سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-412 Fatwa no: 1447-412

میراث کی تقسیم میں تاخیرکرنے اور بعض ورثاء کا اپنے حصے سے زائد پر قبضہ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے والدین کو فوت ہوئے چھ سال ہو گئے ہیں، میں اور میری چھوٹی بہن وراثت سے اپنا حصہ بھائیوں سے مانگ رہے ہیں کہ وراثت تقسیم کر کے ہمیں ہمارا حصہ دے ديں لیکن میرے بھائی نہ وراثت تقسیم کرنے پر راضی ہیں اور نہ وہ حصہ دینے پر راضی ہے، لہذا مہربانی فرما کر شریعت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں کہ کون ان میں حق بجانب ہے اور گنہگار کون ہے ؟
جواب :

واضح رہے کہ بغیر کسی معتبر عذر کے میراث کی تقسیم میں تاخیر کرنااور صرف بعض ورثاء کا اس سے فائدہ اٹھانا   جائز نہیں ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم والدین کی وفات کے بعد بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ فوری طور پر شرعی طریقے کے مطابق میراث تقسیم کریں، اور آپ دونوں (بہن بھائی) کا اپنے حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے، اگر آپ کے بھائی آپ کےاور بہن کے  مطالبے کے باوجود بلا کسی عذر کے تقسیمِ میراث میں تاخیر کررہے ہیں تو ایسا کرنے کی وجہ سے وہ گناہگار ہو رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ جلد از جلد تمام ورثاء کو شرعی اصولوں کے مطابق ان کا حصہ ادا کریں یا کم از کم جو وارث اپنے حصے کا مطالبہ کررہا ہے، اس کا شرعی حصہ اسے دے دیں، نیز ان کے لیے اپنے حصے سے زائد پر قبضہ جمائے رکھنا ہرگز جائز نہیں ہے، قرآن و حدیث میں ایسے لوگوں کے بارے میں سخت وعید آئی ہے جو ورثاء کا حق دباتے ہیں، اس لئے ان کو اللہ تعالیٰ سے بھی  توبہ و استغفار کرنی چاہیئے اور جن ورثاء کے حصے سے ابھی تک فائدہ فائدہ اٹھایا ہے ان سے بھی  معافی مانگنی چاہیئے ۔
صحيح البخاري، باب: ميراث الولد من أبيه وأمه (6/ 2476) دار ابن كثير):
عن ابن عباس رضي الله عنهما،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (‌ألحقوا ‌الفرائض ‌بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر).
شعب الإيمان، باب في صلة الأرحام، (10/ 340) مكتبة الرشد:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قطع ميراثا فرضه الله ورسوله ‌قطع ‌الله ‌ميراثه من الجنة".

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب