سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-402 Fatwa no: 1447-402

بھنگ کی کاشت کاروبار اور بھنگ میں عشر کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
(1)۔بھنگ کاشت کرنا شرعاً کیسا ہے؟ جہاں کاشت کرنے کا رواج ہے، وہاں لوگ کہتے ہیں: "اور کیا کریں؟ اور کیا کھائیں؟ ہماری مجبوری ہے"۔ (2)۔ اگر بھنگ کاشت کی جائے، اور جب وہ پک کر تیار ہو جائے تو کھیت میں کھڑی فصل کو فروخت کر دیا جائے، اور خریدار اپنی مرضی سے اسے چرس بنانے یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرے (جبکہ عموماً چرس ہی بناتے ہیں)، تو ایسی صورت میں اس فروخت سے حاصل ہونے والے منافع اور پیسوں کا کیا حکم ہے؟ (3)۔ بھنگ کی کاشت کے لیے زمینوں کو اجارے پر دیا جاتا ہے اور اس کے بدلے اجرت لی جاتی ہے، بعض اوقات بنجر کھیتوں کو لاکھوں میں اجارے پر دے دیتے ہیں، ایسی اجرت لینا شرعاً کیسا ہے؟ (4)۔یہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے مفتی صاحب نے مسئلہ بیان کیا ہے کہ اگر بھنگ کاٹی جائے تو اس صورت میں عشر واجب ہے، اور اگر کاٹنے سے پہلے فروخت کی جائے تو زکوٰۃ واجب ہے (یعنی ایک لاکھ پر ڈھائی ہزار)۔ اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں کہ اس میں عشر واجب ہے یا زکوٰۃ؟
جواب :

(2،1)۔۔۔واضح رہے کہ حضرت امام ِابو یوسف ؒ اور حضرت امام ِ محمد ؒ نے بھنگ کی کاشت کو بالکل ناجائزقرار دیا ہے خصوصا ًجب کہ اس وقت  بھنگ کا جائز استعمال نہ ہونے کے برابر ہے ،نیز حکومت نے اس کی تجارت اور کاشت پر پابندی بھی عائد کی ہے اور حکومت کی جائز پابندی پر عمل کرنا واجب ہے اور اس کی خلاف ورزی ناجائز اور گناہ ہے ،اس لیے بھنگ کی خلافِ قانون کاشت اور تجارت جائز نہیں ہے  ، لہذا اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے ، البتہ اگر کسی نے بھنگ کو فروخت کرکے اس کی رقم استعمال کرلی تو چونکہ فی الجملہ اس کا جائز استعمال(بطورِ دوا) بھی موجود ہے، اس لئے یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے حرام آمدنی استعمال کی، تاہم پھر بھی وہ اس سے توبہ کرے اور آئندہ باز آئے اور اس کاروبارسے اجتناب کرے، باقی رہا لوگوں کا یہ کہنا کہ "بھنگ کاشت کرنا ہماری مجبوری ہے" تو یہ شرعاً کوئی قابلِ قبول عذر نہیں ہے۔ 
المبسوط للسرخسي (24/ 26):
بيع الكرم ‌ممن ‌يتخذ ‌الخمر من عينه جائز لا بأس به، وكذلك بيع الأرض ممن يغرس فيها كرما ليتخذ من عنبه الخمر، وهذا قول أبي حنيفة، وهو القياس، وكره ذلك أبو يوسف ومحمد رحمهما الله استحسانا؛ لأن بيع العصير، والعنب ممن يتخذه خمرا إعانة على المعصية، وتمكين منها، وذلك حرام، وإذا امتنع البائع من البيع يتعذر على المشتري اتخاذ الخمر، فكان في البيع منه تهييج الفتنة، وفي الامتناع تسكينها.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 144):
ويجوز بيع ما سوى الخمر من الأشربة المحرمة كالسكر، ونقيع الزبيب، والمنصف، ونحوها عند أبي حنيفة، وعند أبي يوسف، ومحمد: لا يجوز؛ لأنه ‌إذا ‌حرم ‌شربها لم تكن مالا فلا تكون محلا للبيع كالخمر، ولأن ما حرم شربه لا يجوز بيعه»
حاشية ابن عابدين (6/ 454):
 (‌وصح ‌بيع ‌غير ‌الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون. قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل.
(قوله ‌وصح ‌بيع ‌غير ‌الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان ... ثم إن البيع وإن صح لكنه... (قوله عدم الحل) أي لقيام المعصية بعينها.وذكر ابن الشحنة أنه يؤدب بائعها.
(3)۔۔۔ بھنگ کی کاشت کے لیے زمین کرایہ پر دینا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ یہ ایک ناجائز کام پر تعاون کے زمرے میں آتا ہے، اور گناہ کے کام میں  تعاون  کرنا شرعاً ممنوع ہے،البتہ اگر کسی نےاپنی  زمین بھنگ کی کاشت کے لیے کرایہ پر دی اور اس کے بدلے اجرت حاصل کی، تو چونکہ بھنگ کا فی الجملہ بطورِ دوا جائز استعمال بھی موجود ہے، اس لیے اجرت کو حرام نہیں کہا جائے گا، تاہم ایسے شخص کو توبہ کرنی چاہیے اور آئندہ اپنی زمین بھنگ کی کاشت کے لیے کرایہ پر دینے سے اجتناب کرنا لازم ہے ،فتاوی رشیدیہ میں ہے :
”سوال : نشہ فروخت کو واسطے فروخت مسکرات کے مکان یا دوکان کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں ، اور اس میں حنفیہ کا اصح مذہب کیا ہے؟ 
جواب : اصح اور فتویٰ اس پرہے کہ نہ دیوے۔ فقط “(فتاوی رشیدیہ ص 513: )
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 378):
قال: "ومن أجر بيتا ليتخذ فيه بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر بالسواد فلا بأس به" وهذا عند أبي حنيفة، وقالا: لا ينبغي أن يكريه لشيء من ذلك؛ لأنه ‌إعانة ‌على ‌المعصية. وله أن الإجارة ترد على منفعة البيت، ولهذا تجب الأجرة بمجرد التسليم، ولا معصية فيه، وإنما المعصية بفعل المستأجر، وهو مختار فيه فقطع نسبته عنه.
التنبيه على مشكلات الهداية (5/ 800):
قوله: (وله أن الإجارة ترد على منفعة البيت ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم ولا معصية فيه، وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فيه فقطع نسبته عنه).لا يصلح هذا جوابًا عما استدل به أبو يوسف ومحمد رحمهما الله من أنه ‌إعانة ‌على ‌المعصية، فإن اتخاذ بيت للنار أو اتخاذ الكنيسة والبيعة، واتخاذ بيت لبيع الخمر معصية، فالإعانة على ذلك معصية، وقد ورد في تعزيز الخمار إحراق حانوته الذي يبيع فيه الخمر، فإذا شرع إتلاف هذا البيت بالإحراق الذي هو أبلغ من الهدم لرفع هذه المعصية فالمنع منها والدفع عنها بعدم جواز إجارة البيت [لها] أولى.
وقوله:ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم ولا معصية فيه،ممنوع،بل كما أن المعصية بفعل المستأجرفي البيت فالإعانة على ذلك معصيةلأن الإعانة على المعصيةمعصية.
(4)۔۔۔ راجح  قول کےمطابق عشر پیدا وار پر اس وقت واجب ہوتا ہے جب پھل پک جائے اور کٹائی کے قابل ہوجائے،اوراس وقت پیداوار  جس کی ملک ہوگا عشر اسی پر واجب ہوگا،لہذا اگربھنگ   کو پکنے سے پہلے فروخت کردیاجائے تو عشر مشتری (خریدار ) پر واجب ہوگا ،اور اگر پکنے کے بعد فروخت کیا جائے تو اس صورت میں عشر زمیندار بائع  ( یعنی فروخت کنندہ  )پر واجب ہوگا، لہذا  سوال میں جس مفتی صاحب نے یہ فرمایا کہ: '' اگر بھنگ کو کاٹ کر فروخت کیا جائے تو عشر واجب ہوگا اور اگر کاٹنے سے پہلے فروخت کیا جائے تو  زکوٰۃ وجب ہوگی ''اس سے بظاہر ان کا مقصد یہی ہے کہ اگر پکنے کے بعد (خواہ کاٹ کر یا بغیر کاٹے) فروخت کی جائے تو عشر واجب ہے، اور اگر پکنے سے پہلے فروخت کی جائے تو عشر واجب نہیں ہوگا۔
البتہ پکنے سے پہلے فروخت کرنے کی  صورت میں اور اسی طرح  پکنے بعد عشر ادا کرنے کے بعد حاصل شدہ رقم پر زکوٰۃ واجب  ہے یا نہیں ؟ تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ: اگر اس رقم کے حاصل ہونے سے پہلے اس شخص کے پاس بقدرِ نصاب سونا، چاندی یا نقد رقم پہلے سے موجود ہو، تو یہ مال مالِ مستفاد ہوگا، اور سال مکمل ہونے پر کل مال پر زکوٰۃ واجب ہوگی ،(یعنی پہلے سے موجود نصاب پر سال گزرنے سے پیداوار سے حاصل شدہ رقم سمیت کل رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی )  ا  ور اگر پہلے سے بقد ر ِنصاب  مال موجود نہیں تو پھر اس رقم کے حاصل ہونے کے بعد جب اس پر اسلامی قمری سال گزرجائے گا تو اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی (بشرطیکہ وہ نصاب کے بقدر ہو)
حاشية ابن عابدين (2/ 333):
ولو ‌باع ‌الزرع ‌إن ‌قبل ‌إدراكه فالعشر على المشتري ولو بعده فعلى البائع»
النهر الفائق شرح كنز الدقائق (1/ 455):
ولو باع الأرض مع زرعها أو هو فقط بعد الإدراك من مسلم ‌فالعشر ‌على ‌البائع وقال محمد: على المشتري ولو لم يدرك كان على المشتري اتفاقا لأنه انتهى على ملكه.

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب