سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-405 Fatwa no: 1447-405

بیع کے وقت مبیع کو مارکیٹ ریٹ پر واپس خریدنے کے وعدے کی شرعی حیثیت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک سوسائٹی کسی شخص کو کوئی پلاٹ مثلاً دس لاکھ روپے میں فروخت کرتی ہے، اور بیع کے وقت یہ معاہدہ بھی کیا جاتا ہے کہ چار سال بعد سوسائٹی یہی پلاٹ مارکیٹ ریٹ پر اس شخص سے واپس خریدے گی، تو کیا اس طرح کا معاہدہ شرعاً جائز ہے، جب کہ مشتری کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ چاہے تو وہ پلاٹ خود استعمال کرے، یا کسی اور کو فروخت کرے، یا سوسائٹی ہی کو واپس فروخت کرے؟قرآن و سنت کی روشنی میں مفصل جواب عنايت فرمائیں۔
جواب :

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی سوسائٹی کسی شخص کو پلاٹ فروخت کرنے کے بعد یہ وعدہ کرے کہ چار سال بعد ہم یہی پلاٹ مارکیٹ ریٹ پر آپ سے دوبارہ خرید لیں گے، تو یہ معاملہ شرعاً جائز ہے، کیونکہ یہ "شرطِ عقد" نہیں، جس کی وجہ سے عقد فاسد ہو، بلکہ یہ ایک "وعدۂِ ترغیبی" ہے، جس کا مقصد خریدار کو اطمینان دلانا ہوتا ہے کہ اگر آئندہ اسے کوئی خریدار نہ ملا تو سوسائٹی اس سے وہ پلاٹ مارکیٹ ریٹ پر واپس خرید لے گی، تاکہ خریدار کسی نقصان کے اندیشے کے بغیر خریداری کا فیصلہ کر سکے، اس طرح کا وعدہ عقدِ بیع کو فاسد نہیں کرتالہذا یہ  معاملہ جائز ہے۔
تاہم خریدار اس بات کا شرعاً پابند نہیں کہ وہ پلاٹ لازماً سوسائٹی ہی کو فروخت کرے، وہ اگر چاہے تو کسی اور کو بھی بیچ سکتا ہے یا خود استعمال میں لا سکتا ہے،البتہ اگر خریدار سوسائٹی ہی کو دوبارہ فروخت کرنا چاہے تو دو شرطیں ملحوظ رکھنا ضروری ہیں:  
1. پہلی شرط یہ ہے کہ  قبضہ سے پہلے سوسائٹی کو دوبارہ فروخت کرنا، چاہے کم قیمت پر ہو یا زیادہ پر، جائز نہیں، اگرچہ زمین یا پلاٹ کو بائع کے علاوہ کسی اور کو قبضے سے پہلے بیچنا جائز ہے، لیکن دوبارہ بائع ہی کو  قبضہ سے پہلے بیچنا جائز نہیں  ہے، جیسا کہ دررالحکام(1/ 236) میں ہے : لا يجوز للمشتري أن يبيع ‌العقار ‌من ‌بائعه قبل القبض وإذا فعل فالبيع فاسد كما في بيع المنقول.
2. دوسری شرط یہ ہے کہ اگر خریدار نے پلاٹ پر قبضہ حاصل کر لیا ہو، لیکن مکمل قیمت (ثمن) ادا نہ کی ہو، اور وہ سوسائٹی ہی کو دوبارہ فروخت کرنا چاہے، تو اس صورت میں اسے سابقہ قیمت یا اس سے زیادہ پر فروخت کرنا ضروری ہے، اس سے کم پر بیچنا جائز نہیں، کیونکہ اس میں بیعِ عِینہ کا شبہ پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ البنایہ(8/ 172) میں ہے: أن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن لا يجوز عندنا۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 236):
(المادة 253) للمشتري بيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا] للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقارا وإلا فلا وكذلك يجوز له أن يهبه (انظر المادة - 845) .... وقول المجلة (لآخر) معناه لغير البائع لأنه لا يجوز للمشتري أن يبيع ‌العقار ‌من ‌بائعه قبل القبض وإذا فعل فالبيع فاسد كما في بيع المنقول .
العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير (6/ 433):
وحاصل ذلك أن ‌شراء ‌ما ‌باع لا يخلو من أوجه: إما أن يكون من المشتري بلا واسطة أو بواسطة شخص آخر. والثاني جائز بالاتفاق مطلقا: أعني سواء اشترى بالثمن الأول أو بأنقص أو بأكثر أو بالعرض. والأول إما أن يكون بأقل أو بغيره، والثاني بأقسامه جائز بالاتفاق. والأول هو المختلف فيه. فالشافعي رحمه الله جوزه قياسا على الأقسام الباقية، وبما إذا باع من غير البائع فإنه جائز أيضا بالاتفاق، ونحن لم نجوزه بالأثر والمعقول. أما الأثر فما قال محمد: حدثنا أبو حنيفة يرفعه إلى عائشة رضي الله عنها: أن امرأة سألتها فقالت: إني اشتريت من زيد بن أرقم جارية بثمانمائة درهم إلى العطاء ثم بعتها منه بستمائة درهم قبل محل الأجل، فقالت عائشة رضي الله عنها: بئسما شريت وبئسما اشتريت، أبلغي زيد بن أرقم أن الله أبطل حجه وجهاده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إن لم يتب، فأتاها زيد بن أرقم معتذرا، فتلت عليه قوله تعالى {فمن جاءه موعظة من ربه فانتهى فله ما سلف} ووجه الاستدلال أنها جعلت جزاء مباشرة هذا العقد بطلان الحج والجهاد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأجزية الأفعال لا تعلم بالرأي فكان مسموعا من رسول الله صلى الله عليه وسلم والعقد الصحيح لا يجازى بذلك فكان فاسدا، وأن زيدا اعتذر إليها وهو دليل على كونه مسموعا لأن في المجتهدات كان بعضهم يخالف بعضا وماكان أحدهما يعتذر إلى صاحبه.... وأما الثاني فهو ما قال إن الثمن لم يدخل في ضمان البائع لعدم القبض، فإذا وصل إليه المبيع ووقعت المقاصة بين الثمنين بقي له فضل خمسمائة بلا عوض وهو ربا فلا يجوز بخلاف ما إذا باعه من غيره لأن الربح لا يحصل للبائع، وبخلاف ما إذا اشتراه البائع بواسطة مشتر آخر لأنه لم يعد إليه المستفاد من جهته لأن اختلاف الأسباب بمنزلة اختلاف الأعيان، وبخلاف ما إذا اشترى بالثمن الأول لعدم الربا، وبخلاف ما إذا اشترى بأكثر فإن الربح هناك يحصل للمشتري والمبيع قد دخل في ضمانه.
البناية شرح الهداية(8/ 172):
 (قال ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة، فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن لا يجوز البيع الثاني) ش: وبه قال مالك وأحمد رحمهم الله: واعلم أن ‌شراء ‌ما ‌باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن لا يجوز عندنا.
م: (وقال الشافعي: يجوز) ش: وبعد نقد الثمن يجوز عندنا أيضا وبالمثل أو الأكثر يجوز بالإجماع سواء كان قبل نقد الثمن أو بعده، وكذا يجوز قبل نقد الثمن إذا اشترى بعرض قيمته أقل منه م: (لأن الملك) ش: أي ملك المشتري م: (قد تم فيها) ش: أي في الجارية م: (بالقبض، فصار البيع من البائع ومن غيره سواء، وصار) ش: أي حكم هذا م: (كما لو باع بمثل الثمن الأول أو بالزيادة).

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب