نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورتِ مسئولہ میں، حقوقِ متقدمہ علی المیراث (جیسے: تجہیز و تکفین، قرض، وصیت وغیرہ) کی ادائیگی کے بعد، مرحومین کے انتقال کے وقت ان کی زرخرید زمین میں موجود حصہ سمیت، ان کی ملکیت میں موجود تمام منقولہ و غیر منقولہ املاک و سامان، سب ان کا ترکہ شمار ہوگا،اس کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ اگر مرحومین کے انتقال کے وقت ان کی حقیقی والدہ حیات تھیں، یا ان کی وفات کی صورت میں دادی یا نانی میں سے کوئی ایک بھی زندہ تھیں، تو انہیں چھٹا حصہ (1/6) یا جائے گا، اور باقی تمام ترکہ والد (محمد دین) کو ملے گااور اگر والدہ، دادی اور نانی میں سے کوئی بھی حیات نہ تھیں، تو پورا ترکہ والد(محمد دین) کو دیا جائے گا ،بہن بھائیوں کا اس ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
حاشية ابن عابدين:
الثالثة: أن بني الأعيان والعلات كلهم يسقطون مع الأب إجماعا ويسقطون مع الجد عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - لا عندهما.
(كتاب الفرائض (6/ 770) دار الفكر - بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔