سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-410 Fatwa no: 1447-410

بیوی کےبھائیوں کے گھر میں داخل ہونے پر تین طلاق کو معلق کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
اگر شوہر اپنی بیوی سے کہے: "اگر تو اپنے بھائیوں کے گھر گئی تو تجھے تین طلاق ہیں" تو کیا عورت کے بھائیوں کے گھر جانے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ اور کیا کوئی ایسی جائز صورت نکل سکتی ہے کہ عورت بھائیوں کے گھر بھی چلی جائے اور طلاقیں بھی واقع نہ ہوں؟ تفصیل سےوضاحت فرمائیں ۔
جواب :

صورت ِ مسئولہ میں چونکہ شوہر نے تین طلاق کو بیوی کے بھائیوں کے گھر جانے پر معلق کیا ہے، اس لیے جب بھی بیوی بھائیوں  میں سے کسی بھائی کے گھر جائے گی، اس پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، نکاح ختم  ہوکر حرمت ِمغلظہ  ثابت ہوجائے گی اور  حلالہ کے بغیر آپس میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکے گا ،، البتہ تین طلاقوں سے بچنے کے لیے یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دیدے،اس کے بعد بیوی اس طلاق کی عدت گزارے، (جب تک عدت پوری  نہ ہو  بیوی بھائیوں کے  گھر نہ جائے)جب  عدت پوری  ہوجائے تو بیوی   بھائیوں  کے گھر چلی جائے  تو اس سے مطلقہ بیوی پر مزید طلاق واقع نہیں ہوگی اورتعلیق  بھی ختم ہوجائےگی ، اس کے بعددونوں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کریں اور اور چونکہ تعلیق پہلے ہی ختم ہو چکی ہو گی اس لئےتجدیدِ نکاح کے بعد دوبارہ اگر   بیوی بھائیوں  کے گھر جائے گی   تو  بیوی پر مزیدکوئی طلاق واقع نہیں  ہوگی۔
یہ بھی یاد رہے کہ دوبارہ نکاح کے بعد شوہر کو صرف دو  طلاقوں کا اختیار ہوگا  (بشرطیکہ شوہر  نے اس ایک طلاق کے علاوہ کوئی اور طلاق نہ دی ہو)  لہٰذا  آئندہ طلاق  کے معاملہ میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
الدرالمختار مع حاشية ابن عابدين:
(حلف لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى إليه) عرفا ولو تبعا أو بإعارة باعتبار عموم المجاز
 (قوله ولو تبعا) حتى لو حلف لا يدخل دار أمه أو بنته وهي تسكن مع زوجها حنث بالدخول نهر عن الخانية. ....(قوله أو بإعارة)أي لافرق بين كون السكنى بالملك أو بالإجارة أو العارية إلا إذا استعارها ليتخذ فيها وليمة فيدخلها الحالف فإنه لا يحنث كما في العمدة والوجه فيه ظاهرنهر أي لأنها ليست مسكنا له.
(کتاب الأيمان ، مطلب لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى (3/ 760)، دار الفكر)
الفتاوى العالمكيرية :
ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ ‌إذا ‌وجد ‌الشرط ‌انحلت ‌اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما .... وإن وجد(اي الشرط) في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء كذا في الكافي.
 (کتاب الطلاق ،الفصل الأول في ألفاظ الشرط ،(1/ 415)، دار الفكر بيروت)
الدر المختار:
(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق، وإلا لا، ‌فحيلة ‌من ‌علق ‌الثلاث ‌بدخول ‌الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها.
 (کتاب الطلاق، ‌‌باب التعليق، (ص221) دار الكتب العلمية - بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب