سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-395 Fatwa no: 1447-395

"ايك دو تين آپ مجھ پر طلاق ہے" کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ایک دو تین آپ مجھ پر طلاق ہے اس طرح کہنے سے کتنی طلاقیں واقع ہو گی؟ ہمارے علاقہ کے علمائے کرام اس میں دو مختلف رائے رکھتے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ ایک دو تین لغو ہے اور اگلے جملہ سے ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی، دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ مابعد والا جملہ کہ آپ مجھ پر طلاق ہے ماقبل ایک دو تین کے لیے صفت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، لہذا تین طلاقیں واقع ہو جائے گی ،اب اس کے بارے میں آپ کی رائے درکار ہے کہ مذکورہ بالا جملہ سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟بینوا توجروا
جواب :

واضح رہےكہ سوال میں ذکرکردہ الفاظ سے ایک طلاق یا  تین طلاق   کے واقع ہونے میں "دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ سوہان  "کے نزدیک تفصیل یہ ہے کہ" ایک، دو، تین" محض عدد کیلے استعمال کئے جاتے ہیں،  جب ان الفاظ کے ساتھ  طلاق کا لفظ ایک ہی جملہ میں واقع ہو ، دونوں کے درمیان سکوت یا کلام اجنبی  کا فصل نہ ہو اور عدد سے  مقصود طلاق کی گنتی ہو، یعنی اعداد، طلاق کے لئے تمیز واقع ہوں   تو بیان کردہ  عدد کے مطابق صریح طلاق واقع ہو جاتی ہے،مثلاً : شوہر  بیوی سے کہے کہ "میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں "  اس سے تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی کیونکہ اس صورت میں طلاق عدد کے لئے تمییز واقع ہے اور عدد اور معدود مىں اتصال بھى ہے ۔لیکن اگر ذکرکردہ تفصیل کے مطابق اعداد اور اس كے مابعد  کا آپس میں ربط  نہ ہو تو پھر طلاق کے وقوع یا عدم وقوع میں  عدد کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا ، لہذا  سوال میں بیان کردہ الفاظ " ایک دو تین، آپ مجھ پر  طلاق ہے“ کے در حقیقت دوحصے ہیں، ان میں سے دوسرا حصہ ” تجھے طلاق ہے “ اس کے پہلے حصہ "ایک دو تین" کا  معدود بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا،کیونکہ  یہ ایک مستقل جملہ ہے،  جس كی وجہ سے مذکورہ اعداد کا کوئی اعتبار نہیں ہے ، لہٰذا صورت مسئولہ میں کلام کے پہلے حصہ یعنی مذکورہ اعداد" ایک، دو، تین " کے اعداد بلا اضافت کہنے سے ان اعداد سے کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی، البتہ چونکہ کلام کادوسرا جملہ تجھے طلاق ہے “ طلاق کے  صریح الفاظ پر مشتمل ہے، لہٰذا نیت نہ ہونے کی صورت میں بھی اس جملہ سے ایک طلاق رجعی واقع ہو جائیگی۔
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ صرف اس بنیاد پر تین طلاق کا حکم نہیں لگایا جاسکتاہے کہ شوہر نے یہ الفاظ( ایک، دو، تین)  صراحتاً  کہے ہیں کیونکہ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق   لفظِ طلاق  اس کے لئے معدود بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، البتہ چونکہ اس جملہ میں لفظ ِ "طلاق" استعمال کیا گیا ہے جو کہ مصدر ہے ، اور مصدر میں تین طلاق کی نیت معتبر ہے، لہذا   اگر شوہر کی نیت تین طلاق کی ہوتو اس نیت کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی ۔
اسی طرح اگر کسی علاقہ کے عرف میں ان الفاظ سے تین طلاق سمجھی جاتی ہوں تو شوہر کی نیت کے بغیر بھی تین طلاقیں واقع ہو جائیگی ،الاّ  یہ کہ شوہر یہ دعویٰ کرے کہ اس کی نیت تین طلاق کی نہیں تھی تو ایسی صورت میں شوہر کے حلفیہ بیان کے ساتھ اس کا دعویٰ معتبر ہوگا۔
الدرالمختار مع رد المحتار:
(والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عن ذكر العدد، وعند عدمه الوقوع بالصيغة. (فلو ماتت) يعم الموطوءة وغيرها (بعد الإيقاع قبل) تمام (العدد لغا) 
وفي رد المختار : ولا بد من اتصاله بالإيقاع، ‌ولا ‌يضر ‌انقطاع ‌النفس فلو قال: أنت طالق وسكت ثم قال ثلاثا فواحدة، ولو انقطع النفس أو أخذ إنسان فمه ثم قال ثلاثا على الفور فثلاث، ولو قال لغير المدخولة: أنت طالق يا فاطمة أو يا زينب ثلاثا وقعن؛ ولو قال: أنت طالق اشهدوا ثلاثا فواحدة، ولو قال: فاشهدوا فثلاث، وكذا في الظهيرية اهـ.
قلت: وحاصله أن انقطاع النفس وإمساك الفم لا يقطع الاتصال بين الطلاق وعدده، وكذا النداء لأنه لتعيين المخاطبة، وكذا عطف فاشهدوا بالفاء لأنها تعلق ما بعدها بما قبلها فصار الكل كلاما واحدا
) مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به (3/ 287)ط: دار الفكر - بيروت)
المحيط البرهاني (3/ 223):
رجل قال لامرأته: ترا طلاق أو قال دادمت طلاق ونوى الثلاث يصح وتقع الثلاث بخلاف ما إذا قال لها: أنت طالق ونوى الثلاث؛ لأن قوله طالق نعت فرد ونعت الفرد لا يحتمل العدد وأما ‌الطلاق ‌مصدر ‌والمصادر أسماء الأجناس واسم الجنس يتناول الأدنى ويحتمل الكل فعند انعدام البينة تنصرف إلى الواحدة وإذا نوى الثلاث فقد نوى ما يحتمله لفضله.
) الفصل الرابع: فيما يرجع إلى صريح الطلاق (3/ 223) (دار الكتب العلمية)
الدرالمختار مع رد المحتار:
«(قوله ‌وركنه ‌لفظ ‌مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.
وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي.
(ركن الطلاق (3/ 230)ط: دار الفكر – بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب