سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-398 Fatwa no: 1447-398

بحالتِ اکراہ روزہ توڑنے کی صورت میں قضاء و کفارہ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی ہے جو پہلی مرتبہ بالغ ہوئی تھی اور پہلے رمضان المبارک کے روزے رکھ رہی تھی، اس کے والد اور بھائی کو اس کے بالغ ہونے کا علم نہیں تھا، انہوں نے یہ سمجھ کر کہ وہ ابھی نابالغ ہے،اس سے کہا کہ آپ کام کاج سے اپنے آپ کو بچانے کی خاطر روزہ رکھ رہی ہے روزہ توڑ دو، لڑکی نے روزہ توڑنے سے انکار کیا اور بات ٹالنے کی بھرپور کوشش کی، البتہ لڑکی شرم و حیاء کی وجہ سے اپنے والد اور بھائی کو صاف صاف یہ نہیں بتا سکی کہ وہ بالغ ہوچکی ہے اور اس پر روزے فرض ہو چکے ہیں، تاہم بھائی نے دو تین تھپڑ مارے اور زبردستی روزہ توڑنے پر مجبور کیا،اور لڑکی نے ڈر کے مارے روزہ توڑ دیا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ: کیا اس لڑکی پر فقط قضا لازم ہے یا کفارہ بھی لازم ہے؟
جواب :

سوال میں ذکر کردہ صورتحال کے مطابق اگر واقعۃً  بھائی نے بہن کو زبردستی روزہ توڑنے پر مجبور کیاتھا، جس کی وجہ سے اس نے روزہ توڑ دیا، تو اس صورت میں اس پر صرف قضاءلازم ہے،  کفارہ لازم نہیں ، باقی بھائی اور والد کے لئے بہن یا بیٹی کو روزہ رکھنے پر ملامت کرنا،  ڈانٹنا  اور مارنا بالکل ناجائز اور زیادتی ہے ، آئندہ اس قسم کے فعل سے اجتناب ضروری ہے۔ 
الفتاوى العالمكيرية:
لو أكل مكرها أو ‌مخطئا ‌عليه ‌القضاء دون الكفارة كذا في فتاوى قاضي خان.
 (‌‌النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة،(1/ 202) دار الفكر بيروت)
الفتاوي التاتارخانية:
وفي الفتاوي العتابية :ولو اكره علي الأكل لايلزمه الكفارة .
(الفصل الخامس في وجوب الكفارة في افساد الصوم ،(3/393)مکتبة اعزازيه)
حاشية ابن عابدين:
(قوله: أو أوجر مكرها) أي صب في حلقه شيء والإيجار غير قيد فلو أسقط قوله أوجر وأبقى قول المتن أو مكرها معطوفا على قوله خطأ لكان أولى ليشمل ما لو أكل أو شرب بنفسه مكرها فإنه يفسد صومه خلافا لزفر والشافعي، كما في البدائع وليشمل الإفطار بالإكراه على الجماع قال في الفتح.
(‌‌باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده (2/ 401) دار الفكر - بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب