سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-406 Fatwa no: 1447-406

بیع مؤجل میں قبل از وقت ادائیگی پر قیمت میں کمی کی شرط لگانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
كیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ہذا کے بارےمیں کہ ایک شخص نے پرمیٹ پر پچاس لاکھ کی کار ستر لاکھ میں خریدی ، بیس لاکھ نقد دئے ، بقیہ ہر مہینہ لاکھ ، لاکھ دینے کا معاہدہ کیا ، مگر بعد میں مشتری ہر مہینہ لاکھ ، لاکھ کا بندوبست نہیں کرسکا ، اس لئے اب وہ چاہتا ہے کہ بائع سے اس طرح معاملہ کرے کہ بائع رقم کم کرے اس کے بدلے مشتری بائع کو ساری رقم نقد دے گا ،اس طرح معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ بیع مؤجل میں قبل ازوقت قیمت  کی ادائیگی  پرقیمت میں کمی کی شرط لگانا( مثلا ً: اس طرح شرط لگانا  کہ اگر مشتری  رقم جلدی ادا کرے تو بائع مبیع کی  قیمت  میں کمی کرےگا) ناجائز ہے(لأن هذا مبادلة الأجل بالدراهم وذلك لا يجوز) لہذ ا صورتِ مسئولہ میں مشتری کے لئے قبل از وقت قیمت  کی ادائیگی کی وجہ سے قیمت میں کمی کرنےکا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے ،تاہم اگر قبل از وقت ادائیگی کے وقت  مشتری کی طرف سےمطالبہ کئے بغیربائع خود اپنی خوشی سے قیمت میں کمی کردے تو یہ جائز ہے۔
المبسوط للسرخسي:
ولو كان له عليه ألف ‌إلى ‌أجل ‌فصالحه منها على خمسمائة درهم ودفعها إليه لم يجز؛ لأن المطلوب أسقط حقه في الأجل في الخمسمائة والطالب بمقابلته أسقط عنه خمسمائة فهو مبادلة الأجل بالدراهم وذلك لا يجوز عندنا۔
( کتاب الصلح ،باب الصلح في الدين (21/ 31)دار المعرفة  بيروت)
بحوث في قضايا فقهية معاصرة:
الوضع عند التعجيل من غير شرط:وكذلك المنع من الوضع بالتعجيل في الديون المؤجلة إنما يكون إذا كان الوضع شرطا للتعجيل. أما إذا عجل المدين من غير شرط،جاز للدائن أن يضع عنه بعض دينه تبرعا. وعليه حمل الجصاص رحمه الله الآثار التي تدل على جواز"ضع وتعجل"قال رحمه الله تعالى:(ومن أجاز من السلف إذا قال: عجل لي وأضع عنك، فجائز أن يكون أجازوه إذا لم يجعله شرطا فيه،وذلك بأن يضع عنه بغير شرط، ويعجل الآخر الباقي بغير شرط).
(احكام البيع بالتقسيط :(1/32)مکتبة معارف القرآن )
فقه البيوع علي المذاهب الأربعة :
و مما يتعامل به بعض التجار في الديون المؤجلة أنهم يسقطون حصة من الدين بشرط أن يعجل المديون باقيه قبل حلول الاجل مثل: أن يكون لزيد علي عمرو الف فيقول زيد (( عجل لي تسعمائة ،وأنا اضع عنك مائة)) وإن هذه المعاملة معروفة في الفقه باسم "ضع وتعجل " وهذا التعجيل إن كان مشروطاً بالوضع من الدين، فإن المذاهب الأربعة متفقة على عدم جوازه...... وهذا إذا كان البيع مؤجلاً. أما إذا كان البيع حالاً، فلا بأس بالصلح على بعض الدين مقابل التعجيل.
(مسئلة ضع وتعجل ،(1/531)مكتبة معارف القرآن)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب