہیں ،بلکہ فاسد ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ منفعتِ مقصودہ ہونا کیوں ضروری ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اجارہ تعامل الناس کی وجہ سے ضرورتاً خلافِ قیاس ثابت ہے اور جو چیز خلاف قیاس ثابت ہو وہ اپنے مورد میں منحصر ہوتی ہے اور اجارہ صرف اس صورت میں ثابت ہے جہاں تعامل ہو ، جہاں تعامل نہ ہو، وہاں اجارہ جائز نہیں ہوتا،(لأن أصل الإجارة مقتضى القياس فيها البطلان، إلا أن الشرع أجازها للحاجة فيما فيه تعامل، ولا تعامل في إجارة الأشجار المجردة فلا يجوز( فتح القدير و ردالمختار) اور کسی منفعت پر تعامل کا نہ ہونا اس کے غیر مقصودہ ہونے کی دلیل ہے، اسی بنیاد پر فقہاء نے اصولاً یہ بات ذکر کی ہے کہ جس منفعت پر تعامل نہ ہو، اس پر اجارہ کرنا درست نہیں،فقہاء کرام نے اس کی کئی مثالیں بھی بیان کی ہیں، مثلاً:
اگر کوئی شخص کسی گھوڑے کو صرف اس نیت سے کرایہ پر لیتا ہے کہ اسے گھر کے سامنے باندھ دے تاکہ لوگ اُسے مالدار سمجھیں، تو ایسا اجارہ شرعاً فاسد ہے، کیونکہ یہ کوئی عرفی منفعتِ مقصودہ نہیں۔
اسی طرح درختوں کو صرف کپڑے سکھانے کے لیے اجاره پر لینے كو بھی فقہاء نے ناجائز قرار دیا ہے (مزید مثالیں حوالہ جات میں ملاحظ فرمائیں )۔
لہٰذا مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں، سوال میں ذکر کردہ اجارہ شرعاً جائز معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ دنبوں کو اس طرح اجارہ پر لینا کہ صرف فریقِ ثانی یہ دیکھ کر سمجھے کہ یہ اپنے دنبے لے کر آیا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ اسے معاف کر دے، تو یہ کوئی ایسی منفعتِ مقصودہ نہیں جس پر عقدِ اجارہ کیا جا سکے، لہٰذا اجارہ کی مذکورہ صورت درست نہیں، اور دنبوں کے مالک کے لیے اس پر اجرت لینا جائز نہیں ، اس سے اجتناب ضروری ہے۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
يجب أن تكون المنفعة التي يعقد عليها في الإجارة مقصودة في الشرع ونظر العقلاء. فلو استأجر إنسان حصانا ليربطه أمام داره، أو ليجنبه، أو استأجر ثيابا ليضعها في بيته ليظن الناس أن له حصانا، أو ثيابا نفيسة ليراها الناس ويظهر بها بمظهر الأغنياء فالإجارة فاسدة ولا تجب الأجرة فيها؛ لأنها منفعة غير مقصودة من العين في الشرع ونظر العقلاء. ولا يكفي لصحة الإجارة أن تكون المنفعة مقصودة للمستأجر، بل لا بد أن يكون فيها منفعة مقصودة في الشرع ونظر العقلاء.
والإجارة وإن كانت تجب باستعمال المأجور في الإجارة الفاسدة إلا أنه لا بد لذلك من أن تكون تلك الإجارة معقودة على ما فيه منفعة مقصودة، فاستئجار التفاح للشم والحلي لوضعها في محل منظور من البيت فاسد إلا أنه يجوز استعارة الحلي للتزين بها وهذا ما تختلف به الإعارة عن الإجارة فالإعارة فيه جائزة والإجارة فاسدة.
((المادة 405) الإجارة في اللغة (1/ 441) دار الجيل،)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
والمراد من المنفعة المنفعة المقصودة من العين حتى لو استأجر ثيابا ليبسطها ولا يقعد عليها ولا ينام أو دابة ليربطها في فنائه ويظن الناس أنها له أو ليجعلها جنيبة بين يديه أو آنية يضعها في بيته يتجمل بها ولا يستعملها أو دارا لا يسكنها لكن يظن الناس أنها له ملكا أو عبدا على أن لا يستخدمه أو دراهم يضعها فالإجارة في جميع ذلك فاسدة ولا أجرة له كذا في الخلاصة من الجنس الثالث في الدواب وعلل البزازي في فتاويه بأنها منفعة غير مقصودة من العين.
(كتاب الإجارة (7/ 298) دار الكتاب الإسلامي)
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار»:
وشرعا: (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثياباأو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالاجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لانها منفعة غير مقصودة من العين.
(كتاب الاجارة ،(ص569) دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔