نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ بغیر کسی معتبر عذر کے میراث کی تقسیم میں تاخیر کرنااور صرف بعض ورثاء کا اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم والدین کی وفات کے بعد بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ فوری طور پر شرعی طریقے کے مطابق میراث تقسیم کریں، اور آپ دونوں (بہن بھائی) کا اپنے حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے، اگر آپ کے بھائی آپ کےاور بہن کے مطالبے کے باوجود بلا کسی عذر کے تقسیمِ میراث میں تاخیر کررہے ہیں تو ایسا کرنے کی وجہ سے وہ گناہگار ہو رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ جلد از جلد تمام ورثاء کو شرعی اصولوں کے مطابق ان کا حصہ ادا کریں یا کم از کم جو وارث اپنے حصے کا مطالبہ کررہا ہے، اس کا شرعی حصہ اسے دے دیں، نیز ان کے لیے اپنے حصے سے زائد پر قبضہ جمائے رکھنا ہرگز جائز نہیں ہے، قرآن و حدیث میں ایسے لوگوں کے بارے میں سخت وعید آئی ہے جو ورثاء کا حق دباتے ہیں، اس لئے ان کو اللہ تعالیٰ سے بھی توبہ و استغفار کرنی چاہیئے اور جن ورثاء کے حصے سے ابھی تک فائدہ فائدہ اٹھایا ہے ان سے بھی معافی مانگنی چاہیئے ۔
صحيح البخاري، باب: ميراث الولد من أبيه وأمه (6/ 2476) دار ابن كثير):
عن ابن عباس رضي الله عنهما،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (ألحقوا الفرائض بأهلها، فما بقي فهو لأولى رجل ذكر).
شعب الإيمان، باب في صلة الأرحام، (10/ 340) مكتبة الرشد:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قطع ميراثا فرضه الله ورسوله قطع الله ميراثه من الجنة".
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔