نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںسوال میں ذکر کردہ صورتحال کے مطابق اگر واقعۃً بھائی نے بہن کو زبردستی روزہ توڑنے پر مجبور کیاتھا، جس کی وجہ سے اس نے روزہ توڑ دیا، تو اس صورت میں اس پر صرف قضاءلازم ہے، کفارہ لازم نہیں ، باقی بھائی اور والد کے لئے بہن یا بیٹی کو روزہ رکھنے پر ملامت کرنا، ڈانٹنا اور مارنا بالکل ناجائز اور زیادتی ہے ، آئندہ اس قسم کے فعل سے اجتناب ضروری ہے۔
الفتاوى العالمكيرية:
لو أكل مكرها أو مخطئا عليه القضاء دون الكفارة كذا في فتاوى قاضي خان.
(النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة،(1/ 202) دار الفكر بيروت)
الفتاوي التاتارخانية:
وفي الفتاوي العتابية :ولو اكره علي الأكل لايلزمه الكفارة .
(الفصل الخامس في وجوب الكفارة في افساد الصوم ،(3/393)مکتبة اعزازيه)
حاشية ابن عابدين:
(قوله: أو أوجر مكرها) أي صب في حلقه شيء والإيجار غير قيد فلو أسقط قوله أوجر وأبقى قول المتن أو مكرها معطوفا على قوله خطأ لكان أولى ليشمل ما لو أكل أو شرب بنفسه مكرها فإنه يفسد صومه خلافا لزفر والشافعي، كما في البدائع وليشمل الإفطار بالإكراه على الجماع قال في الفتح.
(باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده (2/ 401) دار الفكر - بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔