سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-401 Fatwa no: 1447-401

صرف عرف کی بنیاد پربغیر ضمانت کے والد کے ذمہ بیٹے کا مہر اپنی طرف سےادا کرنا لازم نہیں

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقےوزیرستان میں عمومی طور پر یہ عرف اور رواج ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام میں والد صاحب گھر کے سربراہ ہوتے ہیں،اور وہی گھر کے تمام اخراجات کی کفالت کرتے ہیں ،اگر والد صاحب اپنے بیٹے کا نکاح کرائیں تو عرف عام میں مہر(خواہ مہر مؤجل ہو یا معجل) کی ادائیگی بھی والد صاحب ہی کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر والد صاحب نے صراحۃً مہر کی ضمانت یا ذمہ داری قبول نہ کی ہو لیکن عرف عام یا خاندانی طریقے کی بناء پر وہ مہر کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوں تو کیا ایسی صورت میں مہر کی ادائیگی شرعاًوالد کے ذمے لازم ہوگی ؟ اور اگردین مہر کی ادائیگی والد صاحب کے ذمہ لازم ہو تو کیاوہ اس مہرکی رقم کواپنی زکوٰۃ میں سے منہا کرسکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ اگر والد صاحب نے  صراحۃًمہر کی ادائیگی کی ضمانت نہ لی ہو   تو محض عرف   ورواج کی بنیاد پر بیٹے کا نکاح کرانے  کی وجہ سے مہر کی ادائیگی والد صاحب پر  لازم نہیں ہوتی ،بلکہ یہ ذمہ داری  اس بیٹے پر عائد ہوتی ہے جس کا  نکاح کیا جارہا ہو( لأن تسليم المعقود عليه إلى الزوج يوجب تسليم البدل عليه أيضا والعاقد سفير) لہذا اس صورت میں والدصاحب کے لئے  مہر کی  رقم کو  اپنی زکوٰۃ کی رقم  سے منہا کرنا بھی  شرعاً درست  نہیں  ، البتہ  اگر والد صاحب نے صراحۃ ً مہر کی ادائیگی کی  ذمہ داری  لی ہو تو ایسی صورت میں کفیل بننے کی وجہ سے  یہ  رقم ان کے  کے ذمے دین(قرض) شمار ہوگی اور اس کو  زکوٰۃ کی رقم سے  منہا کرنا جائز ہوگا ۔
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:
(سئل) في الأب إذا زوج ابنه امرأة بالولاية لو صغيرا أو الوكالة لو كبيرا ولم يضمن المهر فهل لا يطالب الأب به من ماله؟
(الجواب) : نعم قال في الكنز وصح ضمان الولي المهر قال في البحر أطلقه فشمل ولي المرأة وولي الزوج والصغيرين والكبيرين. اهـ. وفي فتاوى شيخ الإسلام يحيى أفندي جمع شيخ الإسلام عطاء الله أفندي تحت سؤال ولو زوج الأب طفله الصغير امرأة بمهر معلوم ‌لا ‌يلزم ‌المهر ‌أباه إلا إذا ضمنه. وقال مالك والشافعي في القديم المهر على الأب لأنه ضمن دلالة بإقدامه على النكاح مع علمه أنه لا مال له ولا نكاح بدون المهر وقلنا الصداق على من أخذ الساق بالأثر قال علي رضي الله عنه والنكاح لم يدل على إيفاء المهر في الحال فلم يكن من ضرورته ضمان المهر ولأن تسليم المعقود عليه إلى الزوج يوجب تسليم البدل عليه أيضا والعاقد سفير كذا في معراج الدراية عن المبسوط ولا يخدش بالك ما في شرح الطحاوي من أن الأب إذا زوج الصغير امرأة فللمرأة أن تطلب المهر من أبي الزوج فيؤدي الأب من مال ابنه الصغير وإن لم يضمن الأب صريحا. اهـ. لأنه محمول على الطلب بالأداء من مال الصغير لكونه في يده كما ينبئ عنه كلامه لا أنه محمول على أن إقدامه على النكاح ضمان دلالة كما ذهب إليه الشافعي ومالك. اهـ 
 (کتاب النکاح ، بَاب الْمَهْر،(1/ 24)، دار المعرفة)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
(قوله وصح ضمان الولي المهر) ؛ لأنه من أهل الالتزام، ..... واستفيد من القول بصحة الضمان أيضا أنه لو لم يضمن الأب مهر ابنه الصغير لا يطالب به ولو كان عاقدا؛ لأنه لو لزمه بلا ضمان لم يكن للضمان فائدة ولما في المعراج لو زوج ابنه الصغير لا يثبت المهر في ذمة الأب بل يثبت في ذمة الابن عندنا سواء كان الابن موسرا أو معسرا ذكره في المنظومة وشرحها معللا بأن النكاح لا ينفك عن لزوم المال إنما ينفك عن إيفاء المهر في الحال فلم يكن من ضرورة الإقدام على تزويجه ضمان المهر عنه، وهذا هو المعول عليه كما في فتح القدير .
(کتاب النکاح ، بَاب الْمَهْر،(3/ 187)، دار الكتاب الإسلامي)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق:
ثم لا فرق بين أن يكون الدين بطريق الكفالة أو الأصالة حتى لا تجب عليهما الزكاة …. 
(قوله: ثم لا فرق بين أن يكون الدين إلخ) ‌وصورة ‌المسألة ‌على ‌ما ‌ذكره ‌في ‌الغاية رجل له ألف على رجل فكفل به رجل بأمره أو بغير أمره وللأصيل ألف والكفيل ألف فحال عليهما الحول لا زكاة عليهما.
(کتاب الزکوٰة ، شروط وجوبها ،(1/ 255)، دار الكتاب الإسلامي)

 

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب