سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-397 Fatwa no: 1447-397

باپ كی موجودگی میں بہن بھائی میراث سے محروم ہوں گے

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ محمد دین کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ ان چار بیٹوں کی اپنی زرخرید زمین تھی۔ ان میں سے ایک بیٹے کا انتقال 1973ء میں اور دوسرے کا 1982ء میں ہوگیا، جب کہ اس وقت والد (محمد دین) حیات تھے۔ دونوں فوت شدہ بیٹے کنوارے تھے، ان کی کوئی اولاد نہیں تھی ، بعد میں محمد دین نے دوسری شادی کی، جس سے اس کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہوئی ، اب سوال یہ ہے کہ ان دو کنوارے مرنے والے بیٹوں کی زرخرید زمین (جو ان کی ملکیت تھی) ان کی وفات کے بعد ان کے حقیقی بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگی یا والد (محمد دین) پر؟ برائے کرم قرآن و سنت کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں، حقوقِ متقدمہ علی المیراث (جیسے: تجہیز و تکفین، قرض، وصیت وغیرہ) کی ادائیگی کے بعد، مرحومین کے انتقال کے وقت ان کی زرخرید زمین میں موجود حصہ سمیت، ان کی ملکیت میں موجود تمام منقولہ و غیر منقولہ املاک و سامان، سب ان کا ترکہ شمار ہوگا،اس کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہوگا  کہ اگر مرحومین کے انتقال کے وقت ان کی حقیقی والدہ حیات تھیں، یا ان کی وفات کی صورت  میں دادی یا نانی میں سے کوئی ایک بھی زندہ تھیں، تو انہیں چھٹا حصہ (1/6) یا جائے گا، اور باقی تمام ترکہ والد (محمد دین) کو ملے گااور اگر والدہ، دادی اور نانی میں سے کوئی بھی حیات نہ تھیں، تو پورا ترکہ والد(محمد دین)  کو دیا جائے گا ،بہن بھائیوں کا اس ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
حاشية ابن عابدين:
الثالثة: أن بني الأعيان ‌والعلات ‌كلهم ‌يسقطون مع الأب إجماعا ويسقطون مع الجد عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - لا عندهما.
 (‌‌كتاب الفرائض (6/ 770) دار الفكر - بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب