سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-404 Fatwa no: 1447-404

بیعِ فضولی کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں، مسمّی آفرین، نے 1991ء کو مشترکہ زمین کے 10 حصوں میں سے 5 حصے جمیل سے خریدے تھے، اور باقی 5 حصے 1993ء کو مسمی تحصیل سے خریدے ہیں۔ ان بعد کے 5 حصوں میں سے ایک حصہ تحصیل کے بھائی رفیق کا تھا، جو اب فوت ہو چکے ہیں۔ ان کے ورثاء میں چار بیٹیاں ہیں، اب ان بیٹیوں کا دعویٰ ہے کہ ایک حصہ ان کا ہے، لہٰذا وہ حصہ دار اور شفیع بھی ہیں اور زمین کو فروخت کے لیے نہیں چھوڑتیں، جبکہ 1993ء سے یہ زمین میرے تصرف میں ہے ، اب سوال یہ ہے کہ ان بیٹیوں کے دعوے (حصہ داری اور شفعہ) کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب :

سوال میں ذکر کردہ بیان کے مطابق، چونکہ تحصیل سے خریدے گئے پانچ حصوں میں سے ایک حصہ رفیق کا تھا اور تحصیل نے اپنے حصے کے ساتھ رفیق کا حصہ بھی آپ کو فروخت کیا تھا، اگر یہ حصہ تحصیل نے رفیق کی اجازت کے بغیر فروخت کیا تھا اور بیع کے بعد بھی رفیق نے رضامندی ظاہر نہ کی تھی، تو بیٹیوں کا دعویٰ درست ہوگا، لہٰذا وہ رفیق کے حصے کے برابر حصہ دار بھی ہوں گے اور شفیع بھی، تاہم اگر تحصیل نے رفیق کی اجازت سے یہ حصہ فروخت کیا تھا (چاہے اجازت بیع سے پہلے دی گئی ہو یا بعد میں)، تو بیٹیوں کا دعویٰ درست نہیں ہوگا ۔ 
العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير:
قال (‌ومن ‌باع ‌ملك ‌غيره بغير أمره فالمالك بالخيار إلخ) ‌ومن ‌باع ‌ملك ‌غيره بغير إذنه فالمالك بالخيار إن شاء أجاز البيع وإن شاء فسخ، وهو مذهب مالك وأحمد في رواية. وقال الشافعي في الجديد وهو رواية عن أحمد: لم ينعقد؛ لأنه لم يصدر عن ولاية شرعية؛ لأنها بالملك أو بإذن المالك وقد فقدا، وما لم يصدر عن ولاية شرعية لا ينعقد؛ لأن الانعقاد لا يكون إلا بالولاية الشرعية.
 (فصل في بيع الفضولي(7/ 51) دار الفكر، بيروت)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
(مادة 1008)‌أسباب ‌الشفعة ‌ثلاثة: الأول:أن يكون مشاركا في نفس المبيع كاشتراك شخصين في عقار شائع. الثاني:أن يكون خليطا في حق المبيع كالاشتراك في حق الشرب الخاص والطريق الخاص........الثالث :أن يكون جارا ملاصقا.
أسباب ثبوت وجوب الشفعة ثلاث، فإذا وجد أحد هذه الأسباب الثلاثة ثبت حق الشفعة للشفيع بعد البيع يعني للشفيع حق في طلب الشفعة:
الأول: أن يكون مشاركا في نفس المبيع. ويقال له خليط في نفس المبيع أيضا. وعليه فإذا باع أحد أصحاب الحصص حصته من آخر كان الشركاء الآخرون شفعاء في الحصة المباعة. وتكون بالمشاركة في نفس المبيع على وجهين:
1 - تكون المشاركة في كل المبيع كأن يكون نصف دار شائع لزيد والنصف الآخر لعمرو فكل منهما شريك الآخر في كل المبيع، (الكفاية) . وكاشتراك اثنين أو أكثر في عقار شائع. والعقار بما أنه يطلق على الأرض أو على البناء مع الأرض فالاشتراك في البناء فقط لا تثبت به الشفعة، (أبو السعود) .
مثلا لو كان اثنان متصدقين مالكين لعقار شائع سواء أكانت حصة كل منهما النصف أم كانت حصة أحدهما الربع والآخر الثلاثة الأرباع كان كل منهما شريكا للآخر في نفس المبيع. ويستفاد من تعبير المجلة، (شائع) أن الشركاء في نفس المبيع، على هذا الوجه إذا قسموا المبيع ولم تبق بينهم شركة في المدخل وفي نفس العقار فلا تثبت الشفعة للشركة في نفس المبيع بعد، (أبو السعود عن العناية) .
(الفصل الأول في بيان مراتب الشفعة(2/ 753) دار الجيل)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب