نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمرحوم محمد علیم نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں مذکورہ 300 کنال سمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال وجائیداد ،مکان، دوکان ،پلاٹ، سونا، چاندی، نقد رقم، مالِ تجارت، کپڑ ے، برتن، اورجوکچھ چھوٹا بڑا سازوسامان چھوڑا ہے یامرحوم کاکسی کےذمےکوئی قرض واجب الاداہے، وہ سب اُن کا ترکہ ہے، اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں، تاہم اگر کسی نے یہ اخراجات بطورِ احسان ادا کر دئیے ہوں تو مرحوم کے ترکہ سے یہ اخراجات نہ نکالے جائیں،پھر دیکھیں اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض واجبُ الاداء ہو یا بیویوں میں سے کسی کا حق مہر ادا نہ کیا ہو تو اسے ادا کریں،پھردیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (۳/۱) مال کی حد تک اس وصیت پرعمل کریں، اس کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس کے کل چوبیس (24) برابر حصے کر کے بیوہ کو ثمن یعنی تین حصے (مذكوره تين سو كنال زمىن مىں سے ساڑھے سىنتيس كنال) اور بيٹوں میں سے ہر ایک کو سات سات(7)حصے(مذكوره تين سو كنال زمىن مىں سے ساڑھے ستاسى كنال) دےدیں۔
السراجى في الميراث :
قال علماؤنا:تتعلق بترکة المیت حقوق اربعة مرتبة:الاول:یبدأبتکفینه وتجهيزه
من غير تبذير ولاتقتير،ثم تقضي ديونه من جميع مابقي من ماله،ثم تقضي ديونه من جميع ما بقي من بعد الدين،ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة واجماع الامة
(ص 05 المكتبة البشرى)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔