نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںاگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے، اور واقعی بینک سے سودی قرض لینے کے بجائے قسطوں پر گھر خریدنے کی سہولت موجود ہے، نیز بینک پہلے خود اس گھر کو خرید کر اس پر مکمل قبضہ حاصل کرنے کے بعد (کیونکہ قبضے سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں) آپ کو قسطوں پر فروخت کرتا ہے، تو اس طرح کا معاملہ تین شرائط کے ساتھ شرعاً جائز ہے:
1. بیع کے وقت ہی طے کر لیا جائے کہ معاملہ ادھار (قسطوں والا) ہوگا۔
2. قسطوں کی تعداد، مقدار اور مکمل مدت اسی مجلس میں واضح طور پر طے کی جائے۔
3. مقررہ مدت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں خریدار پر کسی قسم کا مالی جرمانہ، اضافی رقم یا قیمت میں اضافہ عائد نہ کیا جائے۔
لہٰذا اگر بینک ان شرائط کی مکمل پابندی کرتا ہے تو قسطوں پر اس طرح گھر خریدنا شرعاً جائز ہے، چاہے قسطوں کی قیمت نقد قیمت کے مقابلے میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو،البتہ بینک سے قرض لے کر اس پر سود ادا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے،امید ہے کہ اس وضاحت سے سوال میں مذکور تمام سوالات کے جوابات واضح ہوگئے ہونگے۔
سنن الترمذي:
عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة» وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح» والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما.
(باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة (3/ 525) مصطفى البابي الحلبي)
بحوث في قضايا فقهية معاصرة:
أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد، فأما إذا قال البائع: أبيعك نقدا بكذا ونسيئة بكذا، وافتراقا على ذلك، دون أن يتفقا على تحديد واحد من السعرين، فإن مثل هذا البيع لا يجوز، ولكن إذا عين العاقدان أحد الشقين في مجلس العقد، فالبيع جائز. يقول الإمام الترمذي رحمه الله في جامعه: تحت حديث أبي هريرة رضي الله عنه: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: (أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإن فارقه على أحدهما، فلا بأس، إذا كانت العقدة على أحد منهما) وحاصل قول الإمام الترمذي رحمه الله تعالى: أن علة النهي عن هذا البيع إنما هو تردد الثمن بين الحالتين، دون أن تتعين إحداهما عند العقد، وهذا يوجب الجهالة في الثمن، وليس سبب النهي زيادة الثمن من أجل التأجيل، فلو زالت مفسدة الجهالة بتعيين إحدى الحالتين فلا بأس بهذا البيع شرعا.
(أحكام البيع بالتقسيط (ص12)) دار القلم - دمشق)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔