نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبریلوی اما م عام طورپر بدعات کے مرتکب ہوتے ہیں او ر بدعتی کو اپنے اختیار سے امام بنا نا مکروہِ تحریمی ہے ،لہٰذا ا پنے اختیار سے ان کی اقتداء میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے بلکہ جہاں تک ممکن ہو کسی صحیح العقیدہ او ر متبعِ سنت صالح امام کی اقتداء میں نماز اداکرنی چاہیے ،البتہ اگر قرب وجوار کی مسجد میں کوئی صحیح العقیدہ صالح امام میسر نہ ہو یا دور ہونے کی وجہ سے وہاں جانا مشکل ہو یا جماعت کے نکلنے کا خوف ہو تو ایسی صورت میں بدعتی امام کی اقتداء میں نماز پڑھ لینا اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے ،اس لئے کہ مسجد کی جماعت کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے ۔
واضح رہے کہ یہ اس بدعتی کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم ہے جس کا عقیدہ کفر و شرک تک پہنچا ہوا نہ ہو ،کیونکہ کفریہ و شرکیہ عقیدہ رکھنے والے بدعتی کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی ۔
الفتاوى العالمكيرية :
ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي. كذا في الخلاصة.
(الفصل الثالث في بيان من يصلح إماما لغيره(1/ 84)دار الفكر بيروت)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وإمامة صاحب الهوى والبدعة مكروهة، نص عليه أبو يوسف في الأمالي فقال: أكره أن يكون الإمام صاحب هوى وبدعة؛ لأن الناس لا يرغبون في الصلاة خلفه، وهل تجوز الصلاة خلفه؟
قال بعض مشايخنا: إن الصلاة خلف المبتدع لا تجوز، وذكر في المنتقى رواية عن أبي حنيفة أنه كان لا يرى الصلاة خلف المبتدع، والصحيح أنه إن كان هوى يكفره لا تجوز، وإن كان لا يكفره تجوز مع الكراهة.
( فصل بيان من هو أحق بالإمامة (1/ 157) دار الكتب العلمية)
الدر المختار مع ردالمختار:
وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة . (قوله نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع .
(باب الإمامة (1/ 562) دار الفكر - بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔