نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں واضح رہے کہ قسم کے الفاظ کا دار و مدار شرعاً عُرف پر ہے اور عُرف میں کسی کے گھر سے مراد وہ گھر ہوتا ہے جہاں وہ رہائش پذیر ہو، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں آپ کی بیوی جس گھر میں رہائش پذیر ہو وہ اس کا گھر سمجھا جائے گا، چاہے وہ گھر اس کی اپنی ملکیت میں ہو یا اس کے شوہر کی ملکیت میں ہو، یا انہوں نے رہائش کیلئے کرایہ پر لیا ہو،نیز شوہرنے بیوی کو مخاطب کرکے یہ جو الفاظ استعمال کئے ہیں کہ ’’اگر میں تمهارے گھر سےپانی کا ايك قطره بھی پیؤں تو تمھیں تین طلاق ‘‘اس سے عرف میں مطلق کھانا پینا مراد ہوتا ہے( گویا کہ عرف میں آپ (شوہر )کے مذکورہ جملہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ بیوی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ میں آپ کے گھر سے نہ کچھ کھاؤں گا اور نہ پیؤں گا حتی کہ ایک قطرہ پانی بھی نہیں پیؤں گا اگر پانی کا ایک قطرہ بھی پیؤں تو تمھیں تین طلاق ،مذکورہ عرف کی بنیاد پریہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہےکہ مذکورہ صورت میں تین طلاق کو بیوی کے گھرسے مطلق کھانے پینے پر معلق کی گیا ہے نہ کہ صرف ایک قطرہ پانی پینے پر ) لہذا اگر آپ بیوی کے رہائش والے مکان سے کچھ بھی کھالیں یا پی لیں ،تو آپ حانث ہوجائیں گےاور آپ کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور نکاح ختم ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائے گی، جسکی وجہ سے پھر رجوع نہیں ہوسکتااور حلالہ کے بغیر آپس میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،حلالہ کا طریقہ یہ ہےکہ مطلّقہ عورت عدت (تین ماہواریاں)گزارکر کسی دوسرے شخص سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ نکاح کرلےاور دوسراشوہر اس کیساتھ ہمبستری کرلےاور پھر کسی وجہ سےطلاق دیدےیااُس کا انتقال ہو جائے پھراس کی عدت بھی گزرجائے تواس کےبعد آپ دونوں کا نکاح باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجود گی میں نئے مہر پردوبارہ ہو سکتاہےاس کےبغیر دونوں آپس میں نکاح نہیں ہو سکتا۔
مذکورہ صورت میں تین طلاقوں سے بچنے کیلئے یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ آپ اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دیدیں،اس کے بعد بیوی اس طلاق کی عدت گزارے، (جب تک عدت پوری نہ ہو آپ بیوی کے گھرسے کچھ بھی نہ کھائیں اور نہ پئیں )جب عدت پوری ہوجائے تو چونکہ آپ دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہو گااس لئے اگر آپ اس دوران بیوی کے گھر سے کچھ کھا، پی لیں تو اس سے آپ کی مطلقہ بیوی پر مزید طلاق واقع نہیں ہوگی اور قسم بھی ختم ہوجائےگی لہذاعدت کے بعد آپ ایک مرتبہ بیوی کے گھر سے پانی وغیرہ پئیں تاکہ قسم ختم ہوجائے ، اس کے بعدآپ دونوں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں اور چونکہ ایک مرتبہ بیوی کے گھر سے پانی پینے کی وجہ سے آپ کی قسم ختم ہو چکی ہوگی اس لئےتجدیدِ نکاح کے بعد دوبارہ اگر آپ بیوی کے گھر سے کچھ کھا یا پی لیں تو آپ کی بیوی پر مزیدکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
یہ بھی یاد رہے کہ دوبارہ نکاح کے بعد آپ کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا (بشرطیکہ آپ نے اس ایک طلاق کے علاوہ کوئی اور طلاق نہ دی ہو)، لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
الدرالمختار مع حاشية ابن عابدين:
(حلف لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى إليه) عرفا ولو تبعا أو بإعارة باعتبار عموم المجاز
(قوله ولو تبعا) حتى لو حلف لا يدخل دار أمه أو بنته وهي تسكن مع زوجها حنث بالدخول نهر عن الخانية. قلت: وهو خلاف ما سيذكره آخر الأيمان عن الواقعات لكن ذكر في التتارخانية أن فيه اختلاف الرواية ويظهر لي أرجحية ما هنا حيث كان المعتبر نسبة السكنى عرفا ولا يخفى أن بيت المرأة في العرف ما تسكنه تبعا لزوجها وانظر ما سنذكره آخر الأيمان(قوله أو بإعارة)أي لافرق بين كون السكنى بالملك أو بالإجارة أو العارية إلا إذا استعارها ليتخذ فيها وليمة فيدخلها الحالف فإنه لا يحنث كما في العمدة والوجه فيه ظاهرنهر أي لأنها ليست مسكنا له.
(کتاب الأيمان ، مطلب لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى (3/ 760)، دار الفكر)
الفتاوى العالمكيرية :
ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما .... وإن وجد(اي الشرط) في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء كذا في الكافي.
(کتاب الطلاق ،الفصل الأول في ألفاظ الشرط ،(1/ 415)، دار الفكر بيروت)
الدر المختار:
(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق، وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها.
(کتاب الطلاق، باب التعليق، (ص221) دار الكتب العلمية - بيروت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔