سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-403 Fatwa no: 1447-403

بیرون ملک میں سودی بینک سے گھر قسطوں پر خریدنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
میں ایک اہم شرعی مسئلے کے سلسلے میں رہنمائی کا محتاج ہوں، براہِ کرم شرعی اصولوں کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔ 1۔ پس منظر اور ضرورتِ مسئلہ: میں اٹلی میں محنت مزدوری کرتا ہوں۔ شادی شدہ ہوں، مگر میری زوجہ فی الحال پاکستان میں میرے والدہ کے ساتھ رہتی ہیں۔ اٹلی میں تنہا رہتے ہوئے فتنوں، بے راہ روی، اور غیر شرعی ماحول میں رہنا بہت مشکل ہے۔ اپنی عفت اور دین کی حفاظت کے لیے میری شدید خواہش ہے کہ اپنی زوجہ کو اپنے ساتھ لے آؤں، تاکہ ہم دونوں حلال طریقے سے زندگی گزار سکیں۔ 2۔ رہائش اور مالی صورتحال: اٹلی میں کرایہ بہت زیادہ ہے،ایک چھوٹے کمرے یا بیڈ کا کرایہ (تقریباً 400 یورو) پوری ماہانہ آمدنی لے جاتا ہے،نقد گھر خریدنا میری آمدنی سے بالکل باہر ہے،اسی وجہ سے میں گھر خریدنے کے لیے بینک کے ذریعے قسطوں پر خریداری کا سوچ رہا ہوں۔ 3۔ میرا واضح مؤقف (اہم ترین نکتہ): میں سود پر قرض لینا نہیں چاہتا،نہ میں قرض چاہتا ہوں، نہ سود ،میری خواہش صرف شرعی طور پر جائز خرید و فروخت کرنا ہے۔ 4۔ بینک کا طریقہ کار: بعض اٹالین بینک یوں کرتے ہیں، وہ گھر اپنی ملکیت میں خرید لیتے ہیں ،پھر وہی گھر مجھے قسطوں پر فروخت کرتے ہیں،قسطوں پر بیچنے کی وجہ سے وہ قیمت نقد سے کچھ زیادہ رکھ دیتے ہیں ،یہ اضافہ قرض کے سود کی بنیاد پر نہیں بلکہ بیعِ تقسیط کی وجہ سے ہوتا ہےیعنی معاملہ قرض کا نہیں، بیع (Sale) کا ہوتا ہے۔ 5۔ میرا شرعی سوال ،محترم مفتی صاحب! براہِ کرم شرعی اصولوں کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ اگر بینک گھر خود خرید کر مجھے آگے زیادہ قیمت پر قسطوں میں فروخت کرےاوریہ معاملہ قرض کے بجائے بیعِ تقسیط ہوتو کیا یہ صورت مکمل طور پر جائز ہوگی؟اور کیا اس میں سود شامل نہیں ہوگا؟کیونکہ میں قرض نہیں لے رہا،بینک مجھے قرض نہیں دے رہایہ خالص خرید و فروخت کا معاملہ ہے،قسطوں کی وجہ سے قیمت زیادہ ہونا فقہاء کے نزدیک جائز ہے،میرا مقصد صرف یہ ہے کہ حلال طریقے سے گھر لے کر اپنی زوجہ کو اپنے ساتھ رکھ سکوں اور دین کی حفاظت کر سکوں،براہ کرم درج ذیل باتوں کی وضاحت فرمائیں: 1. کیا مذکورہ بالا طریقہ شرعاً درست اور جائز ہے؟2. کن شرائط کی صورت میں یہ معاملہ جائز شمار ہوگا؟3. کیا بینک کا گھر واقعی اپنی ملکیت میں لینا ضروری شرط ہے؟4. اگر بینک ملکیت اپنے نام پر نہیں لیتا اور محض قرض دیتا ہے تو کیا وہ سود شمار ہوگا؟5. کیا یہ اضافہ (قسطوں کی وجہ سے) سود کے حکم میں آئے گا یا جائز اضافہ ہوگا؟آپ کی شرعی رائے میرے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے،اللہ تعالیٰ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔
جواب :

اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے، اور واقعی بینک سے سودی قرض لینے کے بجائے قسطوں پر گھر خریدنے کی سہولت موجود ہے، نیز بینک پہلے خود اس گھر کو خرید کر اس پر مکمل قبضہ حاصل کرنے کے بعد (کیونکہ قبضے سے پہلے فروخت کرنا  جائز نہیں) آپ کو قسطوں پر فروخت کرتا ہے، تو اس طرح کا معاملہ تین شرائط کے ساتھ شرعاً جائز ہے:
1. بیع کے وقت ہی طے کر لیا جائے کہ معاملہ ادھار (قسطوں والا) ہوگا۔  
2. قسطوں کی تعداد، مقدار اور مکمل مدت اسی مجلس میں واضح طور پر طے کی جائے۔  
3. مقررہ مدت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں خریدار پر کسی قسم کا مالی جرمانہ، اضافی رقم یا قیمت میں اضافہ عائد نہ کیا جائے۔
لہٰذا اگر بینک ان شرائط کی مکمل پابندی کرتا ہے تو قسطوں پر اس طرح گھر خریدنا شرعاً جائز ہے، چاہے قسطوں کی قیمت نقد قیمت کے مقابلے میں زیادہ ہی کیوں نہ ہو،البتہ بینک سے قرض لے کر اس پر سود ادا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے،امید ہے کہ اس وضاحت سے سوال میں مذکور تمام سوالات کے جوابات واضح ہوگئے ہونگے۔
سنن الترمذي:
عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة» وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح» والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، ‌فإذا ‌فارقه ‌على ‌أحدهما ‌فلا ‌بأس ‌إذا ‌كانت ‌العقدة على أحد منهما.
(باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة (3/ 525) مصطفى البابي الحلبي)
بحوث في قضايا فقهية معاصرة:
أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد ‌أجازوا ‌البيع ‌المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد، فأما إذا قال البائع: أبيعك نقدا بكذا ونسيئة بكذا، وافتراقا على ذلك، دون أن يتفقا على تحديد واحد من السعرين، فإن مثل هذا البيع لا يجوز، ولكن إذا عين العاقدان أحد الشقين في مجلس العقد، فالبيع جائز. يقول الإمام الترمذي رحمه الله في جامعه: تحت حديث أبي هريرة رضي الله عنه: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: (أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإن فارقه على أحدهما، فلا بأس، إذا كانت العقدة على أحد منهما) وحاصل قول الإمام الترمذي رحمه الله تعالى: أن علة النهي عن هذا البيع إنما هو تردد الثمن بين الحالتين، دون أن تتعين إحداهما عند العقد، وهذا يوجب الجهالة في الثمن، وليس سبب النهي زيادة الثمن من أجل التأجيل، فلو زالت مفسدة الجهالة بتعيين إحدى الحالتين فلا بأس بهذا البيع شرعا.
(‌‌أحكام البيع بالتقسيط (ص12)) دار القلم - دمشق)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب