نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںسوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر درست ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی غلط بیانی نہیں کی گئی اور واقعی شوہر نے طلاق کی نیت کے بغیر محض رشتہ داروں کے دباؤ کی وجہ سے اور انہیں مطمئن کرنے کے لیے اپنی بیوی کو کسی اور (مثلاً: سعدیہ بنت محبوب یا سعدیہ محبوب) کی طرف منسوب کر کے طلاق کے الفاظ کہے تھےاور اس وقت اس کے دل میں اپنی حقیقی بیوی کو طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ طلاق سے بچنے کے لیے ایسا کہہ رہا تھا تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہٰذا ان دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے۔
الفتاوى العالمكيرية:
قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته عمرة بنت حفص ولا نية له لا تطلق امرأته.
(الفصل الأول في الطلاق الصريح(1/ 358) دار الفكر بيروت)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
رجل قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته عمرة بنت حفص ولا نية له لا تطلق امرأته .
(باب ألفاظ الطلاق (3/ 273) دار الكتاب الإسلامي)
المحيط البرهاني:
وعن أبي يوسف رحمه الله ممن قال: عمرة بنت صبيح طالق وامرأته عمرة بنت حفص ولا نية له لم تطلق امرأته وإن كان صبيح زوج أمها فكانت في حجره وكانت تنسب إليه وإنما أبوها حفص وهو يعلم نسبها أو لا يعلم فقال مثل ما قلنا ولا نية له لم يدين في القضاء ويقع الطلاق، وأما فيمابينه وبين الله تعالى: إن كان يعرف نسبها لا يقع الطلاق وإن كان لا يعرف يقع الطلاق وإن نوى في هذه الوجوه امرأته طلقت امرأته في القضاء وفيما بينه وبين الله تعالى.
(الفصل الرابع: فيما يرجع إلى صريح الطلاق(3/ 213) دار الكتب العلمية)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔