نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے مہر کی ادائیگی کی صراحتاً ضمانت لے، مثلاً یوں کہے: "فلاں شخص کی بیوی کا مہر میری ذمہ داری ہے، میں اسے ادا کروں گا" اور بیوی یا اس کا ولی اس پر راضی ہو جائے، تو ایسے شخص کی حیثیت شرعاً "کفیل" (ضامن) کی ہوگی، اس صورت میں مہر کی ادائیگی کی یہ ضمانت بیع کے حکم میں شمار کی جائے گی اور چونکہ بیع میں قبضہ شرط نہیں ہوتا، اس لئے محض زبانی یا تحریری طور پر مہر کی ادائیگی کی ضمانت لینے سے، وہ چیز جو مہر میں طے پائی ہے، عورت کی ملکیت قرار پائے گی، چاہے اسے عملی طور پر قبضہ نہ بھی دیا گیا ہو، جیسا کہ شامی اور البحرالرائق کی عبارات سے معلوم ہوتاہے۔
لیکن اگر ضامن نے مہر کی ادائیگی کی صراحتاً ضمانت نہ لی ہو، بلکہ صرف اپنی طرف سے کچھ دینے کا وعدہ کیا ہو، یا نکاح نامہ میں یہ لکھوایا ہو کہ "میں یہ چیز فلاں کی بیوی کو دوں گا" یا اپنی ذاتی ملکیت مہر کے طور پر درج کروائی ہو، تو ایسی صورت میں یہ تبرع (ہبہ) کے حکم میں ہوگا اور چونکہ ہبہ میں ملکیت کی تکمیل کے لیے قبضہ شرط ہے، اس لیے جب تک بیوی کو وہ چیز باقاعدہ طور پر قبضے میں نہ دی جائے، وہ شرعاً اس کی مالک نہیں بنے گی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر بڑے بھائی نے اپنی ذاتی زمین پر تعمیر شدہ مکان کے کسی کمرے کو اپنی بھابھی (یعنی چھوٹے بھائی کی اہلیہ) کے مہر میں لکھوا کر صراحتاً مہر کی ادائیگی کی ضمانت لی تھی، تو یہ ضمانت "بیع" کے حکم میں ہوگی اور بیع میں ملکیت کے لیے قبضہ شرط نہیں ہوتا؛ لہٰذا اگرچہ بڑے بھائی نے زندگی میں قبضہ نہ بھی دیا ہو، تب بھی وہ بھابھی (یعنی چھوٹے بھائی کی اہلیہ) کی ملکیت شمار ہوگا۔ ایسی صورت میں بڑے بھائی کا اس کمرے کو اپنی بیوی کے نام منتقل کرنا شرعاً درست نہیں اور نہ ہی ان کی بیوی اس کی مالک بن سکتی ہے، وہ کمرہ بدستور بھابھی (یعنی چھوٹے بھائی کی اہلیہ) کی ملکیت رہے گا اور ان کے انتقال کے بعد وہ ان کے تمام شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگا، چنانچہ چھوٹے بھائی کی اولاد کا اس کمرے کا مطالبہ شرعاً بالکل جائز اور درست ہے۔
البتہ اگر بھائی نے اپنی طرف سےچھوٹے بھائی کی طرف سے مہر اداکرنے کی صراحۃًضمانت نہیں لی تھی اور چھوٹے بھائی کی طرف سے مہر کے طور پر اس کی بیوی کو بقاعدہ قبضہ نہ دیا ہوتو صرف نکاح نامہ میں درج کرنے کی بنیاد پر بیوی کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی اس لئے یہ بڑے بھائی کی ملکیت شمار ہوگی اورایسی صورت بڑے بھائی کا اپنی بیوی کے نام رجسٹر کرا کر مالکانہ قبضہ دینا بھی درست ہے اوراس کے بعد اس کی بیوی اس کمرے سمیت پورے مکان کی مالکہ بن گئی ہے ، لہذا اس صورت میں چھوٹے بھائی کی والاد کا مطالبہ درست نہیں ہے۔
حاشية ابن عابدين:
[فرع] في الفيض: ولو أعطى ضيعة بمهر امرأة ابنه ولم تقبضها حتى مات الأب فباعتها المرأة لم يصح إلا إذا ضمن الأب المهر ثم أعطى الضيعة به فحينئذ لا حاجة إلى القبض.
وفي تقریرات الرافعي : (3/198)
(قوله فرع: في الفيض: ولو أعطى ضيعة بمهرالخ) ذکر هذا الفرع في البزازیة، ونقله في البحر عنها، وعبارتها: إذا أعطى الأب أرضاً لمهر امرأة ابنه، ولم تقبض المرأة حتى مات الأب، لاتملك القبض، وإن کان ضمن المهر والمسألة بحالها، ملکت القبض بعد الموت؛ لأن الهبة لاتتم بلاقبض، وفيما إذا ضمن بیع، فلا يبطل بالموت. اه.
(مطلب في منع الزوجة نفسها لقبض المهر(3/ 143) دار الفكر - بيروت)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري:
وفي البزازية إذا أعطى الأب أرضا في مهر امرأته ثم مات الأب قبل قبض المرأة لا تكون الأرض لها؛ لأنها هبة من الأب لم تتم بالتسليم فإن ضمن المهر وأدى الأرض عنه ثم مات قبل التسليم كانت الأرض للمرأة؛ لأنه بيع فلا يبطل بالموت.
(باب المهر (3/ 188)دار الكتاب الإسلامي)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
واستفيد من صحة الضمان أيضا أن الأب لو مات قبل الأداء فللمرأة الاستيفاء من تركة الأب؛ لأن الكفالة بالمال لا تبطل بموت الكفيل وإذا استوفت قال في المبسوط رجع سائر الورثة بذلك في نصيب الابن أو عليه إن كان قبض نصيبه ولم يذكر فيه خلافا.
( باب المهر (3/ 188) دار الكتاب الإسلامي)
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
(سئل) في الأب إذا زوج ابنه امرأة بالولاية لو صغيرا أو الوكالة لو كبيرا ولم يضمن المهر فهل لا يطالب الأب به من ماله؟
(الجواب) : نعم قال في الكنز وصح ضمان الولي المهر قال في البحر أطلقه فشمل ولي المرأة وولي الزوج والصغيرين والكبيرين. اهـ. وفي فتاوى شيخ الإسلام يحيى أفندي جمع شيخ الإسلام عطاء الله أفندي تحت سؤال ولو زوج الأب طفله الصغير امرأة بمهر معلوم لا يلزم المهر أباه إلا إذا ضمنه.
وقال مالك والشافعي في القديم المهر على الأب لأنه ضمن دلالة بإقدامه على النكاح مع علمه أنه لا مال له ولا نكاح بدون المهر وقلنا الصداق على من أخذ الساق بالأثر قال علي رضي الله عنه والنكاح لم يدل على إيفاء المهر في الحال فلم يكن من ضرورته ضمان المهر ولأن تسليم المعقود عليه إلى الزوج يوجب تسليم البدل عليه أيضا والعاقد سفير كذا في معراج الدراية عن المبسوط ولا يخدش بالك ما في شرح الطحاوي من أن الأب إذا زوج الصغير امرأة فللمرأة أن تطلب المهر من أبي الزوج فيؤدي الأب من مال ابنه الصغير وإن لم يضمن الأب صريحا. اهـ. لأنه محمول على الطلب بالأداء من مال الصغير لكونه في يده كما ينبئ عنه كلامه لا أنه محمول على أن إقدامه على النكاح ضمان دلالة كما ذهب إليه الشافعي ومالك. اهـ أقول والمسألة في الدر المختار من المهر.
(باب المهر(1/ 24) دار المعرفة)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
(قوله وصح ضمان الولي المهر) ؛ لأنه من أهل الالتزام، ..... واستفيد من القول بصحة الضمان أيضا أنه لو لم يضمن الأب مهر ابنه الصغير لا يطالب به ولو كان عاقدا؛ لأنه لو لزمه بلا ضمان لم يكن للضمان فائدة ولما في المعراج لو زوج ابنه الصغير لا يثبت المهر في ذمة الأب بل يثبت في ذمة الابن عندنا سواء كان الابن موسرا أو معسرا ذكره في المنظومة وشرحها معللا بأن النكاح لا ينفك عن لزوم المال إنما ينفك عن إيفاء المهر في الحال فلم يكن من ضرورة الإقدام على تزويجه ضمان المهر عنه، وهذا هو المعول عليه كما في فتح القدير .
(باب المهر(3/ 187) دار الكتاب الإسلامي)
مجمع الضمانات:
وكذا إذا ضمن عن ابنه الصغير جاز، وإن أدى لا يرجع على الولد استحسانا لأنه صلة عادة، وإن مات قبل أن يؤدي، وأخذ من تركته يرجع به بقية الورثة على الابن في حصته لأن الصلة لم تتم قبل الأداء بخلاف ما لو ضمن عن ابنه الكبير بغير إذنه ومات وأخذ من تركة الأب حيث لا يرجع بقية الورثة على الابن في حصته لعدم الأمر بالضمان بالمهر فيكون متبرعا في حق الكبير فإن ضمن في المرض، ومات أخذ من تركته، ويرجع باقي الورثة على الابن، وإن ضمن وصي الزوج، وهو ولي ثم أدى رجع به في مال الصغير.................... ولو ضمن الأب المهر عن ابنه الكبير بغير أمره لا يرجع الورثة عليه اتفاقا، وإن ضمن بأمره يرجعون اتفاقا،ولا يجب إجماعا المهر على الأب بلا ضمان لفقر ولده الصغير وقال مالك يجب عليه كما في المجمع، وكذلك يجب عليه عند الشافعي وأحمد كما في درر البحار..
(باب في النكاح والطلاق،(ص345)تا (ص346) دار الكتاب الإسلامي)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
واستفيد من صحة الضمان أيضا أن الأب لو مات قبل الأداء فللمرأة الاستيفاء من تركة الأب؛لأن الكفالة بالمال لا تبطل بموت الكفيل وإذا استوفت قال في المبسوط رجع سائر الورثة بذلك في نصيب الابن أو عليه إن كان قبض نصيبه ولم يذكر فيه خلافا.
( باب المهر (3/ 188) دار الكتاب الإسلامي)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔