سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-407 Fatwa no: 1447-407

بیوی کو کسی اور کی طرف منسوب کر کے طلاق کے الفاظ کہنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کو اس کے رشتہ داروں نے اس بات پر سختی سے مجبور کیا کہ وہ اپنی دوسری بیوی کو طلاق دے، ورنہ وہ اس کی پہلی بیوی کو اس سے جدا کر دیں گے۔ نیز اس پر اس قدر شدید دباؤ تھا کہ گھریلو فساد، بچوں کی جدائی، حتیٰ کہ خونریزی اور جان کو خطرہ لاحق ہونے کا بھی اندیشہ تھا۔ اس شدید دباؤ اور مجبوری کی حالت میں اس شخص نے طلاق دینے کی نیت کے بغیر چند الفاظ کہہ دیے، اس نے جان بوجھ کر اپنی بیوی کے باپ کا نام بھی غلط لیا تاکہ طلاق واقع نہ ہو،صورت یہ بنی کہ اس نے یوں کہا "میں اپنی بیوی سعدیہ بنت محبوب کو فارغ کرتا ہوں۔" حالانکہ بیوی کے والد کا نام کچھ اور تھااور اس نے جان بوجھ کر غلط نام لیا تاکہ طلاق سے بچ سکے۔ اسی طرح اس نے "میں اپنی سعدیہ محبوب کو فارغ کرتا ہوں" کے الفاظ بھی تین مرتبہ کہے، لیکن ہر مرتبہ دل میں "نہیں" کہا اور اس کے دل میں طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ طلاق سے بچنے کے لیے مختلف حیلے اختیار کر رہا تھا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت میں شرعاً طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟؟براہِ کرم قرآن و سنت اور کتبِ فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر درست ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی غلط بیانی نہیں کی گئی  اور واقعی شوہر نے طلاق کی نیت کے بغیر محض رشتہ داروں کے دباؤ کی وجہ سے اور انہیں مطمئن کرنے کے لیے اپنی بیوی کو کسی اور (مثلاً: سعدیہ بنت محبوب یا سعدیہ محبوب) کی طرف منسوب کر کے طلاق کے الفاظ کہے تھےاور اس وقت اس کے دل میں اپنی حقیقی بیوی کو طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ طلاق سے بچنے کے لیے ایسا کہہ رہا تھا تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہٰذا ان دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے۔
الفتاوى العالمكيرية:
قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته ‌عمرة ‌بنت ‌حفص ولا نية له لا تطلق امرأته.
(الفصل الأول في الطلاق الصريح(1/ 358) دار الفكر بيروت)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
رجل قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته ‌عمرة ‌بنت ‌حفص ولا نية له لا تطلق امرأته .
(باب ألفاظ الطلاق (3/ 273) دار الكتاب الإسلامي)

المحيط البرهاني:
وعن أبي يوسف رحمه الله ممن قال: عمرة بنت صبيح طالق وامرأته ‌عمرة ‌بنت ‌حفص ولا نية له لم تطلق امرأته وإن كان صبيح زوج أمها فكانت في حجره وكانت تنسب إليه وإنما أبوها حفص وهو يعلم نسبها أو لا يعلم فقال مثل ما قلنا ولا نية له لم يدين في القضاء ويقع الطلاق، وأما فيمابينه وبين الله تعالى: إن كان يعرف نسبها لا يقع الطلاق وإن كان لا يعرف يقع الطلاق وإن نوى في هذه الوجوه امرأته طلقت امرأته في القضاء وفيما بينه وبين الله تعالى.
(‌‌الفصل الرابع: فيما يرجع إلى صريح الطلاق(3/ 213) دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب