سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-36 Fatwa no: 1447-36

ابتدائی حمل ضائع کرنے اور معذور بچے کے اسقاط کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: 1۔اگر حمل 40 دن کا ہو یا اس سے زیادہ کا ، کچھ اعضاء بن چکے ہوں یا پورا بن چکا ہو اور جان اس میں نہ آئی ہو کیا ایسا حمل گرانا جائز ہےیا نہیں ؟اور کیا ڈاکٹر کے ذمہ اس کا گناہ ہوگا ؟ 2۔اگر پتہ چل جائے کہ پیٹ میں بچہ معذور ہے ہاتھ پاؤں میں حرکت نہیں ہےیا سر کے علاوہ پورا دھڑ کام نہیں کررہا کیا ایسا بچہ گرانا جائز ہے ؟ گرانے کی صورت میں گناہ کس کے ذمہ ہوگا ؟
جواب :

1۔۔۔واضح رہے کہ حمل کے چار مہینے پورا ہونے سے پہلے(جب تک حمل میں جان نہ پڑی ہو) بلا عذر کے اسقاط حمل کرنا مکروہ اور گناہ ہے اور عذر کی وجہ سے جائز ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر 40دن والے حمل کا اسقاط معتبر عذر کی  وجہ سے ہو(مثلا عورت کمزوری کی وجہ سے اس حمل کی متحمل نہیں وغیرہ )  تو جائز ہےاور اگر بغیر  عذر کے ہو تو پھر اس کا اسقاط کرنا مکروہ اور گناہ ہے اور اس گناہ میں اسقاط حمل کرنے والی ڈاکٹر بھی برابر کی شریک ہے ۔
2۔۔۔بصورت مسئولہ جب ایک مرتبہ حمل میں جان پڑگئی ہےاس کے بعد اگر چہ بچہ معذور کیوں نہ ہو، اسقاط حمل ناجائز اور حرام ہے ، اور اس گناہ میں ڈاکٹر برابر کے شریک ہونگے ۔
كما في تفسير الطبري:
وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
وقوله:"ولا تعاونوا على الإثم والعدوان"، يعني: ولا يعن بعضكم بعضًا ="على الإثم"، يعني: على ترك ما أمركم الله بفعله ="والعدوان"، يقول: ولا على أن تتجاوزوا ما حدَّ الله لكم في دينكم، وفرض لكم في أنفسكم وفي غيركم.
(سورة المائدة،آيت 2،ج9،ص490،ط:مؤسسة الرسالة)
وفي ردالمحتار على  الدر المختار:
وَقَالُوا يُبَاحُ إسْقَاطُ الْوَلَدِ قَبْلَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَلَوْ بِلَا إذْنِ الزَّوْج....
(قَوْلُهُ وَقَالُوا إلَخْ) قَالَ فِي النَّهْرِ: بَقِيَ هَلْ يُبَاحُ الْإِسْقَاطُ بَعْدَ الْحَمْلِ؟ نَعَمْ يُبَاحُ مَا لَمْ يَتَخَلَّقْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ إلَّا بَعْدَ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ يَوْمًا، وَهَذَا يَقْتَضِي أَنَّهُمْ أَرَادُوا بِالتَّخْلِيقِ نَفْخَ الرُّوحِ وَإِلَّا فَهُوَ غَلَطٌ لِأَنَّ التَّخْلِيقَ يَتَحَقَّقُ بِالْمُشَاهَدَةِ قَبْلَ هَذِهِ الْمُدَّةِ كَذَا فِي الْفَتْحِ، وَإِطْلَاقُهُمْ يُفِيدُ عَدَمَ تَوَقُّفِ جَوَازِ إسْقَاطِهَا قَبْلَ الْمُدَّةِ الْمَذْكُورَةِ عَلَى إذْنِ الزَّوْجِ.
وَنُقِلَ عَنْ الذَّخِيرَةِ لَوْ أَرَادَتْ الْإِلْقَاءَ قَبْلَ مُضِيِّ زَمَنٍ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ هَلْ يُبَاحُ لَهَا ذَلِكَ أَمْ لَا؟ اخْتَلَفُوا فِيهِ، وَكَانَ الْفَقِيهُ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى يَقُولُ: إنَّهُ يُكْرَهُ، فَإِنَّ الْمَاءَ بَعْدَمَا وَقَعَ فِي الرَّحِمِ مَآلُهُ الْحَيَاةُ فَيَكُونُ لَهُ حُكْمُ الْحَيَاةِ كَمَا فِي بَيْضَةِ صَيْدِ الْحَرَمِ، وَنَحْوُهُ فِي الظَّهِيرِيَّةِ قَالَ ابْنُ وَهْبَانَ: فَإِبَاحَةُ الْإِسْقَاطِ مَحْمُولَةٌ عَلَى حَالَةِ الْعُذْر.
(مطلب:في اسقاط الحمل،ج4،ص335،ط:رحمانية)
وفي ردالمحتار:
وَفِي الذَّخِيرَةِ: لَوْ أَرَادَتْ إلْقَاءَ الْمَاءِ بَعْدَ وُصُولِهِ إلَى الرَّحِمِ قَالُوا إنْ مَضَتْ مُدَّةٌ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ لَا يُبَاحُ لَهَا وَقَبْلَهُ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ وَالنَّفْخُ مُقَدَّرٌ بِمِائَةٍ وَعِشْرِينَ يَوْمًا بِالْحَدِيثِ.
(فصل فى النظر واللمس،ج9،ص616،ط:رحمانية)
وفى الهندية:
امرأة مرضعة ظهر بها حبل وانقطع لبنها وتخاف على ولدها الهلاك وليس لأبي هذا الولد سعة حتى يستأجر الظئر يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم يخلق له عضو وخلقه لا يستبين إلا بعد مائة وعشرين يوما أربعون نطفة وأربعون علقة وأربعون مضغة كذا في خزانة المفتين.
(الباب الثامن عشر فى التداوي،ج9،ص170،ط:رشيدية)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 12 May 2026

واللہ اعلم بالصواب