سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-408 Fatwa no: 1447-408

بیوی کی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرکے، نیتِ طلاق کے بغیر طلاق دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ میرے داماد نے میری بیٹی کو اس طرح طلاق دی ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ زبانی طور پر اپنی دوسری بیوی کے سامنے فون پر میری بیٹی عظمی رفیق کو ان الفاظ سے طلاق دی ہے کہ'' میں اپنے ہوش و حو اس میں عظمٰی رفیق ،عظمی علی ٹھیک ہے اس کو طلاق دیتا ہوں، عظمی علی کو طلاق دیتا ہوں ، عظمی علی کو طلاق دیتا ہوں''۔ اور تحریری طور پر اس طرح طلاق دی ہے کہ ''میں نے عظمی بتول کو زبانی طور پر طلاق ثلاثہ دے کر آزاد کر دیا ہے اور اب تحریری طور پر عظمی بتول کو طلاق دی ہے، عظمی بتول کو طلاق دی ہے ،عظمی بتول کو طلاق دی ہے''۔جبکہ میری بیٹی کا نام عظمی رفیق ہے اور میرا نام محمد رفیق ہے اور موصوف نے نام بدل کر عظمی علی ، عظمی بتول نام لیا ہے اور لکھا ہے ، اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکور صورت میں میری بیٹی کو طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ، جو بھی شرعی حکم ہو ، قرآن و حدیث کی روشنی میں وہ بتائیں کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ موصوف نے جب دوسری شادی کی اور ان کو پتہ چلا کہ اس کی پہلی شادی ہو چکی ہے تو انہوں نے اس پر دباؤ ڈالا تو ان کو مطمئن کرنے کیلئے مذکورہ تفصیل کے مطابق وقوع طلاق سے بچنے کے لئے نام بدل کر میری بیٹی کو طلاق دی۔
جواب :

اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی غلط بیانی نہیں کی گئی اور واقعی شوہر نے طلاق کی نیت کے بغیر محض دوسری بیوی کو مطمئن کرنے کے لیے عظمیٰ رفیق کو کسی اور (جیسے علی یا بتول) کی طرف منسوب کرکے طلاق دی  ہے اور اس وقت اس کے دل میں عظمیٰ رفیق کو طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، تو ایسی صورت میں عظمیٰ رفیق پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،  لہٰذا ان کا نکاح بدستور برقرار ہے ۔  
الفتاوى العالمكيرية:
قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته ‌عمرة ‌بنت ‌حفص ولا نية له لا تطلق امرأته.
(الفصل الأول في الطلاق الصريح(1/ 358) دار الفكر بيروت)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
رجل قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته ‌عمرة ‌بنت ‌حفص ولا نية له لا تطلق امرأته .
(باب ألفاظ الطلاق (3/ 273) دار الكتاب الإسلامي)
المحيط البرهاني:
وعن أبي يوسف رحمه الله ممن قال: عمرة بنت صبيح طالق وامرأته ‌عمرة ‌بنت ‌حفص ولا نية له لم تطلق امرأته وإن كان صبيح زوج أمها فكانت في حجره وكانت تنسب إليه وإنما أبوها حفص وهو يعلم نسبها أو لا يعلم فقال مثل ما قلنا ولا نية له لم يدين في القضاء ويقع الطلاق، وأما فيمابينه وبين الله تعالى: إن كان يعرف نسبها لا يقع الطلاق وإن كان لا يعرف يقع الطلاق وإن نوى في هذه الوجوه امرأته طلقت امرأته في القضاء وفيما بينه وبين الله تعالى.
(‌‌الفصل الرابع: فيما يرجع إلى صريح الطلاق(3/ 213) دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب