سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-396 Fatwa no: 1447-396

ایک بيوہ اور تین بیٹوں کے درمیان تقسیم ِ میراث

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص، جس کا نام محمد علیم ہے، اور اس کی تین بیویاں تھیں، اور ہر بیوی سے ایک ایک بیٹا ہے۔ بڑی بیوی کا بیٹا محمد سالم، دوسری بیوی کا بیٹا محمد افضل، اور تیسری بیوی کا بیٹا محمد یعقوب ہے،محمد سالم اور محمد افضل کی مائیں محمد علیم صاحب کی زندگی ہی میں فوت ہو چکی تھیں، اور محمد یعقوب کی والدہ اپنے شوہر محمد علیم صاحب کے انتقال کے وقت حیات تھیں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ محمد علیم صاحب کی ملکیت میں 300 کنال زمین تھی۔ اب تقسیمِ وراثت کا مسئلہ درپیش ہے کہ اس زمین کی تقسیم کس طرح ہوگی، اور ہر ایک وارث کے حصے میں کتنی زمین آئے گی؟واضح رہے کہ مرحوم کے انتقال سے پہلے مرحوم کے والدین، دادا، دادی اور نانی، نیز دو بیویاں انتقال کر چکی تھیں، اور مرحوم کی صرف نرینہ اولاد تھی، کوئی بیٹی نہیں تھی۔شکریہ
جواب :

مرحوم محمد علیم  نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ 300 کنال سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال وجائیداد ،مکان، دوکان ،پلاٹ، سونا، چاندی، نقد رقم، مالِ تجارت، کپڑ ے، برتن، اورجوکچھ چھوٹا بڑا  سازوسامان چھوڑا ہے یامرحوم کاکسی کےذمےکوئی قرض واجب الاداہے، وہ سب اُن کا ترکہ ہے، اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں، تاہم اگر کسی نے یہ اخراجات بطورِ احسان ادا کر دئیے ہوں تو مرحوم کے ترکہ سے یہ اخراجات نہ نکالے جائیں،پھر دیکھیں اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض واجبُ الاداء ہو یا بیویوں میں سے کسی کا حق مہر ادا نہ کیا ہو  تو اسے ادا کریں،پھردیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (۳/۱) مال کی حد تک اس وصیت پرعمل کریں، اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کے کل چوبیس  (24) برابر حصے کر کے بیوہ کو ثمن یعنی تین حصے (مذكوره تين سو كنال زمىن مىں سے ساڑھے سىنتيس كنال) اور بيٹوں میں سے ہر ایک کو سات سات(7)حصے(مذكوره تين سو كنال زمىن مىں سے ساڑھے ستاسى كنال) دےدیں۔
السراجى في الميراث  :
قال علماؤنا:تتعلق بترکة المیت حقوق اربعة مرتبة:الاول:یبدأبتکفینه وتجهيزه
 من غير تبذير ولاتقتير،ثم تقضي ديونه من جميع مابقي من ماله،ثم تقضي ديونه من جميع ما بقي من بعد الدين،ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة واجماع الامة
(ص 05 المكتبة البشرى)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب